Daily Roshni News

جیوفری ہنٹن کی وارننگ اور انسانوں کا مستقبل

جیوفری ہنٹن کی وارننگ اور انسانوں کا مستقبل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا ہم اپنی ہی ایجاد کے ہاتھوں ختم ہونے والے ہیں؟ اے آئی کے ’گاڈ فادر‘ کی وہ خوفناک وارننگ جس نے گوگل کو بھی ہلا دیا!

سوچیے! جس سائنسدان نے اپنی زندگی کے قیمتی 40 سال مصنوعی ذہانت (AI) کو “زندگی” دینے میں لگا دیے، جس کے بنائے ہوئے اصولوں پر آج پوری دنیا کا نظام چل رہا ہے، اگر وہی شخص اچانک سب کچھ چھوڑ کر دنیا کے سامنے چیخ چیخ کر یہ کہے کہ “ہم نے غلطی کر دی، یہ مشینیں اب ہم سے زیادہ ہوشیار ہو رہی ہیں” تو کیا آپ کو ڈر نہیں لگے گا؟

اگلے 10 سالوں میں آپ کی زندگی، آپ کا روزگار اور آپ کی انسانیت کیسے بدلنے والی ہے؟ کیا ایلون مسک اور بل گیٹس کی پیشگوئیاں سچ ہونے والی ہیں؟ اس آرٹیکل میں پڑھیے جیوفری ہنٹن کا وہ تجزیہ جو آپ کے مستقبل کے ہر منصوبے کو آج ہی بدلنے پر مجبور کر دے گا۔

مصنوعی ذہانت کی دنیا پچھلے چند برسوں میں جس رفتار سے آگے بڑھی ہے، اس نے نہ صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین کو چونکا دیا بلکہ پوری دنیا کی حکومتوں، صنعتوں اور عام افراد کو ایک ایسے سوال کے سامنے لا کھڑا کیا جو شاید انسانی تاریخ میں کبھی نہیں آیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مشینیں صرف ہماری مددگار رہیں گی یا انسانوں کی جگہ لے لیں گی۔ اس بحث کا سب سے نمایاں چہرہ جیوفری ہنٹن ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت کا گاڈ فادر کہا جاتا ہے۔ ان کی وارننگ محض ایک خیال نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کی تصویر ہے جو آنے والے برسوں میں دنیا کی شکل بدل سکتا ہے۔

جیوفری ہنٹن وہ سائنسدان ہیں جنہوں نے مصنوعی ذہانت کے اس بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں چار دہائیوں سے زائد وقت لگایا جس پر موجودہ اے آئی سسٹمز کام کرتے ہیں۔ ان ہی کی ریسرچ نے نیورل نیٹ ورکس اور ڈیپ لرننگ کی بنیاد رکھی۔ ان کے بغیر آج کا چیٹ جی پی ٹی، مڈجرنی، گوگل کا جمنی یا کوئی جدید خودکار سسٹم شاید ممکن نہ ہوتا۔

سن 2023 میں انہوں نے گوگل سے استعفیٰ دیا تاکہ وہ ان خطرات پر کھل کر بات کر سکیں جو جدید اے آئی ٹیکنالوجی سے جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی کمپنیاں اب اے آئی کو انسان کی مدد کے لئے نہیں بلکہ انسان کی جگہ رکھنے کے لئے استعمال کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق اگلے دس برسوں میں اے آئی نہ صرف انسان سے بہتر سوچنے لگے گی بلکہ انسان کے چلائے بغیر خود فیصلے بھی کرے گی۔ جس طرح پہلے مشینوں نے جسمانی محنت کو کم کیا، اب اے آئی انسانی ذہنی صلاحیت کو بھی کم کر دے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگلا مرحلہ وہ ہے جب مشینیں خود کو بہتر بھی بنانے لگیں گی اور انسان پیچھے رہ جائے گا۔

پہلے ایک گودام میں دس مزدور سامان اٹھاتے تھے پھر فورک لفٹ نے کام کم کر دیا۔ آج ایک ڈرائیور ہی کافی ہے۔ ہنٹن کے مطابق اے آئی اس مقام پر پہنچ جائے گی کہ وہ ڈرائیور بھی غیر ضروری ہو جائے گا۔ اگلا ٹرک خود چلے گا، خود سامان اٹھائے گا، اور خود راستے منتخب کرے گا۔

