« جب چور حکمران سے بہتر ہوا کرتے تھے »
°°° چوروں کے اخلاق پر کتب °°°
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کہا جاتا ہے کہ الشطر حمور جو مصر کے سلطان قتیبای کے زمانے کا سب سے بڑا چور تھا
وہ اپنے گروہ کے ساتھ *الغمری مسجد* کے قریب *المرجوشی* نامی ایک بڑے تاجر کے گھر میں گھس گیا
اور سوداگر نے چور کو اپنے خواب گاہ کے دروازے پر دیکھا تو ڈر گیا
الشطر چور نے تاجر کو کہا اپنی بیوی کو ڈھانپ لو یعنی اس کو کہو کہ پردہ کر لے
تاجر نے حمور سے کہا
جو چاہو لے لو اور ہمیں قتل نہ کرنا
الشاطر حمور نے کہا
ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے نہ ہم قتل کرتے ہیں ہمیں صرف آج کے لیے کھانا چاہیئے
تاجر نے چورسے کہا
تم کتنے لوگ ہو ؟
چور نے کہا
میں اور میرے ساتھ 9 لڑکے مزید ہیں
تو *تاجر اس نے ان کے لیے 10 ہزار سکے نکالے ہر ایک کے حصے کا ہزار سکہ تھما دیا*
حمور چور نے تاجر کو کہا
ہم صرف وہی لیتے ہیں جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے
اس نے 1000 سکے لیئے اور باقی 9000 سکے تاجر کو واپس کر دیئے
جب چور گھر سے نکل کر جا رہے تھے تو چوروں میں سے ایک لڑکے نے ایک ڈبہ دیکھا جس پر *حق* لکھا ہوا تھا
اس لڑکے نے اسے لے کر کھولا جب چکھا تو اس میں نمک تھا
جب یہ معاملہ اس وقت کے سب بڑے چور حمور نے دیکھا تو کہنے لگا
اب جب ھم نے اس آدمی کے گھر سے نمک کھا لیا ہے تو اس لیے اب ہمیں اس گھر سے چوری کرنے کا حق نہیں ہے
اس نے لڑکوں کو حکم دیا کہ وہ پیسے جمع کر کے سوداگر کو واپس کر دیں
تاجر نے خوشی سے اصرار کیا کہ 400 سکے تو لے لو
چور حمور نے انکار کر دیا
تاجر نے پھر کہا کہ تم بھوکے ہو سو سکے لے لو تاکہ کھانا کھا سکو
تو حمور چور سے صاف انکار کر دیا
تاجر نے پھر اصرار کیا کہ میرے گھر سے کھانا کھا لو
حمور چور غصے میں آ گیا اور تاجر سے گفت و شنید تک کرنے سے انکار کر دیا
_یوں چور صرف وہ نمک کا ذرہ کھا کر بغیر کوئی چیز لیئے واپس لوٹ گئے_
کیونکہ اس زمانے میں رسم و رواج تھا کہ جو کوئی کسی کے گھر کا کھانا کھا لے تو اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کو نقصان پہنچائے اگرچہ چور ڈاکو ہی کیوں نہ ہو
*اور جس نے کسی کے گھر سے پانی پی لیا یا کسی کو سلام کر دیا اور آگے والے اس کو جواب دیا تو اب جواب دینے والے پر لازم ہوتا کہ سلام کرنے والے کی چوری یا نقصان نہ کرے*
یہ ایک عرصے تک چوروں کے اخلاق تھے
{ *آداب النفوس للشعرانی* }
اُس دور میں چوروں کی جماعت نے ایک گھر پر چوری کی غرض سے سامان کھولا اس میں ایک کاغذ نکلا جس پر لکھا تھا
*یا الله میرے مال کی چوروں سے حفاظت فرما*
چوروں کے سردار نے کہا سامان واپس رکھ دو
چوروں نے تعجب سے پوچھا کیوں؟
`سردار نے کہا میں مال کا چور ہوں لوگوں کے عقائد کا چور نہیں ہوں`
