جنگ بکسر: 1764ء کی وہ فیصلہ کن جنگ جس نے ہندوستان کی تقدیر بدل دی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )23 اکتوبر 1764ء کی صبح، بہار کے چھوٹے سے قصبے بکسر کے میدان میں تاریخ کے پہیے کی وہ آخری ٹھیس تھی جس نے مغلیہ سلطنت کی دو سو سالہ بالادستی کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ دریائے گنگا کے کنارے واقع اس مقام پر جہاں آج پٹنہ سے تقریباً 130 کلومیٹر مغرب میں ایک پرسکون قصبہ آباد ہے، اس روز وہ خونریز جنگ لڑی گئی جس نے برصغیر کی سیاسی فضاء کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ۔
یہ محض ایک معرکہ نہیں تھا بلکہ ایک عظیم المیے کا آخری باب تھا۔ مغلیہ سلطنت، جو کبھی دنیا کی عظیم ترین طاقتوں میں شمار ہوتی تھی، اپنی آخری سانسوں سے ایک مرتبہ پھر اپنا وجود منوانا چاہتی تھی۔ شاہ عالم ثانی، جو نام کے بادشاہ تھے، اودھ کے نواب شجاع الدولہ اور معزول نواب بنگال میر قاسم کے ہمراہ اس اتحاد کا حصہ تھے جس کا مقصد ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ختم کرنا تھا ۔
اس اتحاد کی کہانی دراصل چند سال پہلے شروع ہوئی تھی جب میر قاسم بنگال کے تخت پر بیٹھے۔ وہ جلد ہی سمجھ گئے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی محض ایک تجارتی ادارہ نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی قوت بن چکا ہے جس کے مطالبات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ کمپنی کے عہدیدار اپنی نجی تجارت کے لیے (تجارتی راہداری) کا غلط استعمال کر رہے تھے، جس سے مقامی تاجروں کو نقصان پہنچتا تھا اور نواب کے خزانے کو بھاری محصولات سے محروم ہونا پڑتا تھا۔ میر قاسم نے اس صورت حال کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، انگریز تاجروں اور ہندوستانی تاجروں کے لیے یکساں محصول مقرر کر دیا، اور اپنی فوج کو جدید خطوط پر منظم کرنا شروع کر دیا ۔
لیکن یہ بغاوت کمپنی کو گراں گزری۔ 1763ء میں انگریزوں نے میر قاسم کو معزول کر کے میر جعفر کو دوبارہ نواب مقرر کر دیا، جو ان کا وفادار کٹھ پتلی ثابت ہو سکتا تھا۔ میر قاسم نے ہتھیار نہیں ڈالے اور اودھ کے نواب شجاع الدولہ اور مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی سے جا ملے ۔ اس طرح ایک عظیم اتحاد وجود میں آیا جس میں تقریباً 40,000 سے 50,000 کی فوج جمع ہو گئی، جس میں 140 توپیں شامل تھیں ۔
ان کی مد مقابل تھی میجر ہیکٹر منرو کی زیرقیادت ایک چھوٹی مگر منظم فوج۔ منرو کے پاس محض 7,072 سپاہی تھے جن میں 859 برطانوی، 5,297 ہندوستانی سپاہی اور 918 گھڑسوار شامل تھے، اور صرف 30 توپیں تھیں ۔ تعداد کے لحاظ سے دشمن اس سے کئی گنا بڑا تھا، لیکن منرو کے پاس وہ چیز تھی جو اس وقت ہندوستانی فوجوں میں مفقود تھی – نظم و ضبط اور جنگی حکمت عملی کا گہرا شعور۔
جنگ کی صبح جب سورج نکلا تو شاہ عالم ثانی کی فوج نے پہل حملہ کیا۔ مرزا نجف خان مغل فوج کے دائیں بازو کی قیادت کر رہے تھے اور انہوں نے صبح سویرے ہی منرو کی صفوں پر پیش قدمی شروع کر دی ۔ لیکن بیس منٹ کے اندر اندر انگریز فوج نے اپنی صفیں مرتب کر لیں اور جوابی حملہ کر دیا۔ روہیلہ اور درانی گھڑسواروں نے بھی جنگ میں حصہ لیا، لیکن اتحادیوں میں باہمی ربط و تعلق کا شدید فقدان تھا ۔
ایک لمحہ ایسا آیا جب صورتیں پلٹتی نظر آئیں۔ ناگا اور افغان گھڑسواروں نے انگریزوں کے عقبی حصے پر حملہ کر دیا اور ان کے کیمپ کو لوٹنا شروع کر دیا۔ شاہ عالم ثانی کو یقین ہو گیا کہ فتح قریب ہے۔ لیکن یہی وہ لمحہ تھا جہاں ہندوستانی فوج نے اپنا سب سے بڑا دھوکا کھایا۔ لوٹ مار میں مصروف ہو کر انہوں نے حملے کی رفتار کھو دی ۔
