حضرت آدمؑ: تخلیق، آزمائش اور زمین پر انسان کی ابتدا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آغازِ کائنات سے پہلے جب ابھی وقت نے خود کو ماپنا شروع نہ کیا تھا، جب آسمانوں کی خاموشی میں صرف “کُن” کی صدا باقی تھی، اُس لمحے ربّ العالمین نے ایک فیصلہ فرمایا— کہ زمین پر ایک مخلوق پیدا کی جائے گی جو اُس کی نیابت کرے گی۔
فرشتوں نے سنا تو عرض کی:
“اَتَجْعَلُ فِیہَا مَن یُفْسِدُ فِیہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ؟”
(البقرہ: 30)
یعنی: “اے پروردگار! کیا تو ایسی مخلوق بنائے گا جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے؟”
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اِنِّی أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ”
“میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔”
یہ وہ لمحہ تھا جب تخلیقِ آدمؑ کا راز آسمانوں میں طے پایا۔
مٹی کا انتخاب
زمین سے مختلف مقامات کی مٹی لی گئی: کہیں نرم، کہیں سخت، کہیں سرخ، کہیں سیاہ۔
اس مٹی میں تمام رنگ، تمام طبائع اور تمام اخلاق جمع تھے — تاکہ آنے والی نسلِ انسان میں نرمی بھی ہو، سختی بھی، روشنی بھی، تاریکی بھی۔
قرآن کہتا ہے:
“خَلَقَہُ مِن تُرَابٍ”
(آلِ عمران: 59)
اللہ نے آدمؑ کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس مٹی میں روحِ الٰہی پھونکی —
اور یوں خاک میں جان آئی، آنکھوں میں روشنی، اور دل میں شعورِ بندگی جاگا۔
فرشتوں کا سجدہ
جب آدمؑ کو علم دیا گیا — ناموں کا، اشیاء کا، پہچان اور معانی کا — تو اللہ نے فرشتوں سے فرمایا کہ سجدہ کرو۔
سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے۔
ابلیس بولا:
“أَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ، خَلَقْتَنِی مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِینٍ”
(الأعراف: 12)
“میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔”
یہ پہلا تکبر تھا — جو نہ صرف ابلیس کو گرا گیا بلکہ انسان کے لیے ہمیشہ کا سبق بن گیا کہ تکبر علم کو مٹا دیتا ہے، اور عاجزی خالق کے قریب کر دیتی ہے۔
جنت کا سفر
اللہ نے حضرت آدمؑ اور حوّاؑ کو جنت میں ٹھہرایا۔
فرمایا:
“كُلا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا، وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ…”
“جنت میں آزادی سے رہو، سب کچھ کھاؤ، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا۔”
یہ آزادی اور امتحان دونوں کا پہلا امتزاج تھا۔
ابلیس، جس کا تکبر اُس کے زوال کا باعث بنا، چالاکی سے واپس آیا اور وسوسہ ڈالا۔
“اگر تم یہ پھل کھاؤ گے تو ہمیشہ زندہ رہو گے…”
حوّاؑ اور آدمؑ، دونوں نے انسان ہونے کے فطری تجسس میں وہ قدم اٹھا لیا —
اور جب حقیقت سامنے آئی، تو شرمندگی نے گھیر لیا۔
توبہ کا لمحہ
یہ انسانیت کی پہلی لغزش تھی، مگر ساتھ ہی پہلی توبہ بھی۔
اللہ نے خود اُنہیں کلماتِ توبہ سکھائے:
“رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا، وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ”
(الأعراف: 23)
یعنی “اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا تو ہم خسارے میں رہ جائیں گے۔”
یہ وہ لمحہ تھا جب ربّ کی رحمت نے انسانیت کے دروازے پر دستک دی —
