Daily Roshni News

جب ہم مزارات پر جائیں تو کیا دعا مانگنی چاہیے؟

سوال:-جب ہم مزارات پر جائیں تو کیا دعا مانگنی چاہیے تا کہ دعا بھی ہو جائے اور شرک بھی نہ ہو۔

جواب:-*اولیاء اللہ کا مزار جو Visit ہے، Pilgrimage ہے ، یعنی کسی مزار پر جانا ، اس کو آپ یوں سمجھیں کہ صاحبِ مزار جو ہے وہ شرک سکھانے تو نہیں آیا تھا ، اس کا پیغام شرک تو نہیں  تھا اور اسی لیے تو ان کا یہ مقام موجود ہے ، ان کی کوئی کتاب ہو گی ، کوئی طریقت ہو گی ، کوئی سلسلہ ہو گا ۔ اسی لیے تو اُن کا ذکر چلتا آ رہا ہے ، ورنہ آپ کو کیسے پتہ چلتا کہ اس مزار پہ جانا ہے ۔ یہاں پر بیٹھے ہوئے آپ، اُن کے سو سال بعد یا دو سو سال بعد یا ہزار سال بعد ، جب آپ کہتے ہیں کہ اُن کے مزار پر جانا ہے تو آپ اس آدمی کا ایک نام لے کے جاتے ہیں ۔ تو آپ اس کا نام رکھتے ہیں پھر اس کے دربار پر جاتے ہیں ۔ تو آپ کہتے ہیں کہ ولی اللہ کے مزار پر جاتے ہیں ۔ تو پہلے آپ کے پاس نام ہوتا ہے ، پھر آپ Visit کرتے ہیں

میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ جب آپ کے پاس وہ نام آتا ہے تو پھر آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ وہ صاحبِ تعلیم کیا تھا یعنی ان کی تعلیم کیا تھی ، ان کا پیغام کیا تھا ۔ تو نام میں وہ تعلیم شامل ہوتی ہے ۔ تو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ فلاں صاحب تھے ، وہ ولی اللہ تھے ، اُن کی یہ تعلیم ہے ، یہ ان کا شجرہ شریف ہے اور اب تک یہ ان کی پوری کی پوری لائن چلی آ رہی ہے ۔ کیا ان سب باتوں میں کہیں ظاہر ہوتا ہے وہ شرک سکھانے کے لیے آئے تھے ۔ تو وہ شرک نہیں سکھاتے ۔ شرک کا اندیشہ وہاں جانے والے میں ہے اور بلانے والے میں نہیں تھا ۔ جانے والا اگر وہاں گیا ہی نہیں تو شرک کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں جانے سے روکنے والوں نے جانے والوں کو شرک کا پیغام دیا ہے ۔ مزار پر روکنے والوں نے جانے والوں کو ڈرایا ہے کہ شرک ہو گا ۔ بلانے والا تو شرک کا پیغام ہی نہیں دیتا بلکہ وہ شرک سے بچاتا ہے ۔ جانے والے کو پتہ نہیں کہ وہاں شرک ہو گا کہ نہیں ، تو وہ یہ سوال کر رہا ہے ۔ تو شرک کا ذکر کہاں آیا؟ شرک کا ذکر تب آئے گا جب آپ کو پتہ چلے گا کہ شرک ہو رہا ہے ۔ بلانے والے کا مقصد شرک ہو ہی نہیں سکتا ، جانے والے کا مقصد شرک نہیں ہے کیونکہ وہ اُسے ولی اللہ کہہ رہا ہے ۔ پھر شرک کا لفظ کہاں سے آیا؟ یہ کسی روکنے والے نے بتایا ہے کہ وہاں نہ جاوء ، یہ شرک ہے ۔ اب روکنے والا جب آپ کو شرک کا بتا رہا ہے تو روکنے والے سے آپ کا کیا واسطہ ۔ کل کو یہ روکنے والا کہے گا کہ ماں باپ سے محبت شرک ہے تو کیا یہ چھوڑ دو گے ۔ تو نہ بُلانے والا شرک کا کہتا ہے اور نہ جانے والا شرک کے لیے جاتا ہے تو اب فیصلہ کیا ہوا؟ جانے والے کی جو نیت ہے وہی نتیجہ ہے ۔ شرک کے لیے اگر جاوء گے تو شرک ہی ملے گا اور ایمان کے لیے جاوء گے تو ایمان ملے گا ۔ اب آپ بتائیں کہ آپ وہاں کیوں جاتے ہیں؟ فیض حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں ، شرک کے لیے تو نہیں ۔ پھر وہ مسافر جو ایمان کا مسافر ہے ، جو شرک کے لیے نہیں جا رہا ، اگر وہ بت خانے میں جائے گا تب بھی شرک نہیں کرے گا ۔ تو کیا کہا میں نے؟ ایمان کا مسافر شرک میں نہیں پہنچے گا ۔ اگر آپ مشرکانہ آرزو لے کے جاتے ہو ، تو پھر آپ گھر سے ہی مشرک ہیں اور اگر ایمان کی آرزو لے کے جاتے ہیں تو جہاں بھی جاتے ہیں یہ شرک نہیں ہے ۔ تو ایمان داری کے ساتھ اپنے دل سے پوچھیں کہ آپ اندر کیا شرک کی تمنا ہے ، کیا آپ ولی اللہ کے پاس خدا کا متبادل ڈھونڈنے گئے تھے؟ اگر ایسا ہے تو پھر شرک ہی شرک ہے ۔ اگر خدا کی راہ کی تلاش میں جا رہے ہیں تو شرک نہیں ہے

