جی ہاں قرآن پاک کے مطابق اولیاء کرام قیامت کے دن ساتھ دیں گے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میرے مسلمان بھائیو! ہم نے دنیا میں جو دوست بنا رکھے ہیں قیامت کے دن سب کے سب دشمن بن جائیں گے سوائے متقی (لوگوں) کے ،جن کی دوستی قیامت کے دن بھی ہم کوفائدہ دے گی۔ جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتاہے “گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیز گاروں کے(مطلب انہی کی دوستی کام آئے گی)، ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو، وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے داخل ہو جنت میں تم اور تمہاری بیبیاں اور تمہاری خاطریں ہوتیں۔ ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں اور جاموں کا اور اس میں جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کئے گئے اپنے اعمال سے، تمہارے لئے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں”۔(ترجمہ کنزالایمان پارہ 25 سورۃ الزخرف آیت 67 تا 74)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی دوستی قیامت کے دن دشمنی میں کس طرح بدل جائے گی۔ یہ تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ قیامت کا دن نفسہ نفسی کا عالم ہوگا، ہر کسی کو اپنی جان کی پڑی ہوگی انسان کی نیکیاں کم ہو جائیں گی تو وہ نیکیاں مانگنے کے لئے اپنے والدین کے پاس جائے گا کہ مجھے کچھ نیکیوں کی ضرورت ہے اگر آپ دے دیں تو میری جان چھوٹ جائے گی۔دنیا میں والدین کو اپنی اولاد سے کتنی محبت ہوتی ہے۔ اولاد دنیا میں جو بھی خواہش کرتی ہے والدین ان کی خواہشیں پوری کرتے ہیں۔ پر قیامت کے دن والدین بھی نیکیاں دینے سے انکار کردیں گے اسی مایوسی کے عالم میں انسان واپس ہوکر اپنے بھائی، بہن اور دوستوں کے پاس جائیگا تو ان تمام کی طرف سے بھی یہی جواب ملے گا۔ کہ دنیا کی دوستی، دنیا کی محبت بجا آج ہم تم کو کسی قسم کی نیکی نہیں دے سکتے۔ جن لوگو ں سے ہم دنیا میں محبت کرتے تھے وہ نیکی دینے سے انکاری ہو جائیں گے جب انکاری ہوں گے تو دنیا والی دوستی دشمنی میں بدل جائے گی۔ پر قیامت کے دن بھی پرہیز گار (جنہیں اللہ اپنے کلامِ پاک میں جگہ جگہ اولیاء اللہ یعنی اللّٰہ کے دوست کے نام سے پکارتا ہے) ہمارا ساتھ نبھائیں گے۔ تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ان سے محبت کریں جن پر اللہ پاک اور اسکے حبیب ﷺ راضی ہیں، جن کی محبت قیامت کے دن بھی ہمیں کام آئے گی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا بے کہ: “بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے برگزیدہ بندے ہیں جو نہ انبیاء کرام علہیم الرضوان ہیں نہ شہداء، قیامت کے دن انبیاء کرام علہیم السلام اور شہداء انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ مقام کو دیکھ کر ان پر رشک کریں گے” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا “یارسول اللہﷺ! آپ ہمیں ان کے بارے میں بتائیں کہ وہ کون ہیں؟” آپﷺ نے فرمایا “وہ ایسے لوگ ہیں جن کی ایک دوسرے سے محبت صرف اللہ پاک کی خاطر ہوتی ہے نہ کہ رشتہ داری اور مال دین کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی قسم! ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ نور(کے منبروں) پر ہوں گے، انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا جب لوگ خوف زدہ ہوں گے ۔انہیں کوئی غم نہیں ہوگا جب لوگ غم زدہ ہوں گے۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی ۔خبردار بے شک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ و غمگین ہوں گے۔(ابوداؤد)
اللّٰہ کریم ہم سب اہلِ ایمان کو بروز قیامت اپنے اولیاء کرام، اپنے پیارے دوستوں کی معیت میں میزان و پل صراط پر سے عافیت کے ساتھ گزرنا اور حوض پر آقا کریم ﷺ اور آلِ رسول سلام اللہ علیہم اجمعین کے مبارک ہاتھوں سے کوثر کے جام نصیب فرمائے۔۔
کہہ دیجئے۔۔۔ اللھم آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الصادق الامین صلی اللّٰہُ علیہ وآلٖہ وسلّم 🤲🏻❤️
![]()

