Daily Roshni News

جاوید نامہ۔۔۔علامہ اقبال رحمۃ اللہ

جاوید نامہ

علامہ اقبال رحمۃ اللہ

اقبال کا تصورِ انسان

 (گزشتہ سے پیوستہ)

بودۂ اندر جہانِ چار سو

ہر کہ گنجد اندرو میرد درو

ترجمہ : تو اس چار طرفوں والی دنیا میں رہا ہے. جو کوئی اس میں گم ہو جاتا ہے وہ اس میں مر جاتا ہے.

زندگی خواہی خودی را پیش کن

چار سو را غرق اندر خویش کن

ترجمہ : اگر تو زندگی (حیاتِ جاوید) چاہتا ہے تو خودی اختیار کر اور اس جہانِ چار سو کو اپنے اندر غرق کر لے.

باز بینی من کیم تو کیستی

در جہان چوں مردی و چوں زیستی

ترجمہ : جب تجھے معرفت حاصل ہو جائے گی پھر تو دیکھ لے گا، کہ میں کون ہوں اور تو کون ہے. اور تو آگاہ ہو جائے گا کہ تو دنیا میں کیسے مرا اور کس طرح زندہ رہا، کس طرح زندگی بسر کی.

(ندائے جمال – جاوید نامہ)

آخری شعر کا پہلا مصرع سارے جاوید نامہ کی روح ہے. اگر جاوید نامہ کو ایک غزل فرض کیا جائے تو یہ مصرع حاصلِ غزل ہے اور اگر اسے ایک دیوان قرار دیا جائے تو یہ شعر حاصلِ دیوان ہے. اقبال نے یہ کتاب اسی شعر کی خاطر لکھی اور اس کی وضاحت اس شعر میں کر دی ہے :-

لا الہ تیغ و دمِ او عبدہ

فاش تر خواہی بگو ہو عبدہ

غور سے دیکھو تو مطلب دونوں شعروں کا ایک ہی ہے فرق جو کچھ ہے وہ اسلوبِ بیان کا ہے. اول الذکر شعر میں اقبال نے قصداً ابہام کا رنگ پیدا کر دیا ہے تاکہ لطف دوبالا ہو جائے. آخر الذکر شعر میں تو (جیسا کہ وہ کہتے ہیں) انہوں نے اس راز کو فاش کر دیا ہے یعنی “ہو” اور “عبدہٗ” کی عینیت کا اثبات کر دیا ہے. اول الذکر میں اثبات کے بجائے استفہام ہے اور اس سے ابہام پیدا ہو گیا. یعنی پھر تجھے معلوم ہو گا کہ میں کون ہوں اور تو کون ہے؟ مگر وضاحت نہیں کی. اس ابہام سے شعر میں غضب کی دلکشی اور شاعرانہ خوبی پیدا ہو گئی مطلب وہی ہے کہ پھر تجھے معلوم جائے گا کہ مجھ میں اور تجھ میں کوئی مغائرت، کوئی دوری، کوئی جدائی نہیں ہے. مگر اثبات میں وہ لطف نہیں ہے جو استفہام میں پوشیدہ ہے.

اندریں حالات جاوید نامہ کے مطالب کو سمجھنے کے لئے یہ بات اشد ضروری ہے کہ ناظرین کو اقبال کے تصورِ انسان سے تھوڑی بہت آگاہی ہو. لہٰذا میں اس فصل میں اس موضوع پر اقبال کے افکار کا مجمل خاکہ درج کرنا چاہتا ہوں.

واضح ہو کہ اقبال کا تصورِ انسان بواسطہ مرشد رومی قرآن حکیم کی تعلیمات سے ماخوذ ہے.

قرآن حکیم نے انسان کا جس قدر اعلیٰ اور ارفع تصور پیش کیا ہے اس کا اندازہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ نزولِ قرآن سے پہلے جو تصورات مختلف مذاہب نے دنیا کے سامنے پیش کئے تھے، ان کا موازنہ قرآنِ حکیم کے پیش کردہ تصور سے کیا جائے.

اس لئے میں اولاََ دنیا کے تین بڑے مذاہب یعنی ہندو دھرم ، بودھ دھرم اور مسیحیت کے پیش کردہ تصور کا اجمالی خاکہ درج کروں گا، اس کے بعد اقبال کا تصور ہدیۂ ناظرین کروں گا.

لیکن اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے ایک بات کی صراحت کر دوں وہ یہ ہے کہ اس جگہ دنیا کے بڑے مذاہب میں جین دھرم کو شامل نہیں کیا. اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ دنیا کے بڑے مذاہب میں سے نہیں ہے. بخلاف ایں، میری تحقیق کے مطابق وہ تمام مذاہبِ باطلہ میں اعتبارِ عقل، اقرب الی الصواب ہے. یعنی اس کے بنیادی اصول میں غیر معقولیت کا رنگ سب سے کم ہے. (1) اس کے شامل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تصورِ انسان، ایک طرف تو سانکھ درشن کے تصور سے ملتا جلتا ہے بایں طور کہ دونوں (جین دھرم اور سانکھ درشن) کسی خالقِ کائنات کو تسلیم نہیں کرتے، دوسری طرف نیائے درشن کے تصور سے مشابہ ہے. بایں معنی کہ دونوں تناسخ کے قائل ہیں اس لیے میں نے اس کو ہندو دھرم میں ضم کر دیا ہے.

(1) تاکہ کسی کو غلط فہمی نہ ہو جائے اس بات کی صراحت کئے دیتا ہوں کہ میرے اس فقرہ کا یہ مطلب نہیں ہے اور نہ نکل سکتا ہے کہ میں جین دھرم کو معقول یا عقل کے مطابق سمجھتا ہوں. میرا مطلب صرف یہ ہے کہ اس میں اس قدر خلافِ عقل تعلیمات نہیں ہیں جس قدر ہندو دھرم یا بودھ دھرم یا مسیحیت میں ہیں. جین دھرم پر میرا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ جب جیو آتما (نفسِ ناطقہ) چیتن (مُدرکِ بالذات) ہے تو وہ یہ غلطی کیوں کرتی ہے کہ شریر (جسم) سے متعلق ہو کر بیٹھے بٹھائے “آواگون” کے چکر میں پھنس جاتی ہے ؟ شریر سے اس کا سمبندھ (تعلق) اس بات پر دال ہے کہ

کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں

شرح : پروفیسر یوسف سلیم چشتی

پیشکش : قیصر ندیم

Loading