Daily Roshni News

جنیوا: امریکا، ایران جوہری مذاکرات کا آغاز، آبنائے ہرمز جزوی بند کر دی

جنیوا: امریکا، ایران جوہری مذاکرات کا آغاز، آبنائے ہرمز جزوی بند کر دی

انٹرنیشنل(ڈیلی روشنی نیوز ا نٹرنیشنل )امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔ مذاکرات شروع ہوتے ہی ایران نے فوجی مشقوں کے دوران آبنائے ہرمز کے بعض حصے عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر آبنائے ہرمز کے کچھ حصے چند گھنٹوں کے لیے بند کیے ہیں۔ ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاسدارانِ انقلاب کی فوجی مشقوں کے باعث کیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق ایران ماضی میں بھی خبردار کرتا رہا ہے کہ حملے کی صورت میں وہ اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے، جس سے عالمی تیل رسد کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔

جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات کی ثالثی عمان کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بات چیت میں شریک ہیں۔ ملاقات اقوام متحدہ میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت ہورہی ہے۔

ادھر، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی حکومت کو زبردستی نہیں ہٹا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کو بھی سخت جواب دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہیں اور ان کے خیال میں تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پہلے ہی ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے بی-2 بمبار طیارے استعمال کر چکا ہے۔

رائٹرز کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ اگر صدر ٹرمپ حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی ممکنہ کارروائی کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جوہری مسئلے، پابندیوں کے خاتمے اور کسی بھی ممکنہ مفاہمت کے خدوخال سے متعلق ایران کا مؤقف امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ امریکا غیر حقیقی مطالبات سے گریز کرے اور سخت معاشی پابندیاں اٹھانے میں سنجیدگی دکھائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جون میں مذاکرات کا ایک دور اس وقت تعطل کا شکار ہوگیا تھا جب اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کیے اور بعد ازاں امریکا بھی ان حملوں میں شامل ہوا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے بعد اس نے یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں روک دی ہیں، تاہم وہ مکمل طور پر افزودگی ترک کرنے یا اپنے میزائل پروگرام پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یاد رہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے درمیان گذشتہ روز اہم ملاقات بھی ہوئی۔

ملاقات کے دوران ایران کے حفاظتی معاہدوں (سیف گارڈز) کے دائرہ کار اور ایرانی پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے مطابق ایران اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان تعاون سے متعلق متعدد تکنیکی امور زیر بحث آئے۔

Loading