حضرت بابا تاج الدين اولياءؒ
تحریر۔۔۔عانیہ خان
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حضرت بابا تاج الدين اولياءؒ۔۔۔ تحریر۔۔۔عانیہ خان)بر صغیر پاک و ہند میں دو قسم کی بادشاہتیں ساتھ ساتھ قائم رہیں، ایک تخت وتاج کے حکمرانوں کی اور دوسری خانقاہ کے بوریہ نشینوں کی۔ مسلم سلاطین کے پاس جنگی صلاحیت اور ساز و سامان تھا۔ وہ ان کے ذریعے ملک فتح کرتے تھے۔ صوفیائے کرام کے پاس محض محبت کے خزانے تھے۔ جن کی بدولت وہ انسانی قلوب کی تسخیر کرتے تھے۔ بر صغیر میں اسلام کے فروغ کے لیے خاندان چشتیہ اور دیگر اولیائے کرام نے جو خدمات سر انجام دیں وہ مسلم سلاطین کی کوششوں پر کہیں زیادہ فوقیت رکھتی ہیں۔ اسلام کا قافلہ انہیں اولیائے کرام کی کوششوں سے آگے بڑھا انہوں نے ناصرف پیغام حق سنایا بلکہ محبت ، اخلاص اور ایثار کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ جوق در جوق حلقہ اسلام میں داخل ہونے لگے۔
حضرت بابا تاج الدین ناگپوریؒ کے آباؤ اجداد مدینہ منورہ سے ہندوستان آئے اور مدراس میں سکونت اختیار کی۔ 1862ء میں آپؒ کی پیدائش ہوئی۔ بابا تاج الدین کے والد محترم بدر الدین آپ کی ولادت سے قبل ہی رحلت فرما گئے جبکہ والدہ محترمہ حضرت سید بی اماں مریم بھی پانچ سال بعد خالق سے جاملیں۔ آپ کی پرورش آپ کے نانا حضرت شیخ میران نے کی۔ حضرت بابا تاج الدین نے ابتدائی تعلیم کا مٹی (ناگپور سے ملحقہ علاقہ ) میں حاصل کی۔
آپ ایک روز مکتب میں موجود تھے کہ کامٹی کے مشہور مجذوب بزرگ حضرت عبد اللہ شاہ کا منوی مکتب میں تشریف لائے اور بابا صاحب کی جانب اشارہ فرما کر معلم سے فرمایا کہ اس کو کیا پڑھا رہے ہو ، یہ پڑ ھاپڑھایا آیا ہے۔ غرضیکہ جلد ہی آپ نے تمام علوم ظاہری میں ید طولی حاصل کر لیا۔
خاندان کے بزرگوں نے آپ کو فوج میں داخل کرادیا ۔ دوران ڈیوٹی (ساگر میں) آپ حضرت داؤد کی ساگری کے مزار اقدس پر تشریف لے جاتے اور ذکر واذکار کرتے۔ جلد ہی بابا صاحب کے کشف و کرامات عوام پر ظاہر ہونے لگے۔ فوج سے سبکدوشی کے بعد بابا صاحب نے زیادہ تر وقت ناگپور سے متصل واکی کے گھنے جنگلوں میں گزارا۔ واکی کے گھنے جنگل سے کچھ عرصے بعد آپ ناگپور تشریف لائے جہاں ہر وقت لوگوں کا ہجوم آپ کے ساتھ رہتا۔
اسی دوران ناگپور کے مرہٹہ راجہ مہاراجہ رگھوجی راؤ بھونسلے پٹیل کی اہلیہ علیل ہو ئیں اور زچگی کے مرحلے میں نازک صورتحال سے دو چار تھیں۔ بڑے بڑے ڈاکٹر حکیم موجود تھے مگر کسی قسم کا کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھاڈاکٹروں کی رائے کے مطابق حاملہ کے رحم میں بچہ مر چکا تھا اور جلد ہی آپریشن نہ بابا تاج الدین ؒکا تذ کرہ کوئی قصہ پارینہ نہیں ہے۔ آج بھی ہمارے درمیان ایسے کئی لوگ موجود ہیں جنہوں نے خود یا ان کے بزرگوں نے بابا صاحب کو دیکھا ہے، ان کی باتیں سنی ہیں، ان کے انداز و اطوار کا مشاہدہ کیا ہے۔ ماضی قریب میں بہت سے لوگ ہم سے جدا بھی ہو گئے ہیں۔ جن کی آنکھیں بابا صاحب کی شان جلال و جمال کی امین تھیں۔ ان لوگوں میں عام طبقے سے لے کر اعلی تعلیم یافتہ نہایت قابل اور مقتدر افراد شامل ہیں۔ حضرت بابا تاج الدین کے حالات زندگی اور کشف و کرامات پر گزشتہ سو سال میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ سلسلہ عظیمیہ سے حضرت بابا تاج الدین کی خصوصی نسبت ہے کہ سلسلہ عظیمیہ کے نام حضرت محمد عظیم برخی المعروف قلندر بابا اولیاء رشتے میں آپ کے نواسے ہیں۔ محمد عظیم بر خیا کی ابتدائی تربیت حضرت بابا تاج الدین نے ہی فرمائی تھی۔
ہونے کی وجہ سے حاملہ بھی زہر سے مر سکتی تھی مہاراجہ ڈاکٹروں کو آپریشن کی اجازت نہیں دے رہا تھا، ادھر اہلیہ کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی۔ اسی دوران مہاراجہ کے ایک ڈرائیور نے جو بابا صاحب کا بے حد معتقد تھا مہاراجہ سے کہا کہ شہر میں ایک مسلمان ولی کامل موجود ہیں آپ ان کے پاس چلیے اور دعا کی درخواست کیجیے شاید کوئی سب
بن جائے۔
مہاراجہ نے ڈرائیور کی بات سنتے ہی کہا کہ ہاں چلو جلد سے جلد ہمیں لے چلو۔ ڈرائیور خوشی خوشی مہاراجہ کو لے کر بابا صاحب کی خدمت میں پہنچا اور مہاراجہ نے بابا صاحب سے ماجرا بیان کیا …. آپ نے مہاراجہ سے فرمایامبارک ہو حضرت لڑکا ہو تو لڈ و باٹنا۔ ڈرائیور نے یہ سنتے ہی کہا کہ مہاراجہ واپس چلیے کام ہو گیا۔ مہاراجہ قدم چھو کر جب محل میں پہنچا تو خادموں نے دروازے پر مہاراجہ کو مبارک باد دی اور خوشخبری سنائی کہ آپ کے بیٹا تولد ہوا اور زچہ بچہ سب خیریت سے ہیں۔
مہاراجہ کا اعتقاد بابا صاحب پر اس قدر ہوا کہ اس نے بابا صاحب سے عرض کی کہ آپ میرے ساتھ چلیے۔ آپ نے اس کی درخواست قبول کی۔ مہاراجہ بابا صاحب کو بڑی دھوم دھام سے ہاتھی پر سوار کر کے محل میں لے آیا جہاں مہاراجہ
اور اہل خانہ نے بابا صاحب کے پاؤں چھوئے۔ مہاراجہ نے محل کا ایک حصہ آپ کے لیے مخصوص کر دیا جہاں پر ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا اور مہاراجہ کی جانب سے دونوں وقت چائے اور کھانے کا اہتمام …. یہاں بابا صاحب نے ایک
شاندار دریائے فیض جاری کیا۔
ناگپور کے چیف کمشنر بینجمن را برٹس کی بھتیجی بہت دنوں سے شدید بیمار تھی۔ لندن میں ہر طرح کا علاج کروایا لیکن اس کے سر میں جو شدید قسم کا درد ہوتا تھا اسے کسی بھی طرح آرام نہ آسکا۔ بابا صاحب کا شہرہ سن کر وہ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ آپ خواتین کا بے حد احترام کرتے تھے۔ رگھو راؤ نے ڈرتے ڈرتے بابا صاحب سے
سوال کیا۔
چیف کمشنر رابرٹ آئے ہیں۔ اجازت ہو تو بلاؤں ……؟
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ا گست2020
![]()