یعنی ان کا عقیدہ ہے دعاء قبول ہوگی اور میں عقیدے میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا
پچھلے زمانے کے چوروں کے اخلاق آج کل کے ڈاکٹروں وکیلوں ججوں سرکاری افسروں سے کئی زیادہ اچھے تھے
وہ مال چراتے تھے لوگوں کی امیدیں نہیں چراتے تھے
وہ مال چراتے تھے لوگوں کے عقیدے نہیں چراتے تھے
*وہ مال چراتے تھے لوگوں کا ایمان نہیں چراتے تھے*
وہ مال چراتے تھے لوگوں کے ارمان نہیں چراتے تھے
وہ مال چراتے تھے لوگوں کی عزت و شان نہیں چراتے تھے
❗ قابلِ غور بات ❗
پہلے زمانے کے چوروں کے اخلاق آج کے حکمرانوں سے اتنے اچھے تھے کہ علماء کرام نے باقاعدہ چوروں کے اخلاق پر کتابیں لکھیں ہیں
ان کے اخلاق میں سے تھا
بیوہ کی چوری نہیں کرنی
*یتیم کی چوری نہیں کرنی*
کل مال نہیں لینا آدھا لینا ہے
خواتین کی عزت کی حفاظت کرنی ہے
دینی طبقہ کی چوری نہیں کرنی وغیرہ
`مگر آج کل سوٹڈ بوٹڈ چور چوری نہیں ہر غریب و فقیر پر ڈاکہ زنی کرتے ہیں`
ان کا بنک بیلنس بھرنا چاہے خواہ غریب کا چولہا نہ جلے
اور بڑے چور سیاست دان ہیں جو غریب کے ارمان و خواب تک چرا لیتے ہیں
اور عوام احمق کہ پھر ان کے لیئے باہم گدھے کتوں کی طرح لڑتی ہے
*وہ مسلم معاشرے کا عروج تھا* جہاں چوری جیسے گرے ہوئے کام میں بھی ایسے اعلی اخلاقی اور عمدہ عادات تھیں
اور *اب زوال یہ ہے کہ حکمران چوروں سے بدتر ہو چکے ہیں*
وہ نمک کا ذرہ کھا کر حیاء کرتے تھے اور ہمارے حکمران عوام کا خون چوس کر بھی شرم و حیاء نہیں کرتے
اس وقت کے چور آج کے حکمرانوں سے بہتر تھے
_بلکہ باقاعدہ علماء نے چوروں کے حالات و اخبار پر کتب لکھی ہیں_
*الجاحظ نے دو کتابیں لکھیں*
حیل لصوص النھار اور دوسری حیل لصوص اللیل
محمد بن حسن جن کی وفات 189 ھجری میں ہوئی انہوں نے بھی *السرقۃ و قطاع الطریق* کے نام سے چوروں پر ایک کتاب لکھی تھی
ابو ھلال لقیط المحاربی نے جن کی وفات 190 ھجری میں ہوئی انہوں نے *الحراب واللصوص* نامی کتاب لکھی
ابو عنبس الصمیری جن کی وفات 256 ھجری میں ہوئی انہوں نے *الراحۃ و منافع العیارۃ* لکھی
ابو سعید سکری جن کی وفات 275 ھجری میں ہوئی انہوں نے *اشعار اللصوص* کتاب لکھی
ابو سلیمان داؤد اصفہانی جن کی وفات 270 ھجری میں ہوئی انہوں نے *کتاب السرقہ* لکھی
*علماء کرام کا چوری پر بخل پر ظرافت پر حماقت پر ذہانت پر طفیلی پر کتب لکھنے پر بنیادی مقصد طلباء میں مطالعہ کا شوق بیدار کرنا ہوتا ہے*
کیونکہ یہ انوکھے اور دلچسپ واقعات سے بھر پور ہوتی ہیں تو ذوقِ مطالعہ پیدا ہوتا ھے
ایسی کتابیں پڑھیں اور حکمرانوں کو پڑھائیں تاکہ شرم آئے کہ چوروں کے بھی کچھ اخلاق تھے ہم کرنے گر چکے ہیں کہ ہمارا کوئی خلق قابلِ ذکر نہیں ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
![]()

