جب عقل کی بیڑیاں ٹوٹتی ہیں
تو دل کو پر لگ جاتے ہیں۔
پھر انسان کسی اور ہی جہان میں قدم رکھتا ہے
جہاں حساب نہیں، صرف حضور ہوتا ہے۔
وہاں محبوب کی جھلک
کبھی مجازی آنکھوں میں اترتی ہے
اور کبھی حقیقت بن کر روح پر اتر آتی ہے۔
پروانہ شمع کے گرد نہیں گھومتا
وہ خود شمع ہو جانا چاہتا ہے
جل کر بھی، مگر روشنی میں۔
یہ وہ عاشق ہیں
جو حسن کو دیکھ کر ٹھہر نہیں جاتے
بلکہ حسن کے پار جھانک لیتے ہیں۔
انہیں معلوم ہو جاتا ہے
کہ ہر نقش، ہر چہرہ، ہر مسکراہٹ
اسی ایک کے حسن کا استعارہ ہے۔
جب عشق پختہ ہو جائے
تو سمتیں مٹ جاتی ہیں،
راستے ایک ہو جاتے ہیں،
اور عقل خاموش ہو کر کہتی ہے:
اب آگے دل جائے گا۔
پھول مہکیں یا کلیاں مسکرائیں
یہ سب اُسی کے دم سے ہے۔
زمین ہو یا آسمان
ستارے ہوں یا گردشِ فلک
سب اُسی کے نام سے رواں ہیں۔
اگر وہ نہ ہو
تو محبوبِ مجازی بھی خواب ہے،
اور اگر وہ ہو
تو ہر خواب عبادت بن جاتا ہے۔
یہی عشق کا سفر ہے
جہاں مجاز، حقیقت میں گھل جاتا ہے
اور عاشق، خود کو کھو کر
اُسی کو پا لیتا ہے۔
#ازقلم_بندہ_ناچیز
#عشق
#عشق_حقیقی
#عشق_مجازی
#تصوف
#مولانا_رومی
#روحانیت
#محبوب
#فنا_فی_اللہ
#سفر_دل
#نور
![]()