ہنٹن کے خدشات صرف ان کے نہیں بلکہ دنیا کے بڑے ٹیکنالوجی لیڈرز بھی ایسی ہی باتیں کر رہے ہیں۔

ایلون مسک کا کہنا ہے کہ مستقبل میں نوکریاں نہیں رہیں گی۔۔

ایلون مسک نے برطانوی وزیر اعظم رشی سونک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب انسان صرف شوق کے لئے کام کرے گا۔ دیگر تمام بنیادی اور پیچیدہ کام اے آئی کر دے گی۔

بل گیٹس کا اس بارے ایک بیان ہے کہ مستقبل میں تین دن کا ورک ویک کافی ہوگا…

بل گیٹس کے مطابق جب مشینیں کھانا پکانے سے لے کر فیکٹری میں اشیا بنانے اور گھریلو کام انجام دینے کے قابل ہو جائیں گی، تب انسانوں کو ہفتے میں کم دن کام کرنا پڑے گا اور باقی وقت خاندان اور تفریح کے لئے ہو گا۔…

جنسن ہوانگ کہتے ہیں  پروگرامنگ تقریباً ختم ہو جائے گی,ان کا کہنا ہے کہ اب ہر انسان پروگرامر ہے۔ آپ کو کمپیوٹر سے صرف اپنی زبان میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔ سسٹم آپ کے لیے خود کوڈ تیار کرے گا۔

یہ تینوں آراء ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مستقبل کا ورک اسٹرکچر مکمل طور پر مختلف ہوگا۔

دنیا بھر کی رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر ایسی نوکریاں خطرے میں ہیں جن میں تکراری کام ہوتا ہے یا ایسی ذمہ داریاں ہیں جو مشینیں آسانی سے سیکھ سکتی ہیں۔

کسٹمر سروس:پہلے: ایک کال سنٹر میں درجنوں نمائندے گھنٹوں کالز سنبھالتے تھے

اب: اے آئی چیٹ بوٹ بیک وقت ہزاروں افراد سے بات کر سکتا ہے۔ وہ لہجے، جذبات اور مسئلے کا تجزیہ چند سیکنڈ میں کر لیتا ہے۔

گرافک ڈیزائننگ اور آرٹ:پہلے: ایک لوگو بنانے میں کئی دن لگتے تھے،اب: مڈجرنی اور ڈال ای جیسے ٹولز چند سیکنڈ میں مختلف ڈیزائن تیار کر دیتے ہیں۔

ڈیٹا انٹری اور اکاؤنٹنگ:پہلے: سینکڑوں لوگ رسیدیں ایکسل میں لکھتے تھے،اب: اے آئی سسٹم تصویر دیکھ کر خودکار ڈیٹا انٹری کر لیتا ہے اور غلطی کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔

پرائمری لیول پروگرامنگ:وہ کوڈنگ جس میں بنیادی اپڈیٹس یا چھوٹے اسکرپٹس شامل ہوں، اب اے آئی چند لمحوں میں تیار کر دیتی ہے۔

ہنٹن اور دیگر ماہرین کے مطابق وہ کام محفوظ رہیں گے جن میں جذباتی فہم، انسانی رابطہ، پیچیدہ فیصلہ سازی، جسمانی فنی مہارت یا تخلیقی سوچ شامل ہو۔

نفسیاتی مشاورت:اے آئی معلومات ضرور فراہم کرتی ہے لیکن وہ انسانی ہمدردی، جذباتی سپورٹ اور تعلق قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس لئے سائیکولوجی اور کونسلنگ ابھی بھی انسانی مہارت پر منحصر ہے۔

اسٹریٹجک لیڈرشپ:کمپنیوں کی سمت، پالیسی سازی، اور تنظیمی فیصلے انسانی بصیرت پر ہی بہتر طور پر ہوتے ہیں۔

ہنر مند عملی کام:الیکٹریشن، پلمبر، کار پینٹر، نرسنگ جیسے شعبے ابھی بہت محفوظ ہیں کیونکہ روبوٹس میں انسانی سطح کی جسمانی لچک، تیزی اور فیصلہ سازی کی کمی ہے۔

