حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )”11 ہجری۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد مدینہ منورہ غم میں ڈوبا ہوا تھا۔ امت یتیم ہو چکی تھی اور اسلام کو اپنے سب سے بڑے بحران کا سامنا تھا۔”
“اس نازک موڑ پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے امت کی باگ ڈور سنبھالی۔ آپ نے فرمایا: ‘اگر میں سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دینا، ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کر دینا۔'”
“خلیفہ بنتے ہی پورے عرب میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی۔ کئی قبائل اسلام سے پھر گئے (مرتد ہو گئے) اور زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔”
“باغیوں نے مدینہ پر حملے کی کوشش کی، لیکن بوڑھے خلیفہ نے خود تلوار اٹھائی اور شہر کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کو پسپا کر دیا۔”
“فتنے کو کچلنے کے لیے حضرت ابوبکرؓ نے ایک عظیم جنگی منصوبہ بنایا اور 11 لشکر تیار کر کے عرب کے مختلف کونوں میں روانہ کیے۔”
“سب سے پہلے جھوٹے نبی طلیحہ اسدی کے خلاف لشکر بھیجا گیا۔ یہ مقام مکہ سے تقریباً 450 کلومیٹر دور تھا۔”
“بزاخہ کے میدان میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی کمان میں مسلمانوں نے طلیحہ کی فوج کو عبرتناک شکست دی اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گیا۔”
“یہ علاقہ آج کل سعودی عرب کے شہر حائل کے قریب واقع ہے، جہاں کبھی بغاوت کا یہ بڑا معرکہ ہوا تھا۔”
“لیکن سب سے بڑا خطرہ ابھی باقی تھا۔ یمامہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے 40 ہزار جنگجو اکٹھے کر لیے تھے۔”
“اس فتنے کو ختم کرنے کے لیے امیر المومنین نے اللہ کی تلوار، حضرت خالد بن ولیدؓ کو 13 ہزار کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا۔”
“یہ لشکر مکہ سے تقریباً 800 کلومیٹر دور یمامہ (موجودہ ریاض کے قریب) کے طویل اور کٹھن سفر پر روانہ ہوا۔”
“مسیلمہ کی فوج مسلمانوں سے تین گنا بڑی تھی اور وہ اپنی سرزمین پر لڑ رہے تھے، انہیں اپنی طاقت پر بہت غرور تھا۔”
“12 ہجری میں یمامہ کے میدان میں جنگ شروع ہوئی۔ یہ ابوبکرؓ کے دور کی سب سے سخت اور خونی جنگ ثابت ہوئی۔”
“ابتدا میں دشمن کا دباؤ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور باغی مسلمانوں کے خیموں تک پہنچ گئے۔”
“یہ دیکھ کر سپہ سالار خالد بن ولیدؓ نے فوج کو دوبارہ منظم کیا اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے جوابی حملے کا حکم دیا۔”
“مسلمانوں نے ایسا زبردست جوابی حملہ کیا کہ 40 ہزار کا لشکر میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔”
“بھاگتی ہوئی باغی فوج نے ایک بڑے، مضبوط دیواروں والے باغ میں پناہ لی اور دروازے بند کر لیے۔”
“تب حضرت براء بن مالکؓ نے تاریخی قربانی دی۔ انہوں نے کہا: مجھے اٹھا کر دیوار کے پار دشمن کے بیچ پھینک دو تاکہ میں دروازہ کھول سکوں۔”
“وہ اکیلے ہزاروں دشمنوں میں کود گئے اور زخموں سے چور ہونے کے باوجود باغ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے۔”
“اسلامی لشکر اندر داخل ہوا اور باغ کے اندر اتنی شدید جنگ ہوئی کہ اسے ‘حدیقۃ الموت’ یعنی موت کا باغ کہا گیا۔”
“وحشی بن حربؓ، جو اب مسلمان تھے، انہوں نے اپنا وہی مشہور نیزہ مسیلمہ کذاب کو مارا اور یہ جھوٹا نبی جہنم واصل ہوا۔”
“مسیلمہ کے مرتے ہی فتنہ ختم ہو گیا۔ اس جنگ میں تقریباً 21 ہزار باغی مارے گئے۔”
“لیکن مسلمانوں کا نقصان بھی بہت زیادہ تھا۔ 1200 صحابہ شہید ہوئے، جن میں 700 وہ تھے جنہیں قرآن زبانی یاد تھا (حفاظ)۔”
“آج یہ علاقہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے مضافات میں واقع ہے، جہاں کبھی یہ خونریز معرکہ پیش آیا تھا۔”
