Daily Roshni News

حرام کی کمائی — دل کی موت کی کہانی

حرام کی کمائی — دل کی موت کی کہانی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میرے استاد فرمایا کرتے تھے:“بیٹا، انسان کے جسم کو بیمار ہونے میں وقت لگتا ہے، مگر دل حرام کے ایک نوالے سے ہی مرنے لگتا ہے۔”

میں اُن دنوں ایک بڑے تاجر کے پاس کام کرتا تھا۔ کام بظاہر حلال تھا، مگر ناپ تول میں کمی، جھوٹے وعدے، اور لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا معمول بن چکا تھا۔ شروع میں دل کانپتا تھا، مگر آہستہ آہستہ ضمیر خاموش ہو گیا۔ تنخواہ اچھی تھی، سہولتیں بڑھ رہی تھیں، مگر سکون کم ہوتا جا رہا تھا۔

ایک دن میں اپنے استاد کے پاس حاضر ہوا اور کہا:

“حضرت! سب کچھ ہے، مگر دل بے چین رہتا ہے۔”

استاد نے صرف ایک سوال کیا:

“تم جو کماتے ہو، کیا اس میں کسی کا حق شامل تو نہیں؟”

میں خاموش ہو گیا۔

استاد نے فرمایا:

“آج ایک کام کرو، پورا دن روزہ رکھو، کسی سے فضول بات نہ کرو، اور شام کو اپنی کمائی میں سے ایک دن کی تنخواہ صدقہ کر دو۔”

میں نے عمل کیا۔ مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ صدقہ دیتے وقت ہاتھ کانپ رہا تھا، دل میں عجیب سا غصہ اور تنگی محسوس ہو رہی تھی۔ اس رات میں سویا تو نیند پوری نہ ہوئی، دل بوجھل تھا، زبان بے اختیار تلخی کی طرف مائل تھی۔

اگلے دن استاد نے پوچھا:

“کیسا رہا؟”

میں نے سب بتا دیا۔

وہ مسکرائے اور بولے:

“یہ حرام کا اثر ہے۔ حرام رزق انسان کے اندر سے شکر، قناعت اور حیا کو کھا جاتا ہے۔ پھر آدمی زیادہ کھا کر بھی سیر نہیں ہوتا، زیادہ سونے کے باوجود تھکا رہتا ہے، اور زیادہ کمانے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا۔”

پھر انہوں نے ایک جملہ کہا جو آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے:

“بیٹا! حرام رزق دل کو قبرستان بنا دیتا ہے، جہاں نیکی دفن اور برائی زندہ رہتی ہے۔”

میں نے پوچھا:

“حضرت! اگر کوئی اس دلدل میں پھنس چکا ہو تو بچے کیسے؟”

فرمایا:

“دو چیزیں لازم پکڑ لو:

ایک — حلال کی سخت نگرانی

دوسری — کم مگر پاک پر صبر”

پھر بولے:

“جو چیز تمہیں دیکھ کر، چھو کر، یا پا کر اللہ سے غافل کر دے، وہی تمہارا اصل حرام ہے۔”

اُس دن کے بعد میں نے آمدن کم مگر صاف کر لی۔ زندگی آسان نہ رہی، مگر دل ہلکا ہو گیا۔ نماز میں لذت لوٹ آئی، نیند پوری ہونے لگی، اور سب سے بڑھ کر… دل دوبارہ زندہ ہو گیا۔

استاد کی آخری نصیحت یہ تھی:

“بیٹا! بچوں کو زیادہ مال نہیں، پاک رزق دے کر بڑا کرو — کیونکہ حلال تھوڑا ہو تو بھی نسلیں سنوار دیتا ہے، اور حرام زیادہ ہو تو سب کچھ جلا دیتا ہے۔”

Loading