میجر منرو، جو اپنے سخت نظم و ضبط کے لیے مشہور تھے، نے اس غلطی کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اپنی فوج کو مختلف دستوں میں تقسیم کیا اور دشمن کے بائیں بازو پر کاری ضرب لگائی۔ برطانوی فوج نے نظم و ضبط کے ساتھ گولہ باری جاری رکھی اور اپنی صفیں قائم رکھیں ۔ دوپہر تک جنگ کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ شجاع الدولہ نے دریائے گنگا پر اپنا کشتی پل اڑا دیا اور اپنی فوج سمیت فرار ہو گئے، مغل شہنشاہ کو اس کے حال پر چھوڑ کر ۔ میر قاسم بھی میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے، ساتھ میں لاکھوں روپے کے جواہرات لے کر، اور بعد کی زندگی غربت و تنہائی میں گزاری ۔
شاہ عالم ثانی کے پاس سوائے ہتھیار ڈالنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ مرزا نجف خان نے شاہی دستوں کو دوبارہ منظم تو کیا، لیکن اب جنگ ہار چکی تھی اور انگریزوں سے مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہ تھا ۔
جنگ میں دونوں طرف سے خونریزی ہوئی۔ انگریزوں کے 847 سے 1,847 سپاہی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اتحادیوں کی ہلاکتیں 2,000 سے 6,000 کے درمیان بتائی جاتی ہیں ۔ انگریزوں نے 133 توپیں اور 10 لاکھ روپے نقدی پر مشتمل لوٹ مار حاصل کی ۔
لیکن اصل فیصلہ کن نتیجہ جنگ کے میدان سے باہر سامنے آیا۔ 1765ء میں معاہدہ الہ آباد کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو وہ چاہتی تھی۔ مغل شہنشاہ نے کمپنی کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کی دیوانی (محصول وصولی کے حقوق) سونپ دیے ۔ اس کے عوض شاہ عالم ثانی کو الہ آباد اور قنوج کے اضلاع واپس مل گئے اور پانچ لاکھ روپے سالانہ پنشن مقرر ہوئی ۔ شجاع الدولہ کو اودھ واپس مل گیا، مگر اسے 50 لاکھ روپے تاوان دینا پڑا اور انگریزی فوج کی حفاظت میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ میر جعفر دوبارہ نواب بنائے گئے، مگر اب ان کے پاس کوئی حقیقی طاقت نہ تھی ۔
اس جنگ کی اہمیت پلاسی سے کہیں بڑھ کر تھی۔ پلاسی نے صرف ایک نواب کو تبدیل کیا تھا، لیکن بکسر نے ایک سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ بکسر نے “ایک ہی وار میں” بالائی ہندوستان کی تین بڑی مغل طاقتوں کا خاتمہ کر دیا ۔ دیوانی کے حقوق ملنے کے بعد کمپنی نہ صرف تجارتی ادارہ رہ گئی بلکہ ایک باقاعدہ حکومت بن گئی۔ وہ محصول جو پہلے نواب کے خزانے میں جاتا تھا، اب کلکتہ پہنچنے لگا اور اسی دولت سے کمپنی نے پورے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔
وارن ہیسٹنگز 1772ء میں بنگال کا پہلا گورنر جنرل مقرر ہوا اور اس نے نظامِ محصول کو براہ راست کمپنی کے کنٹرول میں لے لیا ۔ نواب صرف عدالتی انتظامیہ تک محدود رہ گئے اور وہ بھی 1793ء میں کمپنی کے حوالے کر دی گئی ۔
بکسر کے میدان میں وہ تیر چھوٹا گیا جو سیدھا دلی کے تخت پر جا لگا۔ مغلیہ سلطنت جو کبھی ہندوستان کی عظیم ترین طاقت تھی، اب نام کی باقی رہ گئی تھی۔ انیسویں صدی آتے آتے ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر کی واحد طاقت بن چکی تھی، اور اس کی بنیاد پلاسی اور بکسر کے میدانوں میں پڑی تھی ۔ وہ چھوٹا سا قصبہ جہاں کبھی ایک خونریز جنگ لڑی گئی، تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ کے لیے اس مقام کے طور پر درج ہو گیا جہاں ہندوستان کی قسمت بدل گئی۔
تاریخ کے اوراق سے
آج جب ہم بکسر کے اس میدان پر نظر ڈالتے ہیں جہاں کبھی خون کی ندیاں بہی تھیں، تو ہمیں تاریخ کا وہ سبق نظر آتا ہے کہ اتحاد اور نظم و ضبط کے بغیر تعداد کبھی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ وہ عظیم الشان مغل فوج جو تعداد میں کئی گنا زیادہ تھی، باہمی انتشار اور مربوط حکمت عملی کی کمی کی وجہ سے ایک چھوٹی مگر منظم طاقت کے ہاتھوں شکست کھا گئی۔ یہ جنگ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عظیم سلطنتیں بھی ایک دن زوال پذیر ہوتی ہیں، اور ان کی جگہ نئی طاقتیں جنم لیتی ہیں۔
#تاریخ_ہند #جنگ_بکسر #ایسٹ_انڈیا_کمپنی #مغل_سلطنت #1764 #معاہدہ_الہ_آباد #برطانوی_استعمار #ہندوستان_کی_تاریخ #بہار_کی_تاریخ #تاریخی_جنگیں
![]()