“اتنی بڑی تعداد میں حفاظ کی شہادت کے بعد حضرت عمرؓ کے مشورے پر ابوبکر صدیقؓ نے قرآن پاک کو ایک کتابی شکل میں جمع کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔”
“عرب میں بغاوتیں ختم کرنے کے بعد، 12 ہجری میں حضرت ابوبکرؓ نے دنیا کی سپر پاور ایران (ساسانی سلطنت) کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔”
“کمان ایک بار پھر سیف اللہ، خالد بن ولیدؓ کے ہاتھ میں تھی۔ 18 ہزار کا لشکر عراق کی سرحد کی طرف بڑھا۔”
“پہلا ٹکراؤ ‘کاظمہ’ کے مقام پر ہوا، جو مکہ سے تقریباً 1100 کلومیٹر دور موجودہ کویت کے قریب ہے۔”
“ایرانیوں نے اپنے غرور میں آ کر خود کو زنجیروں میں باندھ لیا تاکہ کوئی سپاہی میدان سے بھاگ نہ سکے۔ اسی لیے اسے ‘ذات السلاسل’ یعنی زنجیروں والی جنگ کہتے ہیں۔”
“جنگ کے آغاز میں خالد بن ولیدؓ نے ایرانی گورنر ہرمز کو انفرادی لڑائی میں واصل جہنم کیا۔”
“کمانڈر کے مرتے ہی ایرانیوں میں بھگدڑ مچی، لیکن ان کی اپنی زنجیریں ہی ان کی موت کا پھندا بن گئیں اور مسلمانوں نے بڑی فتح حاصل کی۔”
“آج کاظمہ کا یہ میدان کویت میں ہے، جہاں مسلمانوں نے فارس کی سلطنت کے خلاف پہلی فیصلہ کن فتح حاصل کی تھی۔”
“اس کے بعد اسلامی لشکر نے ‘الیس’ کا رخ کیا، جہاں ایرانیوں اور عیسائی عربوں کا ایک بڑا اتحاد مسلمانوں کو روکنے کے لیے تیار تھا۔”
“ایرانیوں کو اتنا گھمنڈ تھا کہ انہوں نے کہا: ‘ہم کھانا کھا کر مسلمانوں سے لڑیں گے۔’ اور دیگیں چڑھا دیں۔”
“لیکن خالدؓ کی رفتار طوفانی تھی۔ وہ عین کھانے کے وقت پہنچے اور حملہ کر دیا، جس سے دشمن میں افراتفری مچ گئی۔”
“جنگ بہت سخت تھی، خالدؓ نے اللہ سے قسم کھائی: ‘اگر فتح ملی تو میں دشمن کے خون سے دریا بہا دوں گا۔'”
“اللہ نے فتح دی، اور خالدؓ نے قسم پوری کرنے کے لیے دشمن کو زندہ پکڑنے کا حکم دیا۔ ہزاروں قیدی بنا لیے گئے۔”
“ایک خشک نہر میں ان دشمنوں کا خون بہایا گیا اور پانی چھوڑا گیا تاکہ قسم پوری ہو۔ اس جگہ کو ‘نہر الدم’ (خون کی نہر) کہا گیا۔”
“یہ مقام آج کل عراق میں دریائے فرات کے کنارے ہے، جہاں اس سخت ترین جنگ نے ایرانیوں کے دلوں میں اسلام کا رعب بٹھا دیا تھا۔”
“عراق کے آخری کونے ‘فراض’ پر 12 ہجری کے آخر میں ایک اور عظیم جنگ ہوئی۔ یہ مقام مکہ سے 1400 کلومیٹر دور تھا۔”
“یہاں تاریخ میں پہلی بار تین دشمن طاقتیں (ایران، روم اور عرب قبائل) مسلمانوں کے خلاف متحد ہو گئیں۔ ان کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔”
“خالد بن ولیدؓ کی چال سے دشمن دریا پار کر کے اس طرف آ گیا، جہاں ان کی پشت پر دریا تھا اور سامنے مسلمان۔”
“مسلمانوں نے انہیں تین طرف سے گھیر کر حملہ کیا۔ اتحادی فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ ایک دوسرے کو روندنے لگے۔”
“بھاگنے کا واحد راستہ دریا تھا، لیکن بھاری زرہوں کے ساتھ جو بھی کودا وہ ڈوب گیا۔ اس جنگ میں ایک لاکھ دشمن مارے گئے۔”
“اس عظیم فتح کے بعد، خالدؓ نے خاموشی سے ایک اور کارنامہ انجام دیا۔ وہ فوج کو بتائے بغیر خفیہ طور پر حج کے لیے مکہ روانہ ہو گئے۔”
“انہوں نے بجلی کی رفتار سے سفر کیا، حج ادا کیا اور واپس آ گئے۔”
“حضرت ابوبکرؓ کو جب خبر ملی تو وہ فتح پر خوش ہوئے لیکن سپہ سالار کے اس طرح خطرہ مول لینے پر انہیں سرزنش بھی کی۔”
حضرت ابوبکر صدیق کی مکمل داستان زندگی کو اے ائی سٹوری کے ذریعے دکھایا گیا ایک مکمل اے ائی فلم بنائی گئی ہے ٹھیک ہے مکمل سٹوری کا لنک پیسٹ کر رہا ہوں ایک بار ضرور چیک کیجیے
مکمل مووی اے ائی سے بنائی گئی ہے وہ بھی بنانے کا مقصد یہ ہے کہ اپ کو پتہ چلے اس وقت جب جنگیں ہوتی تھی تو کس طرح سے ہوتی تھی کس طرح کے راستے تھے کس طرح کا ساز و سامان استعمال کیا جاتا تھا اور کس طرح کے لباس اور کس طرح کا وہ دور تھا
![]()

