Daily Roshni News

حسد اور حاسد

حسد اور حاسد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بے شک حسد ایسی آگ ہے جو جلنے والے کو تو جلاتی ہی ہے مگر جس پر حسد کیا جائے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔ حاسد کا مرض یہ ہے کہ وہ اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں، اسے یہ قبول نہیں کہ کسی کو اللہ نے زیادہ دیا، کسی کو کم، کسی کو علم، کسی کو دولت، کسی کو صحت، کسی کو اولاد، کسی کو عزت، کسی کو حسن، کسی کو موقع، اور کسی کو امتحان۔ وہ دیکھتا ہے تو کسی کی خوشی کو، مگر اس کی آنکھیں اس خوشی کے پیچھے چھپی اللہ کی حکمت کو نہیں دیکھ پاتیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ فلاں شخص مجھ سے بہتر کیوں ہے، حالانکہ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب عطائیں اس ذات کی طرف سے ہیں جو بے حساب دینے والی ہے، اور جسے چاہے دے، جسے چاہے نہ دے، اور جسے چاہے کم دے، مگر سب میں اس کی حکمت کارفرما ہے۔

حاسد کبھی خوش نہیں رہ سکتا، کیونکہ اس کی خوشی دوسروں کی بدحالی میں ہے، اور جب دوسرا خوش ہے تو اس کا دل جل جاتا ہے۔ وہ دوسرے کی محنت، اس کی دعا، اس کی راتوں کی جاگتی، اس کی صبح کی تگ و دو، سب کو بھول کر صرف یہ دیکھتا ہے کہ اسے کیا ملا اور مجھے کیا نہیں ملا۔ وہ اللہ کے فیصلے پر سوال اٹھاتا ہے، حالانکہ اللہ کی رضا میں ہی بندے کی بھلائی ہے۔ حاسد کو راضی کرنا محال ہے، کیونکہ اگر آپ اسے ایک دنیا دے دیں تو وہ کہے گا کہ مجھے دو دنیائیں ملنی چاہئیں تھیں، اور اگر آپ اسے دو دیں تو وہ تین کا مطالبہ کرے گا۔ اس کا پیالہ کبھی بھرا نہیں ہوتا، اس کی آنکھیں کبھی سیر نہیں ہوتیں، اور اس کا دل کبھی قرار نہیں پاتا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح فرمایا کہ حسد وہ صفت ہے جو پہلے لوگوں کو ہلاک کرچکی ہے، جب انہوں نے انبیاء سے حسد کیا، اور جب انہوں نے ایک دوسرے سے حسد کیا تو ان کے درمیان لڑائیاں اور جنگیں ہوئیں، اور زمین میں فساد پھیلا۔ حسد ایمان کو کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے، یہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے۔ حسد کرنے والا دراصل اللہ کی ذات پر اعتراض کرتا ہے، کیونکہ وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ نے غلط تقسیم کی، حالانکہ اللہ کی تقسیم عدل ہے، حکمت ہے، اور رحمت ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کسے کیا دینا ہے، اور وہ جانتا ہے کہ کس کو کب دینا ہے، اور کس کو کس طرح دینا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو حسد کی اس بیماری سے بچائیں، اور یہ یاد رکھیں کہ جو کچھ اللہ نے ہمیں دیا ہے وہ ہمارے لیے بہترین ہے، اور جو کچھ اس نے دوسروں کو دیا ہے وہ ان کے لیے بہترین ہے۔ ہمیں دوسروں کی نعمتوں پر خوش ہونا چاہیے، اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ انہیں مزید برکتیں عطا فرمائے، کیونکہ جب ہم کسی کے لیے خیر کی دعا کرتے ہیں تو فرشتے ہمارے لیے بھی ویسی ہی دعا کرتے ہیں۔ حسد کی بجائے ہمیں رشک کرنا چاہیے، یعنی کہ کاش مجھے بھی ویسی نیکی ملے جو اسے ملی، مگر بغیر اس کی نعمت کو چھیننے کی خواہش کے۔ ہمیں دوسروں کی کامیابیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، ان کی محنت سے تحریک لینی چاہیے، اور ان کی دعاؤں سے فیض پانا چاہیے۔

اللہ کریم ہمیں حاسدین کے شر سے بچائے، اور ہمیں ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے جو دوسروں کی خوشی کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں، اور جو دوسروں کی ترقی کو اپنی ناکامی سمجھتے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں سے بچائے جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تو مسکراتے ہیں، مگر دل میں آگ بھرے رکھتے ہیں، اور جو زبان سے تو دعا کرتے ہیں مگر دل سے بددعا دیتے ہیں۔ اللہ ہمیں عافیت دے، اور ہمارے دلوں کو حسد کی اس گندگی سے پاک فرمائے۔

اور ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم لوگوں میں آسانیاں تقسیم کرنے والے بنیں، نہ کہ مشکلات پیدا کرنے والے۔ ہمیں وہ شرف عطا فرمائے جو انبیاء اور صالحین کو ملا، کہ ہم دوسروں کے لیے رحمت بنیں، اپنے گھر والوں کے لیے سکون، اپنے دوستوں کے لیے خیر، اپنے پڑوسیوں کے لیے آرام، اور اپنی قوم کے لیے باعثِ عزت۔ ہمیں وہ دل دے جو دوسروں کی ضرورت کو سمجھے، جو دوسرے کے درد کو محسوس کرے، جو دوسرے کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھے، اور جو دوسرے کی مصیبت کو اپنی مصیبت جانے۔ ہمیں ایسی دولت دے جو تقسیم کرنے سے بڑھے، ایسی محبت جو بانٹنے سے پھلے، اور ایسی زندگی جو دوسروں کے کام آنے سے کامیاب ہو۔

اللہ ہمیں حاسد کی صفت سے بچائے، اور ہمیں راضی و قانع بندے بنائے، جو اللہ کی ہر تقسیم پر شکرگزار ہوں، اور جو دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر اپنی نعمتوں کو پہچانیں، اور جو اپنی کمیوں کو دیکھ کر اللہ سے مانگیں، نہ کہ دوسروں سے جل کر خود کو جلا لیں۔ آمین یا رب العالمین۔

ساجدہ اصغر آرائیں

Loading