اور یوں انسان زمین کی طرف بھیجا گیا، مگر خالی ہاتھ نہیں —
بلکہ علم، عقل اور توبہ کی دولت کے ساتھ۔
زمین پر پہلا انسان
زمین پر اترنے کے بعد حضرت آدمؑ نے عبادت، محنت اور تعلیم کا نظام قائم کیا۔
حوّاؑ کے ساتھ اُن کے بچوں کی پیدائش ہوئی، اور نسلِ انسانی کا آغاز ہوا۔
حضرت آدمؑ پہلے نبی تھے، جنہیں اللہ نے وحی عطا فرمائی۔
ان کا پیغام واضح تھا:
“لا إلهَ إلا الله” — اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
انہوں نے اپنے بچوں کو توحید، عدل، اور اخلاق کی تعلیم دی۔
ان کے بیٹے قابیل اور ہابیل کی کہانی انسان کے اندر چھپے خیر و شر کی تصویر بن گئی۔
آدمؑ کی وفات اور روح کا سفر
جب حضرت آدمؑ کا وقتِ وصال آیا، فرشتے اُن کے پاس آئے۔
انہوں نے فرمایا: “میں زمین پر آیا، گناہ دیکھا، توبہ سیکھی، اور رب کی رحمت پائی۔”
یوں ان کی روح آسمانوں کی جانب لوٹ گئی، اور زمین پہلی بار کسی نبی کے رخصت ہونے کی گواہ بنی۔
قرآن کہتا ہے:
“مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِیهَا نُعِیدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ”
(طه: 55)
“ہم نے تمہیں زمین سے پیدا کیا، اسی میں واپس لوٹائیں گے، اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے۔”
عبرت و پیغام
حضرت آدمؑ کی کہانی صرف ایک تاریخ نہیں — یہ انسان کے باطن کا آئینہ ہے۔
خاک سے اٹھنا، لغزش میں گرنا، توبہ سے سنبھلنا — یہی انسان کی اصل فطرت ہے۔
اللہ نے چاہا کہ انسان زمین پر محض زندہ نہ رہے بلکہ سیکھے، سمجھے، اور قربِ الٰہی کے سفر پر نکلے۔
زمین پر انسان کی پہلی صبح
جب آدمؑ اور حوّاؑ زمین پر اترے تو آسمان کچھ اور ہی انداز میں جگمگا رہا تھا۔
یہ زمین پر انسان کی پہلی صبح تھی —
خاک نے پہلی بار انسان کے قدموں کی چاپ سنی،
اور ہوا نے اُن کی سانسوں میں نئی زندگی محسوس کی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“قُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ، وَلَكُمْ فِی الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِینٍ”
(البقرہ: 36)
یعنی “اب تم سب زمین پر اتر جاؤ، جہاں تم ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنو گے، اور ایک وقت تک وہاں ٹھہرو گے۔”
یہ آغاز تھا اُس سفر کا، جس نے انسانیت کی پوری تاریخ بدل دی۔
محنت اور رزق کا پہلا سبق
زمین اب جنت کی طرح خودبخود رزق نہیں دیتی تھی۔
آدمؑ نے پہلا بیج بویا، پہلی محنت کی، پہلا پسینہ بہایا —
اور تب سمجھا کہ محنت اور دعا دونوں لازم ہیں۔
روایت ہے کہ اللہ نے آدمؑ کو زراعت، بُنائی، اور کاریگری کے اصول سکھائے،
تاکہ انسان محض محتاج نہ رہے، بلکہ خالق کی سنت میں شریک ہو —
کیونکہ پیدا کرنا، بنانا، اور سنوارنا دراصل خدائی صفات کا عکس ہے۔
حضرت حوّاؑ کا کردار
حوّاؑ صرف شریکِ حیات نہیں تھیں، بلکہ پہلی ماں بھی تھیں۔
انہوں نے آدمؑ کے ساتھ محنت کی، اُن کے دکھ بانٹے،
اور اپنی اولاد کو ایمان اور شکر کا پہلا سبق دیا۔
جب پہلی اولاد پیدا ہوئی، آدمؑ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:
“یہ زمین اب اکیلی نہیں رہی، اب یہ آباد ہونے لگی ہے۔”
حوّاؑ نے پہلی ماں ہونے کا درد بھی سہا،
