جاپانی لوک ادب سے ماخوذ
ہالینڈڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جاپان کے ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں میں ایک کسان اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ کسان بڑا ہی نیک اور فرمانبردار بیٹا تھا۔ اس کی ماں بہت بوڑھی ہو چکی تھی، اس کے بال سفید ہو گئے تھے اور اس کی کمر جھک گئی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں وہ چمک باقی تھی جو صدیوں کی حکمت دیتی ہے۔
ایک دن گاؤں میں ہنگامہ مچ گیا۔ شہزادے شینوبو نے ایک نیا حکم جاری کیا تھا: “تمام بوڑھوں کو شہر سے باہر اونچے پہاڑ پر چھوڑ آؤ۔ وہ معاشرے پر بوجھ ہیں۔” یہ سن کر پورے گاؤں میں چیخ و پکار مچ گئی۔ بوڑھے رونے لگے، جوان پریشان ہو گئے، لیکن شہزادے کے حکم کی مخالفت کرنے کی جرات کسی میں نہ تھی۔
کسان کا دل ٹوٹ رہا تھا۔ وہ اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتا تھا۔ اس کی ماں نے ہی اسے پالا تھا جب اس کے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس نے اسے سکھایا تھا کہ کیسے کھیتوں میں کام کرنا ہے، کیسے درختوں کی کٹائی کرنی ہے، اور سب سے بڑھ کر کیسے ایک نیک انسان بننا ہے۔
آخر کار حکم کی تعمیل کے لیے اسے اپنی ماں کو پہاڑ پر چھوڑنے کا دن آ ہی گیا۔ کسان نے ایک بڑی ٹوکری بنائی، اسے نرم گھاس سے بچھایا، اور اپنی بوڑھی ماں کو اس میں بٹھا لیا۔ ماں کچھ نہ بولی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے بیٹے کا دل پہلے ہی ٹوٹ رہا ہے۔
جب وہ پہاڑ کی طرف چلنے لگے تو ماں نے اپنے بیٹے سے کہا، “بیٹا، میں بہت بوڑھی ہو گئی ہوں، میری آنکھیں کمزور ہیں۔ راستے میں جہاں جہاں درخت ہیں، ان کی ٹہنیاں توڑ کر میرے پیچھے بکھیرتا جا تاکہ میں راستہ یاد رکھ سکوں۔”
کسان نے ایسا ہی کیا۔ وہ جہاں سے گزرتا، وہاں کی ٹہنیاں توڑ کر اپنی ماں کے پیچھے ڈالتا جاتا۔ لیکن سچ یہ تھا کہ ماں خود کو راستہ یاد رکھنے کے لیے نہیں کہہ رہی تھی۔ وہ یہ چاہ رہی تھی کہ اگر اس کا بیٹا کبھی واپس آئے تو اسے راستہ مل جائے۔
پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر کسان نے ماں کو ٹوکری سے اتارا اور اسے ایک درخت کے نیچے بٹھا دیا۔ ماں نے کہا، “بیٹا، اب تو جا۔ لیکن یاد رکھنا، جب کبھی تمہیں زندگی میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو اس پہاڑ کی طرف آنا۔ میں تمہیں راستہ دکھاؤں گی۔”
کسان نے آنسو بہاتے ہوئے ماں کو الوداع کہا اور واپس لوٹ آیا۔ لیکن وہ رات بھر سو نہ سکا۔ اسے اپنی ماں کی یاد ستا رہی تھی۔ آخر کار اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی ماں کو چھوڑ کر نہیں آئے گا۔
اگلی صبح وہ پھر پہاڑ پر گیا اور اپنی ماں کو ڈھونڈ نکالا۔ وہ ابھی تک اسی درخت کے نیچے بیٹھی تھی، جیسے اسے یقین تھا کہ اس کا بیٹا ضرور واپس آئے گا۔ کسان نے اپنی ماں کو اٹھایا اور اسے گھر کے تہ خانے میں چھپا دیا۔ اس نے اپنی ماں کی خدمت راتوں رات کرنا شروع کر دی، لیکن دن میں وہ باہر جا کر کام کرتا اور سب کو یقین دلاتا کہ اس کی ماں مر چکی ہے۔
چند ہفتوں بعد شہزادے نے ایک نیا چیلنج پیش کیا۔ اس نے اپنے پورے علاقے میں اعلان کیا کہ جو کوئی راکھ سے رسی بنا کر دکھائے گا، اسے بہت بڑا انعام دیا جائے گا۔ یہ کام ناممکن تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ راکھ سے رسی کیسے بنائی جائے۔
کسان پریشان ہو کر اپنی ماں کے پاس آیا اور اسے سارا معاملہ بتایا۔ ماں نے مسکرا کر کہا، “بیٹا، یہ بہت آسان ہے۔ ایک رسی کو نمکین پانی میں بھگو کر دھوپ میں خشک کرو، پھر اسے آگ میں جلا دو۔ رسی جل کر راکھ میں بدل جائے گی، لیکن اس کی شکل رسی جیسی ہی رہے گی۔”
کسان نے ایسا ہی کیا۔ اس نے رسی کو نمکین پانی میں بھگو کر خشک کیا، پھر اسے آہستہ سے جلایا۔ جب رسی جل کر راکھ بن گئی تو اس نے اپنی شکل برقرار رکھی۔ وہ اس راکھ کی رسی کو لے کر شہزادے کے دربار میں پہنچ گیا۔
شہزادہ حیران رہ گیا۔ اس نے پوچھا، “تم نے یہ کیسے کیا؟ تمہیں یہ حکمت کہاں سے ملی؟”
کسان نے پہلے تو جواب دینے سے انکار کیا، لیکن جب شہزادے نے اصرار کیا تو اس نے سچ بتا دیا۔ “میری ماں زندہ ہے۔ میں نے اسے پہاڑ پر چھوڑنے کی بجائے گھر میں چھپا لیا۔ یہ حکمت اس نے مجھے سکھائی ہے۔”
شہزادے کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے کہا، “میں نے نہیں سوچا تھا کہ بوڑھے لوگ اتنے دانشمند ہوتے ہیں۔ میں نے انہیں بوجھ سمجھ کر پہاڑوں میں چھوڑنے کا حکم دے کر بہت بڑی غلطی کی۔”
اس نے فوراً اپنا حکم واپس لے لیا اور پورے علاقے میں اعلان کر دیا کہ بوڑھوں کا احترام کیا جائے اور ان کی خدمت کی جائے۔ کسان کو بہت بڑا انعام دیا گیا اور اس نے اپنی ماں کے ساتھ باقی زندگی خوشی سے گزاری۔
یہ کہانی آج بھی جاپان میں بوڑھوں کے احترام کی علامت ہے۔
اخلاقی سبق: بڑوں کی عزت اور ان کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ بوڑھے لوگ معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ ان کی حکمت اور تجربات قیمتی خزانہ ہیں۔
حوالہ:
یہ کہانی جاپانی لوک ادب کی مشہور حکایت ہے، جسے اکثر “The Story of the Aged Mother” یا “Ubasute” (بوڑھی ماں کا پہاڑ) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
![]()

