جو جیتے جی اپنی خواہشات کو مار دیتا ہے، وہی حقیقی زندگی اور آزادی پاتا ہے۔
ہالینڈ(ڈٰلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک سوداگر کے پاس ایک بہت خوبصورت اور بولنے والا طوطا تھا، جسے اس نے پنجرے میں قید کر رکھا تھا۔ ایک دن سوداگر تجارت کے لیے ہندوستان کے سفر پر جانے لگا۔ اس نے گھر کے سب لوگوں سے پوچھا کہ ان کے لیے کیا تحفہ لائے، اور آخر میں اپنے طوطے سے بھی پوچھا: “اے طوطے! تم ہندوستان کے رہنے والے ہو، وہاں سے تمہارے لیے کیا تحفہ لاؤں؟”
طوطے نے کہا: “میرے آقا! مجھے کوئی تحفہ نہیں چاہیے، بس میری ایک چھوٹی سی درخواست ہے۔ جب آپ ہندوستان پہنچیں اور وہاں باغوں میں میرے آزاد بھائی بند طوطوں کو دیکھیں، تو انہیں میرا سلام کہیے گا اور بتائیے گا کہ آپ کا ایک بھائی پردیس میں پنجرے کی قید میں ہے اور آپ کی یاد میں روتا رہتا ہے۔ ان سے پوچھیے گا کہ کیا یہ انصاف ہے کہ آپ لوگ تو آزاد فضاؤں میں اڑتے پھریں اور میں یہاں قید میں تڑپتا رہوں؟”
سوداگر نے وعدہ کر لیا۔ جب وہ ہندوستان پہنچا اور ایک جنگل سے گزرا تو اس نے درختوں پر طوطوں کا ایک بڑا جھنڈ دیکھا۔ سوداگر نے رک کر اونچی آواز میں اپنے قیدی طوطے کا پیغام سنایا۔
پیغام سنتے ہی، عجیب ماجرا ہوا! درخت پر بیٹھے تمام طوطے اچانک تڑپ کر زمین پر گرے اور بالکل بے حس و حرکت ہو گئے، جیسے مر گئے ہوں۔ سوداگر یہ دیکھ کر بہت افسردہ ہوا اور پچھتایا کہ اس نے یہ پیغام کیوں دیا، شاید اس کے طوطے کا حال سن کر صدمے سے یہ سب مر گئے۔
خیر، سوداگر جب اپنا سفر ختم کرکے واپس گھر پہنچا تو اس نے اپنے طوطے کو سارا واقعہ سنایا کہ کیسے اس کا پیغام سن کر ہندوستان کے آزاد طوطے مر کر گر گئے۔
جیسے ہی قیدی طوطے نے یہ بات سنی، وہ بھی ایک دم پنجرے کے اندر گرا اور بے حس و حرکت ہو گیا (جیسے مر گیا ہو)۔ سوداگر کو بہت صدمہ پہنچا کہ پہلے وہ طوطے مرے اور اب یہ بھی مر گیا۔ اس نے افسوس کے ساتھ طوطے کو مرا ہوا سمجھ کر پنجرے کا دروازہ کھولا اور اسے باہر نکال کر زمین پر رکھ دیا۔
جیسے ہی طوطا پنجرے سے باہر آیا، وہ فوراً اڑ کر سامنے درخت کی اونچی شاخ پر جا بیٹھا۔
سوداگر حیران و پریشان رہ گیا اور اوپر دیکھ کر بولا: “اے طوطے! یہ کیا ماجرا ہے؟ تو تو مر گیا تھا؟”
طوطے نے درخت سے جواب دیا: “اے خواجہ! میرے ان آزاد ساتھیوں نے مر کر نہیں، بلکہ مرنے کا ڈرامہ کرکے مجھے عملی پیغام دیا تھا۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ اگر تو اس قید سے آزادی چاہتا ہے، تو تجھے جیتے جی ‘مرنا’ ہوگا (یعنی اپنی بول چال اور حرکت چھوڑنی ہوگی، اپنی ‘میں’ کو ختم کرنا ہوگا)۔ تبھی تجھے حقیقی آزادی ملے گی۔ میں نے ان کا اشارہ سمجھ لیا اور آزادی پا گیا۔”
سبق: مولانا رومیؒ اس حکایت سے یہ درس دیتے ہیں کہ دنیا کی قید اور نفسانی خواہشات کے پنجرے سے حقیقی روحانی آزادی حاصل کرنے کے لیے انسان کو اپنی ‘انا’ اور نفسانی خواہشات کو مارنا پڑتا ہے۔ جو جیتے جی اپنی خواہشات کو مار دیتا ہے، وہی حقیقی زندگی اور آزادی پاتا ہے۔
اب میں اس حکایت کی مناسبت سے ایک تصویر پیش کرتا ہوں، جس میں وہ لمحہ دکھایا گیا ہے جب سوداگر حیران ہے اور طوطا آزاد ہو کر درخت پر بیٹھا ہے۔
امید ہے آپ کو مولانا رومیؒ کی یہ خوبصورت حکایت اور تصویر پسند آئی ہوگی۔ اگر آپ کو یہ کوشش اچھی لگی تو برائے مہربانی اسے لائک کریں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ایک اچھا سا کمنٹ ضرور چھوڑیں۔ شکریہ!
![]()