تو شرک کب ہوتا؟ جب آرزو دنیا کی ہو ۔ ایمان کب ہوتا ہے؟ جب آخرت کی آرزو ہو ۔ شرک کب ہوتا ہے؟ جب انسان کی تمنا ہو ۔ ایمان کب ہوتا ہے ؟ جب رحمان کی تمنا ہو ۔ اگر آپ ولی سے دنیا کی آرزو کے لیے ، کچھ لینے کے جا رہے ہو تو یہ شرک ہے

آسان سی بات سمجھ لو ، اگر دینے کے لیے جا رہے ہو تو یہ ایمان ہے اور لینے کے لیے جا رہے تو یہ شرک ہے ۔ کیونکہ دنیادار جو ہے وہ آرزو رکھتا ہے اور اگر آپ آرزو سے نجات چاہتے ہو تو یہ شرک نہیں ہو سکتا ۔ تو یہ شرک کا لفظ کہاں سے آیا؟ ان لوگوں سے جو عبادت کو ہی مفہومِ عبادت کے خلاف استعمال کرتے ہیں ۔ مثلاً

نماز عبادت ہے اور نماز کے اندر ہی شرک کا ڈر ہو کہ کہیں اللہ کی نماز میں انسان کا خیال نہ آ جائے ۔ اس طرح تو نماز میں شرک ہو جائے گا ۔ اب آپ نماز کا ترجمہ دیکھو تو سارا ہی غیر خیال ہے ۔ نماز میں آپ دعا کرتے ہیں کہ میرے ماں باپ کی خیر ہو ۔ جب آپ ماں باپ کا نام لیں گے تو ان کی شکل بھی سامنے آئے گی ۔ پھر کہیں گے کہ میری اولاد پر رحم فرما ۔ تو اولاد کی شکل سامنے آئے گی ۔ پھر حضور پاکؐ اور ان کی آل کا نام آئے تو آل کی کوئی شکل آئے گی کہ نہیں آئے گی ۔ پھر ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کا نام آئے گا ۔ عبادالصالحین کا ذکر بھی آئے گا ۔ انعمت علیھم والے لوگوں کا ذکر بھی آئے گا اور ولا الضالین والوں کا نام بھی آئے گا ۔ تو یہ اللہ کے علاوه ، سارے بندے ہی بندے ہیں ۔ تو یہ شرک کیسے ہو گا ۔

 یہ جس شرک کی بات کر رہے ہیں یہ بد نیتی کا نام ہے ۔ ایمان والا تو شرک نہیں کر سکتا ۔ شرک تو ہے ہی نہیں ۔ شرک کا معنٰی ہے اللہ کے علاوه کوئی اور اللہ بنانا ۔ آپ کو تو پہلا اللہ سمجھ نہیں  آیا تو پھر نیا اللہ کیسے بناٶ گے ۔ نیا اللہ بنانا بڑا مشکل ہے ۔ اللہ کے مقابلے میں ایک ایسا اللہ چاہیے جو ہر آغاز سے پہلے ہو ، ہر انجام کے بعد ہو ، جو ظاہر بھی ہو اور باطن بھی ہو ، نظر میں بھی رہے اور نظر نہ بھی آئے ، رزق تم دفتر سے لو اور کہو کہ اللہ نے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ایک اور اللہ کیسے بنا سکتے ہو ۔ آپ جتنا تلاش کر لو نہیں ڈھونڈ سکتے ۔ آپ اگر کوشش بھی کر لو تو بھی شرک نہیں ہو سکتا ۔ شرک ہے ہی نہیں ۔ شرک کا معنٰی دو رب بنانا ۔ دو رب ہو ہی نہیں سکتے ، دو ہوتے تو آپس میں فیصلہ کرتے ،دو رب ہوتے تو جھگڑا ہوتا کہ کس کی بات چلے گی ، پھر ایک خالق ہوتا اور دوسرا اس کا تابعدار ہوتا ، مخلوق ہوتا ۔ اس لیے شرک تو ہوتا ہی نہیں ہے ۔ اللہ سے شرک نہیں ہو سکتا ۔ اگر آپ حضور پاکؐ کی ذات کے بارے میں ، آپ ؐ کے کہے ہوئے کے مقابلے میں کسی اور کی کہی ہوئی بات تلاش کریں گے تو وہ شرک ہو گا ۔ تو اللہ کا تو شرک ہو ہی نہیں سکتا ۔ جب اللہ کہتا ہے کہ شرک نہ کرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے حبیب ؐ کی بات پر کسی اور بات کو مقابلے میں نہ لے آوء ۔ آپ لوگ نماز میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی راہ دکھا یعنی اپنے ان بندوں کی راہ دکھا جن پر تیرا فضل ہوا ۔ کسی آدمی سے والہانہ محبت جو ہے شرک ہونی چاہیے کیونکہ محبت اللہ سے ہونی چاہیے لیکن اللہ سے محبت ، اللہ کے محبوبؐ سے محبت اور اللہ کے محبوب ؐ کے محبوبوں سے محبت تو شرک نہیں ہے ۔ پھر شرک کیا ہے؟ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کی صفات میں کسی کو شریک نہ کریں ۔ اگر آپ اللہ کو رحمٰن کہتے ہیں تو کوئی بندہ آپ کے لیے رحمٰن ہوتا ہے ، اللہ خالق ہے اور آپ روز دیکھتے ہیں کہ بندہ تخلیق کرتا ہے ۔ ذات میں کوئی شامل نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ وحدہ لا شریک ہے

