Daily Roshni News

حضرت خنساؓء بنت عمرو ……..

حضرت خنساؓء بنت عمرو ……..

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں جنگ قادسیہ کا شمار عراق عرب کی سرزمین پر لڑی جانے والی نہایت خونریز اور فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے۔ اس لڑائی میں سلطنت ایران نے اپنے دولاکھ آزمودہ کار جنگ جُو اور تین سو جنگی ہاتھی مسلمانوں کےمقابل لاکھڑے کیے دوسری طرف مجاہدین اسلام کی کل تعداد صرف تیس اور چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ ان میں سے بعض مجاہدین کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی جہاد میں حصہ لینے کے لیے قادسیہ آئے تھے۔ اس موقع پر ایک ضعیف العمر خاتون بھی جذبہ جہاد سے سرشار اپنے چار نوجوان فرزندوں کےساتھ میدان جنگ میں موجود تھیں۔ شب کے ابتدائی حصے میں جب ہر مجاہد آنے والی صبح کے ہولناک منظر پر غور کررہاتھا اس خاتون نے چاروں فرزندوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے یوں خطاب کیا۔

میرے بچو! تم اپنی خوشی سے اسلام لائے اور اپنی خوشی سے تم نے ہجرت کی۔ اس ذات لایزال کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، جس طرح تم ایک ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اسی طرح تم ایک باپ کی اولاد ہو۔ میں نے نہ تمہارے باپ سے خیانت کی اورنہ تمہارے ماموں کو ذلیل و رسوا کیا۔ تمہارا نسب بے عیب ہے اور تمہارا حسب بے داغ۔ خوب سمجھ لو کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بڑھ کر کوئی کارثواب نہیں۔ آخرت کی دائمی زندگی دنیا کی فانی زندگی سے کہیں بہتر ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اصبِر‌وا وَصابِر‌وا وَر‌ابِطوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٢٠٠﴾… سورة آل عمران

”اے مسلمانو! صبر سے کام لو اور ثابت قدم رہو اور آپس میں مل کر رہو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ مراد کو پہنچو۔”

کل اللہ نے چاہا او رتم خیریت سے صبح کرو تو تجربہ کاری کے ساتھ اور خدا کی نصرت کی دعا مانگتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑنا او رجب تم دیکھو کہ لڑائی کا تنور خوب گرم ہوگیا او راس کے شعلے بھڑکنے لگے تو تم خاص آتش دان جنگ میں گھس پڑا اور راہ حق میں دیوانہ وار تلوار چلانا ہوسکے تو دشمن کے سپہ سالار پرٹوٹ پڑنا۔ اگر کامیاب رہے تو بہتر اور اگر شہادت نصیب ہوئی تو یہ اس سے بھی بہتر کہ آخرت کی فضیلت کےمستحق ہوگے]

چاروں نونہالوں نے یک زبان ہوکر کہا۔

”اے مادر محترم! ان شاء اللہ ہم آپ کی توقعات پر پورے اتریں گے اور آپ ہمیں ثابت قدم پائیں گی۔”

صبح جب معرکہ کارزار گرم ہوا تو اس خاتون کے چاروں فرزند اپنے گھوڑوں کی باگیں اٹھائے ، رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے ایک ساتھ میادن جنگ میں کود پڑے۔

بزرگ خاتون ، جس کے چہرے پر عجیب قسم کا جلال تھا، اپنے فرزندوں کو میدان رزم میں بھیج کر بارگاہ الہٰی میں یوں عرض پیرا ہوئی۔

”الہٰی میری متاع عزیز یہی کچھ تھی، اب تیرے سپرد ہے۔😢 ”

اپنی ماں کی تقریر سن کر ان نوجوانوں کے دلوں میں رات ہی سے شوق شہادت کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ اب جو لڑائی کا موقع ملا تو ایسی وارفتگی سے لڑے کہ شجاعت بھی آفرین پکار اٹھی جس طرح جھک پڑتے تھے۔ غنیم کے پّرے کے پّرے صاف ہوجاتے تھے۔ آخر دشمن کے سینکڑوں جنگجوؤں نے انہیں اپنے نرغہ میں لے لیا۔اس حالت میں بھی یہ سرفروش مطلق ہراساں نہ ہوئے اور دشمن کے بیسیوں سپاہیوں کو خاک و خون میں لوٹا کر خود بھی رتبہ شہادت پر فائز ہوگئے۔❤️❤️❤️❤️

جب اس خاتون نے اپنے بچوں کی شہادت کی خبر سنی تو نالہ و فریاد کرنے کے بجائے بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہوگئی اور اس کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ جاری ہوگئے۔❤️❤️❤️

”اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اپنے فرزندوں کے قتل سے مشرف کیا۔ باری تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ قیامت کے دن مجھے ان بچوں کے ساتھ اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔”❤️❤️❤️

یہ ضعیف العمر خاتون جنہوں نے تسلیم و رضا اور صبر و تحمل کا ایسا مظاہرہ کیا کہ چشم فلک نے کبھی اس کی نظیر نہ دیکھی تھی، عرب کی عظیم مرثیہ گو حضرت خنساؓء بنت عمرو تھیں۔واللہ اعلم و رسُول اعلم.

اب بہادر نظر نہیں آتے کیونکہ ایسی مائیں شاید نہیں دہی.

ہماری اس امت کے لیے یہ ایک میسج ہے میرا کام آپ تک پہنچانا تھا.

Loading