ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جاپان کے سائنسدانوں نے ایک ایسا روبوٹک زبان (ٹَنگ) بنایا ہے جو دیکھنے سے زیادہ محسوس کرنے میں حیران کن ہے۔ یہ عام روبوٹ نہیں بلکہ ایک نرم اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایجاد ہے جو انسانی زبان کی طرح لچکدار، نرم اور نمی والی ہوتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ دباؤ، درجہ حرارت اور چھونے کے احساس کو بھی اسی طرح محسوس کرتی ہے جیسے ایک اصلی انسانی زبان کرتی ہے۔ یہاں تک کہ انسان کے ہاتھ اور خاص سینسر بھی اس فرق کو آسانی سے نہیں پہچان سکتے۔
یہ ایجاد صرف ایک دلچسپ تجربہ نہیں بلکہ ایک بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ اس کا استعمال کئی شعبوں میں کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، بولنے میں مشکل محسوس کرنے والے لوگوں کے لیے یہ مددگار ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ یہ صحیح الفاظ ادا کرنے میں رہنمائی دے سکتی ہے۔ اسی طرح کھانے کی چیزوں کے ذائقے اور ساخت کو جانچنے میں بھی یہ کام آ سکتی ہے، جیسے انسان خود محسوس کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، ڈاکٹر اس کو سرجری کی پریکٹس کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں تاکہ بغیر کسی اصلی جسم کے ٹشو کے مشق کی جا سکے۔ جاپان نے یہ ٹیکنالوجی صرف تجربے کے لیے نہیں بنائی بلکہ اس لیے تیار کی کیونکہ اس کی واقعی ضرورت تھی۔
#Technology #Robotics #Japan #Science #Innovation
![]()

