جذباتی بلیک میلر لوگوں کو کیسے پہچانیں۔؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج ایک سفر کے دوران خضر بیٹے سے بات ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ بیٹا، اپنے اردگرد، اپنے حلقہ احباب اور اپنے روزمرہ کے تعلقات میں ایسے لوگوں کو پہچاننا سیکھیں جو جذباتی دباؤ ڈال کر اپنا کام نکالتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو سیدھا “کر دیں” نہیں کہتے بلکہ ایسے انداز میں بات کرتے ہیں کہ سامنے والا خود کو مجبور محسوس کرے۔ کچھ لوگ فطرتاً نرم دل ہوتے ہیں، وہ ہر بات مان لیتے ہیں، اپنے وقت، اپنی جیب اور اپنی حالت کو دیکھے بغیر ہر کام کے لیے ہاں کر دیتے ہیں، اور پھر آہستہ آہستہ وہ خود ہی ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میں نے اپنے ساتھی کو سمجھایا کہ ایک سادہ سا تجربہ کر کے دیکھیں، ایسے لوگوں سے اگر کوئی کام کہا جائے تو وہ دس میں سے نو بار انکار کریں گے، اور ہر بار انکار کا ایک نیا بہانہ ہوگا۔ لیکن دوسری طرف وہ آپ کو دو چار ایسے کاموں میں الجھا کر رکھیں گے کہ آپ ہمیشہ دل میں بوجھ محسوس کریں کہ شاید میں نے ان کا حق ادا نہیں کیا، حالانکہ حقیقت میں آپ ان کے بے شمار کام کر چکے ہوتے ہیں۔ یہ احساس جرم ہی دراصل ان کا اصل ہتھیار ہوتا ہے۔
مزید یہ عرض کیا کہ ایسے لوگوں کی پہچان
کے چند واضح اشارے ہوتے ہیں۔ وہ اکثر یہ احساس دلاتے ہیں کہ اگر ان کی بات نہ مانی گئی تو گویا آپ اچھے انسان نہیں رہے، وہ اپنی مشکل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ سامنے والا فوراً ہاں کر دے، وہ آپ کے ماضی کے احسانات کو نظر انداز کر کے ایک چھوٹی سی بات کو بڑا بنا دیتے ہیں، وہ آپ کے آرام، وقت اور حالات کی قدر نہیں کرتے، اور جب انکار کیا جائے تو ناراضی، خاموشی یا جذباتی باتوں کے ذریعے دوبارہ دباؤ میں لاتے ہیں۔ ایک سخت مگر سچی بات یہ بھی بیان کی کہ کبھی کبھی ایسے لوگ اپنے ہی گھر میں ہوتے ہیں، کوئی والد، کوئی والدہ یا کوئی قریبی رشتہ دار بھی اس انداز میں بات کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بدتمیزی کی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خود کو ذہنی اور جذباتی طور پر محفوظ رکھے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ “Learn to say No” یعنی انکار کرنا سیکھا جائے، مگر ایسا انکار جس میں تلخی نہ ہو، بدتمیزی نہ ہو بلکہ نرمی اور وقار ہو۔
پھر چند جملے سکھائے کہ انکار ہمیشہ خوبصورتی سے کیا جائے، مثلاً یہ کہ “اس وقت میری موجودہ ذمہ داریوں کے ساتھ یہ کام فوری ممکن نہیں”، یا “اگر تھوڑا وقت مل جائے تو کوشش کی جا سکتی ہے”، یا “اس معاملے میں میری مالی حالت اجازت نہیں دیتی، امید ہے بات سمجھ لی جائے گی”، یا “میں اس وقت پوری توجہ نہیں دے پاؤں گا، اس لیے بہتر ہے کسی اور سے مدد لے لی جائے”۔ اس طرح انکار بھی ہو جاتا ہے اور رشتہ بھی خراب نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا کہ ہر شخص ایسا نہیں ہوتا، ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کبھی خود نہیں کہتا مگر واقعی حق دار ہوتا ہے، ایسے لوگوں کے کام تو خود آگے بڑھ کر کرنے چاہئیں، بار بار پوچھ کر کرنے چاہئیں، کیونکہ یہی اصل انسانیت ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان خود کو غیر ضروری دباؤ سے بچائے، اپنے دل اور دماغ کو تھکنے نہ دے، علم سیکھے، سمجھ پیدا کرے اور پھر اس پر عمل کرے۔ ان شاء اللہ اس سے نہ صرف اپنی زندگی آسان ہو گی بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے بھی آسانی پیدا ہو گی۔
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔
جاوید اختر آرائیں
مارچ 2026
#جاوید_اختر_آرائیں
![]()

