حریص آدمی,,,,,,,,,
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)شہرِ بخارا کے امیر صدرِ جہاں کی سخاوت بڑی مشہور تھی۔ کوئی سائل اس کے درِ دولت سے خالی نہیں جاتا تھا۔ صبح و شام دریائے فیض و سخاوت رواں رہتا تھا۔ ضرورت مندوں اور سائلوں پر اس کی عطا کا مینہ برستا رہتا تھا۔ اس کا طریقہٴ کار یہ تھا کہ کاغذ میں اشرفیاں لپیٹ کر رکھ لیتا۔ جب تک وہ ختم نہ ہو جاتیں برابر ضرورت مندوں میں تقسیم کرتا رہتا۔ صدرِ جہاں کی سخاوت کا انداز بھی نرالا تھا۔ اس نے سب حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دن مقرر کر رکھے تھے۔ کوئی شخص اپنی باری کے بغیر خیرات وصول نہیں کر سکتا تھا۔ ایک دن بیواؤں کے لیے تھا۔ دوسرا دن مصیبت زدوں کے لیے مقرر تھا اور تیسرا دن مفلس فقیروں کے لیے، چوتھا دن محتاج ملاؤں کے لیے، پانچواں دن مسکینوں کے لیے، چھٹا دن یتیم بچوں کے لیے، ساتواں دن قیدیوں کے لیے، آٹھواں نواں دن مسافروں کے لیے، دسواں دن غلاموں کے لیے مقرر تھا۔ اس کے ساتھ شرط یہ تھی کہ کوئی ضرورت مند زبانِ حال سے سوال نہ کرے گا۔ ضرورت مند محتاج اپنی باری کے دن صدرِ جہاں کی گزرگاہ کے دونوں جانب قطاریں باندھے کھڑے ہو جاتے تھے اور وہ انہیں اشرفیاں دیتا ہوا آگے نکل جاتا تھا۔ جو کوئی بے صبرا اتفاق سے سوال کر دیتا۔ اس جرم میں صدرِ جہاں اسے کچھ نہ دیتا تھا۔
ایک دن کسی سائل نے کہا”کئی روز سے بھوکا ہوں میری طرف نظرِ عنایت فرمائیں۔“ لوگوں نے ہر چند اس آدمی کو روکا اور سمجھایا کہ ایسا نہ کر وہ اپنی ضد پر اڑا رہا اور برابر صدا لگاتا رہا۔ صدرِ جہاں جب قریب آئے اس سے مخاطب ہو کر کہا کہ ”تُو بڑا بے شرم اور بے حیا ہے۔“ وہ آدمی صاحبِ نظر تھا۔ اس نے صدرِ جہاں کو کہا: ”اس جہاں میں تُو بھی خوب موج اڑا رہا ہے اور اگلے جہاں کی نعمتیں بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔“ یہ جواب سن کر صدرِ جہاں بہت متاثر ہوا۔ آگے اشرفیاں تقسیم کرنا روک دیں۔ غلاموں کو حکم دیا جس قدر مال و دولت یہ آدمی طلب کرے اسے دے دو۔
اب دوسرا واقعہ پڑھیں۔ جس دن ملاؤں کی باری تھی۔ اس دن ایک ملاّ اپنی باری کا انتظار کیے بغیر جذبہٴ حرص سے مجبور ہو کر چلا اٹھا کہ صدرِ جہاں میں نہایت غریب اور مفلس ہوں مجھے جلدی اپنے دامنِ رحمت سے سیراب کر، صدرِ جہاں نے خلاف ورزی کرنے پر اسے کچھ نہ دیا۔ ہر چند کہ وہ ملاّ خوب رویا۔ گڑگڑا یا اپنی مفلسی اور محتاجی کی عبرت خیز کہانیاں سنائیں۔ لیکن صدرِ جہاں کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ باقی سب ملاؤں کو نوازا گیا مگر اسے ایک کوڑی بھی نہ ملی۔
دوسرے دن وہی ملاّ اپنے دونوں پیروں پر پٹیاں لپیٹ کر معذوروں کی صف میں جا بیٹھا تا کہ دیکھنے والے ترس کھائیں کہ بے چارہ معذور ہے۔ اس کے دونوں پاؤں ٹوٹے ہوئے ہیں۔ صدرِ جہاں جب مال تقسیم کرنے آیا ملاّ کو پہچان لیا سب معذوروں کو کچھ نہ کچھ دیا۔ اسے کچھ دیے بغیر آگے بڑھ گیا۔ تیسرے دن ملاّ نے اپنے چہرے پر کالا کپڑا لپیٹا اور اندھا بن کر اندھوں کی قطار میں لگ گیا۔ صدرِ جہاں نے اسے وہاں بھی پہچان لیا۔ اسے کچھ عطا کیے بغیر آگے بڑھ گیا۔
اس میں ناکامی کے بعد ملاّ نے عورتوں کی طرح سر پر چادر ڈال لی اور بیواؤں کے درمیان میں جا کر بیٹھ گیا۔ گردن جھکالی۔ جھولی پھیلا کر دونوں ہاتھ چادر میں چھپائے۔ یہ رنگ ڈھنگ دیکھ کر صدرِ جہاں نے ایک ہی نظر میں پہچان لیا۔ اس نے سب بیواؤں کو اشرفیاں دیں۔ لیکن اس بیوہ کے قریب سے گزر گیا۔ جب یہ وار بھی خالی گیا تو ملاّ کے دل میں غم و غصے کی آگ بھڑک اٹھی…… اگلے روز منہ اندھیرے ایک کفن چور کے پاس پہنچا اور اسے کہا کہ مجھے ایک کفن میں لپیٹ کر سرِ راہ جنازہ بنا کر رکھ دو۔ کوئی بھی پوچھے جواب نہ دینا۔ خاموشی کے ساتھ میرے جنازے کے قریب بیٹھے رہنا……
صدرِ جہاں ادھر سے گزرے گا۔ لاوارث جان کر تدفین کے لیے اشرفیاں ضرور دے گا۔ اس میں سے نصف تمہارا ہو گا۔ کفن چور یہ تجویز سن کر راضی ہو گیا ملاّ کا جنازہ تیار کر کے سرِ راہ رکھ دیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد صدرِ جہاں کی سواری آئی دیکھا کہ ایک لاش کفن میں لپٹی پڑی ہوئی ہے اور قریب ہی ایک شخص غمگین صورت بنائے بیٹھا ہے۔ صدرِ جہاں نے اشرفیوں کی ایک تھیلی اس میت پر پھینک دی۔ ملاّ نے فوراً کفن سے ہاتھ باہر نکالا اور اشرفیوں کی تھیلی اپنے قبضے میں کر لی۔ یہ تماشا دیکھ کر صدرِ جہاں رک گیا۔ اسی وقت ملاّ نے کفن سے منہ باہر نکالا اور صدرِ جہاں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ اے جود و سخا کا دروازہ بند کرنے والے دیکھا؟ آخر ہم نے تجھ سے لے کر ہی چھوڑا۔ صدرِ جہاں نے جواب دیا *”ارے احمق! جب تک تو مرا نہیں ہماری سرکار سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکا۔“*
درسِ حیات:
اللہ تعالیٰ نے بھی (دُعا) مانگنے کے اصول و ضوابط مقرر فرمائے ہوئے ہیں، ان سے رُو گردانی کرنے والا بے مراد رہتا ہے۔
شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایاتِ رومیؒ
“اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا” (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے
خدا کا پاکستانی چینل
تصوف کی دنیا
Khuda Ka Pakistani Channel
Tasawuf Ki Dunya
![]()

