حالات کا نظم اکثر بے رحم ہوتا ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو ز انٹرنیشنل )قصائی پنجرے سے مرغیاں نکال کر ذبح کرتا ہے اور باقی یہ سوچ کر خوش ہوتی ہیں کہ وہ بچ گئیں، حالانکہ باری سب کی آنی ہے، آج امتِ مسلمہ کی مثال بھی کچھ ایسی ہی بنتی جا رہی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ خطرہ موجود ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں خطرے کا احساس ہی نہیں رہا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک چھری ہماری گردن تک نہیں پہنچی تب تک سب ٹھیک ہے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں دوسروں کی بربادی پر خاموش رہتی ہیں، وہ خود بھی زیادہ دیر محفوظ نہیں رہتیں۔ سقوطِ بغداد ہو یا اندلس کا زوال، ہر جگہ ایک ہی سبق ملتا ہے کہ تقسیم، خودغرضی اور وقتی مفاد نے اجتماعی طاقت کو کھوکھلا کیا۔ جب ایک طبقہ متاثر ہوتا ہے تو دوسرا یہ سمجھ کر خاموش رہتا ہے کہ یہ مسئلہ ہمارا نہیں، اور یہی خاموشی کل سب کا مسئلہ بن جاتی ہے۔ آج ہم فرقوں، مسلکوں، قومیتوں اور سیاسی وابستگیوں میں اس قدر بٹے ہوئے ہیں کہ ہمیں مشترکہ نقصان بھی الگ الگ نظر آتا ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر غصہ نکال کر سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہوگیا، حالانکہ عمل کے بغیر شور محض خود فریبی ہے۔ دشمن کی طاقت صرف اس کی حکمت عملی نہیں ہوتی، ہماری کمزوری بھی اس کی طاقت بن جاتی ہے۔ اگر تعلیم کمزور ہو، معیشت غیر مستحکم ہو، انصاف کا نظام سست ہو اور قیادت مفاد پرست ہو تو پھر الزام صرف بیرونی قوتوں کو دینا سادہ لوحی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی صفوں کو کب درست کیا؟ ہم نے کب میرٹ کو ترجیح دی، کب دیانتداری کو معیار بنایا، کب اجتماعی مفاد کو ذاتی فائدے پر فوقیت دی؟ جب ہر فرد صرف اپنی بقا کی فکر میں ہو تو اجتماعی بقا ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ قصائی کا کام ذبح کرنا ہے، اس سے رحم کی توقع بے وقوفی ہے، مگر پنجرے میں موجود مرغیوں کا یہ فرض تھا کہ خطرہ دیکھ کر متحد ہوتیں، راستہ تلاش کرتیں، شور مچاتیں، مزاحمت کرتیں۔ اگر وہ ایک ایک کر کے خاموشی سے جاتی رہیں تو یہ صرف قصائی کی طاقت نہیں، ان کی بے حسی بھی ہے۔ امتِ مسلمہ کا مسئلہ جذبات کی کمی نہیں، حکمت اور نظم کی کمی ہے۔ ہم وقتی ردِعمل میں تو تیز ہیں مگر طویل المدتی حکمت عملی میں صفر۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ صرف دعاؤں اور نعروں سے حالات نہیں بدلتے، اس کے لیے علم، کردار، اتحاد اور عملی جدوجہد درکار ہے۔ اگر ہم نے اپنے اندر احتساب شروع نہ کیا تو بیرونی احتساب زیادہ سخت ہوگا۔ حقیقت کڑوی ہے مگر واضح ہے، جو قوم خود کو منظم نہیں کرتی اسے حالات منظم کر دیتے ہیں، اور حالات کا نظم اکثر بے رحم ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم تماشائی بننے کے بجائے ذمہ دار بنیں، ورنہ تاریخ ایک اور مثال لکھنے میں دیر نہیں لگائے گی اور اس بار ہم صرف کہانی سنانے والے نہیں بلکہ کہانی کا حصہ ہوں گے۔
#veer
![]()

