جرائم کی بیخ کنی
تحریر۔۔۔حمیراعلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جرائم کی بیخ کنی۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )پاکستان میں پچھلی چند دہائیوں سے قتل، اغواء ،دھوکہ دہی اور ریپ کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ پہلے یہ سب جرائم نہیں ہو رہے تھے لیکن جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے ان کی شرح بے حساب بڑھ چکی ہے۔کسی بھی ملک یا معاشرے کی بقا اور سلامتی کا انحصار اس کے باشندوں کی اخلاقی پاکیزگی اور مضبوط سماجی اقدار پر ہوتا ہے، لیکن موجودہ دور میں ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط اور سنگین جرائم کے ایک بھیانک طوفان کا شکار ہو چکا ہے۔ ریپ، ہم جنس پرستی کے غیر فطری رجحانات، نا محرم سے ناجائز تعلقات، اور بچوں، ٹرانس جینڈرز حتیٰ کہ بے زبان جانوروں کے ساتھ بدسلوکی و جنسی زیادتی جیسے دل دہلا دینے والے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں ۔
ان تمام اخلاقی اور سماجی جرائم کی بنیادی وجہ انٹرنیٹ، موبائل، عریانیت و فحاشی کا بے لگام پھیلاؤ، پورن سائٹس اور ایڈلٹ مواد کی عام رسائی، عریان کتب، سی ڈیز اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال اور ہماری پولیس اور عدالتی نظام کی ناکامی، کرپشن ہے۔جب بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل ہو گا جس پر ہر چوتھا ایڈ کسی ایڈلٹ سائٹ کا ہو تو کبھی ڈیڑھ سالہ بچی کو سترہ سالہ لڑکا ریپ کرے گا، کبھی پندرہ سالہ لڑکا چھ سالہ بچی کی ریپ کرتے ہوئے ویڈیو بنائے گا اور کبھی کوئی جانوروں سے بدفعلی کرے گا۔
جب انسان اسلام کی بنیادی تعلیمات، بالخصوص حیا، پردے اور نگاہیں نیچی رکھنے (غضِ بصر) کے احکام سے دور ہو جاتا ہے اور اس کے دل سے خوفِ خدا ختم ہو جاتا ہے، تو اس کے نفسانی جذبات بے لگام ہو کر ان وحشیانہ اور غیر اخلاقی جرائم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
اگر عوام اورحکومت واقعی ان سنگین جرائم کا جڑ سے سدباب کرنا چاہتیے ہیں اور ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔اسے بچوں کے لیے محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔تو انہیں محض اعلانات کے بجائے انتہائی سخت اور عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ حکومت کی سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ الیکٹرانک میڈیا، پی ٹی اے اور سائبر کرائم ایجنسیوں کے ذریعے ملک بھر میں تمام فحش سائٹس، ایڈلٹ مواد، عریاں لٹریچر، سی ڈیز اور بے حیائی پھیلانے والے سوشل میڈیا پیجز پر مکمل اور فول پروف پابندی عائد کرے۔ ٹی وہ چینیلز پر ایسی رپورٹس چلانے پر پابندی عائد کرے۔اس مقصد کے لیے ایسی جدید ترین تکنیکی فائر والز اور سیکیورٹی فلٹرز لگائے جائیں کہ لوگ وی پی این یا کسی بھی دوسرے متبادل راستے سے ان تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔
ان تکنیکی پابندیوں کے ساتھ ساتھ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ اور سماجی سطح پر قرآن و حدیث کی سچی تعلیمات کا نفاذ ممکن بنایا جائے۔ اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں اسلامی نظامِ اخلاق اور حیا و پاکیزگی کی اہمیت کو شامل کیا جائے۔والدین نہ صرف خود بلکہ بچوں کو بھی قرآن حدیث ترجمہ تفسیر و شرح کے ساتھ پڑھائیں اس پر عمل کریں اور کروائیں۔بچوں کو گریجویشن سے پہلے اگر موبائل، لیب، لیپ ٹاپ دینا اشد ضروری ہو تو تعلیمی ادارے اور والدین اس پر ایسے لاکس لگائیں ایپس استعمال کریں جن سے وہ بچوں کی ایکٹیویٹیز چیک کر سکیں۔اور پڑھائی کا وقت مقرر کیا جائے اس کے بعد گیجٹس ان سے لے لیے جائیں۔
اللہ تعالٰی نے تنہائی کو بھی پاک رکھنے کا حکم دیا ہے۔اس لیے بڑے ہوں یا بچے تنہائی میں یہ خیال رکھیں کہ کوئی اور دیکھے نہ دیکھے اللہ ہر وقت نگران ہے۔غض بصر کا مطلب یہی ہے کہ کسی نا محرم پر نگاہ نہ پڑے اب خواہ وہ سامنے ہو یا نیٹ پر اس کی تصاویر ہوں۔یہ یاد رکھیے کہ جو مرد یا عورت اپنی عصمت کی حفاظت کرتا ہے وہ روز قیامت عرش الہی کے سائے میں ہو گا۔قرآن حدیث میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ عورت زنا گناہ کرے گی تو گناہگار ہوگی اور مرد کو سب جائز ہے۔دونوں کو نظر نیچی رکھنے، پردے، زنا سے بچنے، نا محرم سے دوستی یا تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔اور دونوں کے لیے گناہوں کی سزا بھی ایک جیسی ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مردوں پر دوہری ذمے داری عائد کی گئی ہے کہ فیملی کی دینی تعلیم و تربیت، پردہ کروانا ان کی ذمے داری ٹھہرائی گئی ہے۔اس لیے دونوں کو اپنی ذمے داری نبھانا چاہیے۔
ایسے جرائم میں ملوث افراد کو اسلامی احکام کی روشنی میں عبرتناک اور سرعام سزائیں دی جائیں تاکہ معاشرے میں قانون کی حکمرانی اور خوفِ خدا قائم ہو۔ جب تک برائی اور فحاشی کے تمام ذرائع پر مکمل سدِ باب نہیں کیا جائے گا اور عوام کو قرآن و حدیث کے اصولوں پر گامزن نہیں کیا جائے گا۔ تب تک ایک پاکیزہ، محفوظ اور متوازن معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں۔
![]()

