Daily Roshni News

«جب منگول فوج کو مسلمانوں کے ہاتھوں پہلی بار شکست ہوئی»

«جب منگول فوج کو مسلمانوں کے ہاتھوں پہلی بار شکست ہوئی»

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )منگولوں کی خونخوار یلغار نے جب اسلامی دنیا کو تہس نہس کر دیا تھا، تب ہر طرف خوف و ہراس کا عالم تھا۔ خوارزم شاہی سلطنت کا زوال، بغداد کی تباہی، اور شام پر مسلسل حملوں نے مسلمانوں کے حوصلے توڑ دیے تھے۔ لیکن 1260ء میں مصر و شام کے مملوک سلطان سیف الدین قطز اور ان کے سپہ سالار رکن الدین بیبرس نے ایک تاریخ ساز معرکہ لڑا، جس نے منگولوں کی ناقابلِ شکست سمجھی جانے والی فوج کو پہلی بار شکست دی۔ یہ معرکہ “عین جالوت” کے میدان میں ہوا، جہاں بیبرس کی جنگی مہارت اور حکمت عملی نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔

بیبرس ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ وہ ایک ترک غلام تھے، جنہیں کم عمری میں ہی غلام بنا کر فروخت کیا گیا تھا۔ ان کی قسمت نے انہیں مملوک فوج میں شامل کر دیا، جہاں ان کی بہادری اور ذہانت نے انہیں ایک غیر معمولی سپہ سالار بنا دیا۔ بیبرس نہ صرف ایک ماہر جنگجو تھے بلکہ ایک بہترین حکمت عملی ساز بھی تھے۔ وہ دشمن کے حربوں کو سمجھنے اور ان کے خلاف چالیں چلنے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کی قیادت میں مملوک فوج کو ایک نیا جذبہ ملا، اور ان کے زیر سایہ اسلامی فوج کو پہلی بار منگولوں سے پنجہ آزمائی کا موقع ملا۔

عین جالوت کی جنگ کے لیے بیبرس نے ایک منفرد حکمت عملی تیار کی۔ انہوں نے منگولوں کو دھوکہ دینے کے لیے پسپائی کا ایک مصنوعی منصوبہ بنایا۔ جیسے ہی منگول فوج نے حملہ کیا، بیبرس نے اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ دیا، جس سے منگولوں کو لگا کہ مسلمان میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ محض ایک چال تھی۔ جیسے ہی منگول فوج تعاقب میں آگے بڑھی، بیبرس نے اپنی فوج کو دوبارہ ترتیب دے کر اچانک حملہ کر دیا۔

منگول سپہ سالار کتبغا کو یہ چال سمجھنے کا موقع ہی نہ ملا۔ بیبرس کے ماہر گھڑ سواروں نے منگولوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ نیزوں اور تلواروں کی چمک سے میدانِ جنگ میں آگ سی لگ گئی۔ منگول فوج، جو اب تک ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھی، پہلی بار پسپا ہونے لگی۔ بیبرس کی برق رفتاری، طاقتور ضربیں، اور بے خوف قیادت نے منگولوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔

دوسری طرف، سلطان قطز بھی فوج کو جوش دلا رہے تھے۔ جب ایک موقع پر مسلمانوں کو دھچکا لگا اور کچھ پیچھے ہٹنے لگے تو قطز نے اپنی زرہ اتار کر للکارا: “وا اسلاماہ!” یہ نعرہ سنتے ہی مسلمان سپاہیوں میں نئی جان آ گئی اور وہ بے جگری سے لڑے۔ آخرکار، منگول فوج کا سپہ سالار کتبغا مارا گیا، اور اس کی فوج بکھر گئی۔

یہ جنگ صرف ایک عسکری فتح نہیں تھی بلکہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا موڑ تھا جس نے منگولوں کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا طلسم توڑ دیا۔ اگر بیبرس کی حکمت عملی اور سلطان قطز کی قیادت نہ ہوتی تو شاید منگول مصر اور باقی اسلامی دنیا کو بھی روند ڈالتے۔

بیبرس کی شخصیت اس جنگ کے بعد مزید نمایاں ہو گئی۔ جب سلطان قطز کو کچھ عرصے بعد قتل کر دیا گیا، تو بیبرس نے مملوک سلطنت کی باگ ڈور سنبھال لی اور بطور سلطان مصر و شام کو ایک نئی طاقت دی۔ انہوں نے نہ صرف منگولوں کو روکا بلکہ صلیبیوں کے خلاف بھی کامیاب جنگیں لڑیں اور اسلامی دنیا کو ایک نئی توانائی بخشی۔

عین جالوت کی جنگ بیبرس کی ذہانت، بہادری اور قیادت کی بہترین مثال تھی۔ اگرچہ یہ جنگ سلطان قطز کی سرکردگی میں لڑی گئی، مگر بیبرس کی جنگی حکمت عملی کے بغیر یہ فتح ممکن نہ تھی۔ یہی وہ معرکہ تھا جس نے منگولوں کی یلغار کو روکا اور مسلمانوں کو ایک نئی امید دی۔

Loading