اللہ نے اپنے محبوب ؐ کی دو صفات بتائی ہیں ، رٶف اور رحیم اور اللہ خود رٶف بھی ہے اور رحیم بھی ہے ۔ پھر شرک کیا ہوا؟ وہ لوگ جو اسلام کو Complicated بنانا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ شرک ہے ۔ جو لوگ حضور پاکؐ کی محبت کو کم کرنا چاہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ شرک ہے ۔ یہ درمیان میں بغض والا ٹولہ ہے ، یہ عمل والے اور محبت والے لوگوں کو اس راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں ، عشق کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں ۔ تو شرک نہیں ہو سکتا ۔ شرک والی بات ایسے ہی بنائی گئی ہے ۔ جس شرک کا وہ لوگ ذکر کرتے ہیں اس پر تو کوئی عبادت نہیں ہو سکتی۔ کہتے ہیں جس کو حضور پاک ؐ کا تصور آ جائے اس کی نماز فاسد ہو گئی ، ختم ہو گئی ۔ حالانکہ جس کو حضور پاک ؐ کا تصور نہیں  آئے گا اس کی زندگی حرام ہے ۔ اس لیے ان کو شرک کا وہم ہے ۔ پہلے یہ لوگ آپ کو شرک سے ڈرائیں گے پھر کہیں گے کہ اللہ نے خود فرمایا ہے کہ حضور پاکؐ بشر ہیں ، تمہارے جیسے ہیں ، انا بشر مثلکم جب کہ آپؐ کا صرف نام ہے اور وہ ہمارا کلمہ ہے ۔ تو وہ ہماری طرح کیسے ہو سکتے ہیں ۔ اللہ کہتا ہے میں خود درود بھیجتا ہوں ، تم بھی درود بھیجو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آپؐ ہماری طرح کیسے ہو گئے ۔ تو یہ ”ہماری طرح“ والی بات کوئی اور ہے

اس لیے شرک کا تصور نہ جاننے والے کا اندازہ ہے ، اس کا اپنا ہی خوف ہے اور یہ روکنے والوں کا قصہ ہے ۔ تو آپ کے سوال کا جواب یہ ہوا کہ مزار پر جانا شرک نہیں ہے اور وہاں جا کے دعا مانگنی چاہیے کہ دعا شرک نہ ہو جائے؟ اللہ سے آپ کیا مانگتے ہیں؟ کہ دنیا بھی دے دے اور آخرت بھی دے دے ۔ ولی اللہ سے جا کے کیا مانگتے ہیں؟ وہاں آپ شرک کے لیے تو نہیں جاتے ، پھر کیا مانگتے ہیں؟ اکثر لوگوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ وہ مزار پہ کیوں جاتے ہیں ۔ کیونکہ باقی سارے لوگ ادھر چل پڑتے ہیں اس لیے آپ بھی چل پڑتے ہیں ، یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کس لیے جا رہے ہیں ۔ بزرگانِ دین کے پاس جانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس راستے پر ، اللہ کے راستے پر چلنا ہے اور محبت سے چلنا ہے ، بزرگوں سے اللہ کا راستہ مانگا جاتا ہے اور اللہ کے محبوبؐ کی محبت کے ساتھ مانگا جاتا ہے

