جہالت کا زمانہ
ستی پرتھا: ہندوستانی تاریخ کا ایک لرزہ خیز باب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہندوستان کی سماجی تاریخ میں کچھ ایسے ابواب بھی موجود ہیں جنہیں یاد کرتے ہوئے انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ انہی میں سے ایک رسم “ستی پرتھا” ہے، جو صدیوں تک عورتوں کے لیے ایک بھیانک عذاب بنی رہی۔ یہ رسم محض ایک روایت نہیں تھی بلکہ ایک ایسا سماجی جبر تھا جس میں عورت کی زندگی، اس کی مرضی اور اس کے وجود کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔
تصور کریں ایک ایسا منظر جہاں شوہر کی موت کے بعد اس کی لاش کو چتا پر رکھا گیا ہے، آگ بھڑک رہی ہے، اور اسی آگ میں ایک زندہ عورت کو دھکیل دیا جا رہا ہے۔ یہ عورت کوئی مجرم نہیں بلکہ ایک بیوہ ہے، جس کا قصور صرف یہ ہے کہ اس کا شوہر وفات پا چکا ہے۔ وہ چیخ رہی ہے، مدد کے لیے پکار رہی ہے، مگر ہجوم اسے “مذہبی فریضہ” کا نام دے کر خاموشی سے جلتے دیکھ رہا ہے۔ یہ منظر کسی کہانی کا حصہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت تھا جو صدیوں تک دہرائی جاتی رہی۔
تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ستی پرتھا کا آغاز تقریباً چھٹی یا ساتویں صدی عیسوی کے دوران ہوا۔ ابتدا میں یہ رسم خاص طور پر راجپوت اور برہمن طبقوں تک محدود تھی، جہاں اسے عورت کی اپنے شوہر سے وفاداری کی آخری حد سمجھا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ رسم دیگر طبقات میں بھی پھیل گئی اور بعض علاقوں میں اسے مذہبی تقدس حاصل ہو گیا۔ “ستی ماتا” کے نام سے عورتوں کو دیوی کا درجہ دیا جانے لگا، ان کے نام پر مندر بنائے گئے اور انہیں عقیدت کے ساتھ یاد کیا جانے لگا۔
لیکن اس رسم کی حقیقت اس کے ظاہری تقدس سے بالکل مختلف تھی۔ زیادہ تر واقعات میں عورت کو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ دباؤ، خوف اور جبر کے تحت اس عمل پر مجبور کیا جاتا تھا۔ بیوہ عورت کی زندگی کو معاشرے میں بے وقعت سمجھا جاتا، اسے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا اور اس کے لیے جینا تقریباً ناممکن بنا دیا جاتا تھا۔ کئی خاندان جائیداد اور عزت کے نام پر عورت کو ستی ہونے پر مجبور کرتے تھے تاکہ وہ ان کے لیے بوجھ نہ بنے۔ اگر کوئی عورت انکار کرتی تو اسے جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔ بعض اوقات تو عورت کو زبردستی باندھ کر یا لکڑیوں کے نیچے دبا کر آگ کے حوالے کر دیا جاتا۔
انیسویں صدی میں جب برطانوی حکومت ہندوستان میں مستحکم ہوئی تو اس نے اس رسم کی ہولناکی کو محسوس کیا۔ اسی دور میں ایک عظیم سماجی مصلح، راجہ رام موہن رائے نے ستی پرتھا کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے نہ صرف اس کے خلاف تحریری مہم چلائی بلکہ مذہبی اور سماجی دلائل کے ذریعے اس رسم کی مخالفت کی۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں 1829 میں بنگال کے گورنر جنرل لارڈ وليم بینٹنک نے ایک قانون نافذ کیا جس کے تحت ستی پرتھا کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ یہ قانون اس ظلم کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم تھا، تاہم اس کے باوجود کئی علاقوں میں یہ رسم خفیہ طور پر جاری رہی۔
آزادی کے بعد بھی اس رسم کے اثرات مکمل طور پر ختم نہ ہو سکے۔ 1987 میں راجستھان کے ایک گاؤں میں پیش آنے والا واقعہ اس کی ایک دردناک مثال ہے، جہاں ایک نوجوان لڑکی روپ کانور کو اس کے شوہر کی موت کے فوراً بعد ستی کر دیا گیا۔ اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور میڈیا کی توجہ حاصل کی۔ عوامی ردعمل کے نتیجے میں حکومت کو مزید سخت قوانین بنانے پڑے تاکہ اس طرح کے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔
ستی پرتھا کی کہانی صرف ایک رسم کی کہانی نہیں بلکہ یہ اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے جس میں عورت کو ایک مکمل انسان کے بجائے محض ایک تابع کردار سمجھا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسا باب ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرتی روایات اگر انسانیت کے اصولوں کے خلاف ہوں تو انہیں بدلنا ضروری ہوتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی قدیم کیوں نہ ہوں۔
آج کے دور میں اگرچہ ستی پرتھا تقریباً ختم ہو چکی ہے، لیکن یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ معاشرے میں انصاف، برابری اور انسانی حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔ تاریخ کے ایسے سیاہ ابواب کو یاد رکھنا اس لیے بھی اہم ہے تاکہ آئندہ نسلیں ان غلطیوں کو نہ دہرائیں اور ایک زیادہ منصفانہ اور مہذب معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
#SatiPratha #HumanRights #WomenRights #HistoryOfIndia #SocialReform #EndViolence #JusticeForWomen
![]()

