جو قمیض جھوٹا خون لگا کر پیش کی جائے کہ یوسف مرگیا ہے اور جس کی قمیض خدا کے ڈر سے بھاگتے ہوئے پھٹ جائے جس کی قمیض جھوٹا الزام لگنے پر سچی گواہی دے تو پھر وہ قمیص قمیص نہیں رہیتی آنکھوں کا علاج ہوجاتی ہے مگر علاج ہر ایک کا نہیں ہوتا جو محبت رکھے علاج صرف اسی کا ہوتا ہے لوگ معجزات پر یقین نہیں رکھتے حالانکہ ہر بندے کی زندگی میں معجزات ہوتے ہیں اور معجزے کے بغیر تو کسی انسان کی پیدائش ہوتی ہی نہیں ہے ورنہ اندھیری جگہ پر جہاں سانس لینے کے لئے نہ ہوا ہو اور نہ ناک وہاں کوئی کیسے جی سکتا ہے اسی لئے اس نے ماں کے شکم کو سامنے رکھ کر اپنا نام رحیم رکھا ہے یعنی رحم میں رحم کرنے والا، تہمتیں تین ہیں دوبارہ سنوفقیر کیا عرض کرتا ہے ۔۔ تہمتیں تین ہیں ایک کی معضومیت کی گواہی قمیص نے دی ایک کی معصومیت کی گواہی وقت کے پیغمبر نے گود میں دی ایک کی معصومیت کی گواہی کائنات کے رب نے خود دی جو کہنے لگا ہوں زرا غور سے سن لو توبہ ہی برات ہے ۔
![]()