اور پہلا پیار بھی دیا — وہ پیار جو انسانیت کا پہلا جذبہ بن گیا۔
ہابیل اور قابیل: خیر و شر کا پہلا امتحان
حضرت آدمؑ کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل، کی کہانی زمین پر خیر و شر کی بنیاد بنی۔
اللہ نے دونوں سے قربانی طلب کی —
ہابیل نے اپنی بہترین بکری پیش کی،
قابیل نے معمولی اناج۔
قرآن کہتا ہے:
“فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ”
(المائدہ: 27)
اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول کی، قابیل کی نہیں۔
اور وہاں سے حسد پیدا ہوا —
وہی حسد جو کبھی ابلیس کے دل میں بھڑکا تھا،
اب ایک انسان کے دل میں بھی جل اٹھا۔
قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا —
یہ زمین پر پہلا قتل تھا،
پہلا خون،
پہلا گناہ جس نے زمین کو سرخ کر دیا۔
اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کُرید کر دکھاتا ہے کہ
“اپنے بھائی کی لاش کیسے دفن کی جاتی ہے” —
اور یوں انسان نے تدفین کا پہلا سبق سیکھا۔
احساسِ ندامت
قابیل نے جب اپنے ہاتھوں سے مٹی اٹھا کر بھائی کی لاش ڈھانپی،
تو آنسو اُس کے ہاتھوں سے گرتے گئے۔
یہ آنسو انسان کے ضمیر کی پہلی آواز تھے۔
اللہ نے اُس لمحے انسان کے دل میں احساسِ جرم اور توبہ کا بیج بو دیا۔
یہی احساس بعد میں انبیاء کے پیغام کی بنیاد بنا —
کہ بندہ گناہ سے پاک نہیں،
مگر ندامت سے روشن ضرور ہو سکتا ہے۔
آدمؑ کی نصیحت
قابیل کے جرم نے آدمؑ کو گہرا دکھ دیا۔
انہوں نے اپنی اولاد کو جمع کر کے فرمایا:
“میرے بچوں، تمہارے رب نے مجھے عزت دی، مگر میں ایک لغزش سے گر گیا۔
اب تم پر لازم ہے کہ اپنی نیتوں کو پاک رکھو،
کیونکہ شیطان انسان کے سب سے قریب وہیں آتا ہے جہاں انسان خود کو بے نیاز سمجھنے لگے۔”
یہ حضرت آدمؑ کی پہلی نصیحت تھی —
جس میں انسانیت کے تمام اخلاقی اصول پوشیدہ ہیں۔
علم کا سفر
اللہ نے آدمؑ کو “اسماء” یعنی علم کے حقائق سکھائے تھے،
اور اب انہوں نے وہی علم اپنی نسل کو منتقل کیا۔
انہیں توحید، عبادت، انصاف، رزق کی تقسیم،
اور دنیا کی امانت کا درس دیا۔
زمین پر پہلا نظامِ تعلیم حضرت آدمؑ نے قائم کیا۔
ہر بیٹے کو مختلف ہنر سکھایا:
کوئی زراعت میں ماہر ہوا، کوئی شکار میں، کوئی علاج میں۔
یوں انسان نے زمین کے رازوں کو سمجھنا شروع کیا۔
حضرت آدمؑ کے آخری ایام
حضرت آدمؑ کی عمر تقریباً ۹۶۰ سال بتائی جاتی ہے۔
انہوں نے سینکڑوں نسلوں کو بڑھتے دیکھا،
انسانیت کو پھیلتے اور آزمائشوں میں مبتلا ہوتے دیکھا۔
جب وفات کا وقت قریب آیا،
انہوں نے اپنے بیٹے شیثؑ (Seth) کو نصیحت کی:
“بیٹا، ایمان کو مضبوط رکھنا، کیونکہ یہی وہ روشنی ہے جو شیطان کے اندھیرے کو شکست دیتی ہے۔”
فرشتے آئے، اُن کی روح لی،
اور زمین خاموش ہو گئی —
کیونکہ وہ انسان، جس نے پہلی بار آنکھ کھولی تھی،
اب خالق کے حضور لوٹ چکا تھا۔
پیغامِ آدمؑ
حضرت آدمؑ کی پوری داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
انسان خاک سے بنا ہے، مگر روح سے بلند۔
غلطی اس کی فطرت ہے، مگر توبہ اس کا شرف۔
محنت زمین کی زبان ہے، دعا آسمان کی۔
عاجزی علم سے بڑھ کر زینت ہے۔
یہ کہانی صرف “پہلے نبی” کی نہیں،
بلکہ “ہر انسان کے اندر کے آدم” کی کہانی ہے —
جو ہر روز گر کر اٹھتا ہے، روتا ہے،
اور پھر امید سے جیتا ہے۔
![]()