اگر بڑے پیمانے پر نوکریاں ختم ہو جائیں تو دنیا کا معاشی توازن قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

ری اسکلنگ:دنیا بھر میں حکومتیں اور کمپنیاں لوگوں کو نئے ہنر سکھانے پر توجہ دے رہی ہیں۔ جو ڈرائیور اپنی نوکری کھو دے گا وہ نئے سسٹمز کی نگرانی، ڈیٹا چیکنگ یا مشین کنٹرول رولز میں کام کر سکتا ہے۔

یونیورسل بیسک انکم (UBI):یہ ایک ایسا ماڈل ہے جس کے مطابق حکومت ہر انسان کو ماہانہ ایک مقررہ رقم دے گی تاکہ اس کی بنیادی ضروریات پوری رہیں۔ اس کا فنڈ بڑی ٹیک کمپنیوں سے ٹیکس کی صورت میں آئے گا، جو اے آئی سے بے مثال منافع حاصل کریں گی۔

دنیا کے کئی ممالک اس ماڈل کو آج ہی تجرباتی بنیادوں پر آزما رہے ہیں۔

لوگ اکثر کمپیوٹروں، انٹرنیٹ اور مشینری کے آنے کے بعد پیدا ہونے والی بے روزگاری کے خوف کا حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن ہنٹن کے مطابق اے آئی کا انقلاب پہلے تمام انقلابات سے بہت مختلف ہے۔

پہلے: ٹیکنالوجی نے جسمانی کام کم کیے

اب: ٹیکنالوجی انسانی ذہنی صلاحیت کا متبادل بن رہی ہے

یہ تبدیلی زیادہ گہری ہے کیونکہ انسان کی اصل برتری ذہانت، تخلیق اور تجزیہ تھی۔ جب یہی کام اے آئی زیادہ بہتر، تیز اور سستا کر لے گی تو انسانی برتری کمزور پڑ سکتی ہے۔

ہنٹن کی وارننگ کسی خوف پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ ایک بروقت اشارہ ہے کہ ہمیں تیاری کی ضرورت ہے۔ اگلے دس سال دنیا کی تاریخ کے اہم ترین سال ہو سکتے ہیں۔

  1. اے آئی سیکھیں،جس شخص نے اے آئی ٹولز سیکھ لیے، وہ اپنی مارکیٹ ویلیو بڑھا لے گا۔ جو لوگ ان ٹولز کو نظر انداز کریں گے وہ پیچھے رہ جائیں گے۔

  2. اپنی مہارتوں پر توجہ دیں،رابطے کی مہارت، ٹیم مینجمنٹ، فیصلہ سازی اور انسانی جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت مستقبل کی کلیدی ضرورت ہے۔

  3. مسلسل سیکھتے رہیں،دنیا اب تیز رفتار تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ آپ کو ہر چھ ماہ بعد کچھ نہ کچھ نیا سیکھنا پڑے گا۔ جو لوگ لچکدار اور اپڈیٹ رہیں گے وہ محفوظ بھی رہیں گے اور ترقی بھی کریں گے۔

مصنوعی ذہانت انسان کی ترقی کے لئے بنائی گئی تھی لیکن اس کی تیز رفتار توانائی ایسے سوالات اٹھا رہی ہے جن کا جواب انسان کو آج دینا ہوگا۔ جیوفری ہنٹن کے خدشات حقیقت سے دور نہیں۔ اگر ہم نے وقت پر صحیح فیصلے کئے، خود کو اپ گریڈ کیا اور سسٹم کو منصفانہ بنایا تو اے آئی انسان کا سب سے مضبوط ساتھی بن سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے غفلت کی تو اگلا عشرہ انسانوں کے لئے ایک مشکل چیلنج بن سکتا ہے۔

مستقبل ان لوگوں کا ہے جو تبدیلی کے ساتھ خود کو بدل لیتے ہیں۔ اس لئے تیاری آج ہی سے شروع کریں۔

#aamirpatni

#عامرپٹنی

#معلوماتی

#جستجو

#AI

#AIDangers

Loading