بزرگ سے بزرگ کا راستہ مانگا جاتا ہے ، اس کا انداز مانگا جاتا ہے اور اس سے اس کا فکر مانگا جاتا ہے ۔ اپنی آرزو تو آپ خود ہی پوری کرو ، اس کی کیا دعا مانگنی ہے ۔ اگر بیٹا پیدا نہ ہوا تو بیٹی تو ضرور پیدا ہو گی ۔ اس کی دعا کیا مانگنی ہے اور کیا سوال کرنا ہے ۔ کیا اَن پڑھ کے گھر بیٹی نہیں ہوتی یا بیٹا نہیں ہوتا ۔ جو کافر ہوتے ہیں وہ عبادت نہیں کرتے تو کیا ان کے ہاں بیٹا ، بیٹی نہیں ہوتے ۔ روز ہی پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ جو بات روٹین کی ہے اس کو بھی آپ نے عبادت بنا لیا۔ جاپان والے کافر ہیں اور اتنی شاندار کاریں ، ٹویوٹا کار بناتے ہیں اور تم کلمہ پڑھ پڑھ کے تھک گئے لیکن ٹویوٹا نہیں بنا سکتے ۔ تو یہ بات تو نہ کرو ۔ جو چیز وہ لوگ روٹین میں لے لیتے ہیں ، کافر ہو کے جو حاصل کر رہے ہیں وہ چیز آپ ایمان کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے دس نمازیں پڑھ لی ہیں لیکن ابھی تک موٹر سائیکل نہیں ملی ۔ تو موٹر سائیکل اور نماز تو الگ چیز ہے ۔ اس لیے نماز سے وہ بات مانگو کہ جس ذات کی آپ نماز پڑھ رہے ہو اس کو آپ کے مانگنے سے خوشی ہو ۔ تو اللہ سے وہ بات مانگو جو مانگنے پر اللہ بھی خوش ہو ۔ وہ کیا ہو سکتی ہے؟ اللہ کے محبوب ؐ کی محبت ۔ اس سے اللہ بہت خوش ہو گا ۔ اللہ کے محبوبؐمحبوب سے کیا مانگو؟ اللہ کا راستہ ۔ اس طرح آپؐ خوش ہوں گے ۔ اللہ سے اللہ کے محبوبؐمحبوب کی محبت مانگو اور اللہ کے محبوبؐ سے اللہ کی محبت مانگو ۔ پھر مسئلہ حل ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات سمجھ آئی آپ کو؟ دنیا خود کماوء ،محنت کرو ۔ دعا کو ہر جگہ استعمال نہ کرو کہ اگر پین گم ہو گیا تو دعا ہی مانگتے جا رہے ہو ۔ بازار سے نیا خرید لو یا کسی سے لے کے لکھ لو ۔ اس لیے آپ سوچو کہ آپ کہتے کیا ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:-

میں نے لوگوں کو مزار پر سجدہ کرتے دیکھا ہے۔

جواب:-

*یہ شرک ہے ۔ دوسرے کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے شرک کیا ہے ، آپ نہیں کر سکتے ۔ اگر آپ لوگ اپنا سفر دیکھیں تو وہ شرک نہیں ہے اور دوسرے کو دیکھیں گے تو وہ شرک نظر آئے گا ۔ آپ فتویٰ دینا چھوڑ دو ۔ اپنے سفر کا آپ خود جائزہ لیں ۔ سوال آپ کا ہو اور جواب بھی آپ کا ہو ۔ دوسرا جو کر رہا ہو گا وہ شرک نظر آئے گا ۔ پتہ نہیں اس کی کیا نیت ہے ۔ آپ اپنی بات کریں ۔ آپ بتائیں کہ جب آپ کسی مزار پر جاتے ہیں تو کیا شرک کے لیے جاتے ہیں ۔ آپ ایسا نہیں کرتے ۔ تو آپ کا مسئلہ حل ہو گیا ۔ وہاں جو شخص کچھ کر رہا تھا تو اس سے پوچھو تو سہی کہ وہ کیا کر رہا تھا ۔ تو دوسروں سے متعلق یہ نہ سوچتے رہا کرو کہ وہ کیا کر رہا ہے ، وہ کدھر جا رہا ہے ، وہ کہاں سے آ رہا ہے ، اس کا دل کیا ہے اور اس کی نیت کیا ہے ۔ تجھے اس سے کیا غرض ہے تُو اپنی توڑ نبھا ۔ آپ کسی کو مشرک نہ کہا کرو ۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کو مسلمان ہی کہا کریں ۔ آدھے مسلمان باقی کے آدھے مسلمانوں کو کافر کہتے جا رہے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ خرابی ہوتی جا رہی ہے ۔ اس بات کو چھوڑ دو ۔ پھر مسئلہ حل ہو جائے گا ۔

Loading