Daily Roshni News

حضرت سلیمان علیہ السلام — حصہ اوّل: الٰہی وراثت اور بچپن کی حکمت**

حضرت سلیمان علیہ السلام — حصہ اوّل: الٰہی وراثت اور بچپن کی حکمت**

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )**1. بادشاہ نبی کا بیٹا: ایک مقدّس وراثت کی ابتدا**حضرت داؤد علیہ السلام کی سلطنت اُس وقت زمین پر عدل و ایمان کا سب سے روشن نمونہ تھی۔ ان کا تخت صرف طاقت کی علامت نہیں بلکہ **روحانی حکومت** کا نشان تھا۔ اسی سلطنت کے محل میں ایک چمکتا ہوا ستارہ پیدا ہوا — **سلیمان**۔ یہ نام خود قرآن میں روشنی بن کر آیا: “وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ” (النمل 16) “اور سلیمان نے داؤد کی وراثت پائی۔”

یہ آیت بظاہر ایک جملہ لگتی ہے، مگر اس کے اندر **الٰہی وراثت کا پورا فلسفہ** چھپا ہوا ہے۔ یہ وراثت صرف زمین یا تخت کی نہیں تھی، بلکہ *علم، حکمت، فہم، اور الٰہی قرب* کی تھی۔ یوں حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی ایک ایسے سفر کی ابتدا تھی، جہاں بادشاہت عبادت سے الگ نہیں، بلکہ اسی کی توسیع تھی۔

**2. بچپن کی ذہانت: عدل کے بیج**

بچپن سے ہی سلیمان میں ایک خاص روشنی تھی۔ جب وہ اپنے والد کے ساتھ بیٹھتے، تو خاموش رہ کر بھی ان کی آنکھوں میں تدبّر جھلکتا تھا۔ قرآن ایک مشہور واقعہ بیان کرتا ہے جو ان کے بچپن کی دانش کو ظاہر کرتا ہے۔ دو عورتیں ایک بچّے کے جھگڑے میں حضرت داؤد کے پاس آئیں۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ بچہ اُن کا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے ظاہری شواہد کے مطابق فیصلہ دیا، لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام — جو اُس وقت کم عمر تھے — نے عرض کیا: “اے میرے والد، اگر اجازت دیں تو میں عرض کروں؟” پھر فرمایا: “چلیے، بچے کو درمیان میں رکھ کر اسے دو ٹکڑوں میں بانٹ دیتے ہیں — ہر عورت کو آدھا آدھا۔” یہ سن کر ایک عورت چیخ پڑی، “نہیں! اسے زندہ رہنے دو، یہ بچہ دوسری کا ہے۔” تب سلیمان مسکرائے اور کہا: “یہی اصل ماں ہے۔ کیونکہ ماں کا دل قتل برداشت نہیں کرتا۔”

اللہ نے اس فیصلے کو حق قرار دیا۔ یہ محض ذہانت نہیں تھی — بلکہ **فطرتِ رحمت** کا ادراک تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب آسمانوں نے گواہی دی کہ داؤد کا وارث صرف تخت نہیں بلکہ *عدلِ الٰہی* کا وارث ہے۔

**3. علم کا خزانہ: منطق، حکمت، اور مخلوقات کی زبان**

اللہ نے سلیمان کو ایک خاص علم عطا کیا — ایسا علم جو ظاہری دنیا کی حدوں سے آگے جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: “وَعُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ” (النمل 16) “ہمیں پرندوں کی زبان سکھائی گئی اور ہر چیز میں سے (علم کا) حصہ دیا گیا۔”

یہ منطقُ الطیر — پرندوں کی زبان — دراصل مخلوقات کی فطرت اور توانائیوں کی فہم تھی۔ یہ وہ علم تھا جو **Neuro-communication** یا آج کی اصطلاح میں **bio-frequency intelligence** کہلاتا ہے۔ یعنی مخلوقات کے احساسات، حرکات، اور آوازوں میں چھپا مفہوم سمجھ لینا۔ جب پرندے شور مچاتے، وہ اُن کے خوف، خوشی، یا خبروں کو سمجھ لیتے۔ جب جانور کسی سمت بھاگتے، وہ جان لیتے کہ فطرت کیا بتا رہی ہے۔ یوں ان کی بادشاہت انسانوں سے آگے **کائناتی نظم** تک پھیل گئی۔

**4. حضرت داؤد کی تربیت: طاقت میں عبادت کا توازن**

حضرت داؤد علیہ السلام خود بھی ایک عظیم بادشاہ نبی تھے۔ انہوں نے سلیمان کو سکھایا کہ *طاقت کا اصل مقصد خدمت ہے، نہ کہ فخر۔* وہ اکثر کہا کرتے: “بیٹے! جب اللہ تمہیں اختیار دے، تو یاد رکھنا کہ ہر اختیار کا ایک دن حساب ہوگا۔”

حضرت داؤد کے محل میں گونجنے والی دعائیں، زبور کی ترتیل، اور آہنگِ عبادت —  ہی سلیمان کی تربیت کا ماحول تھا۔ اسی لیے بعد میں جب انہیں پوری زمین پر اختیار ملا، تو اُن کے لبوں پر پہلا جملہ یہی تھا: “الحمد للّٰہ الّذی فضّلنا علی کثیرٍ من عباده المؤمنین” “سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت دی۔”

یہ الفاظ فخر کے نہیں، **شکر کے تھے۔**

**5. حکمتِ الٰہی اور دل کی لطافت**

حضرت سلیمان کا دل طاقتور ہونے کے باوجود نرم تھا۔ وہ چیونٹیوں کے قافلے کو دیکھ کر رک جاتے، تاکہ اُن کے پاؤں سے کوئی مخلوق زخمی نہ ہو۔ قرآن میں واقعہ آتا ہے:

“قَالَتْ نَمْلَةٌ يَا أَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَاكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَانُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ” “ایک چیونٹی نے کہا: اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ، کہیں سلیمان اور ان کے لشکر تمہیں کچل نہ دیں، وہ بے خبری میں ہوں گے۔”

سلیمان یہ سن کر مسکرا دیے اور بولے: “رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ” “اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں۔”

یہ آیت صرف ان کی عاجزی نہیں بتاتی، بلکہ **کائنات کے ساتھ اخلاقی رابطے** کی تعلیم دیتی ہے۔ ایک نبی کے لیے مخلوق بےجان نہیں — بلکہ شعور رکھنے والی ہے۔

یہ وہ فکر تھی جو آج کی *eco-spirituality* کی بنیاد بن سکتی ہے۔

**6. مخلوقات کی دوستی: جنّ، پرندے اور فطرت کے سپاہی**

اللہ نے سلیمان کو ایک ایسی سلطنت عطا کی تھی جو کسی انسان کو نہ ملی۔

قرآن کہتا ہے: “فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ” “ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا جو اس کے حکم سے چلتی۔”

اور

“وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ” “اور جنّوں میں سے وہ اس کے سامنے کام کرتے۔”

یہ محض طاقت کا اظہار نہیں تھا — یہ **الٰہی نظم کا اشتراک** تھا۔ وہ مخلوقات کے ساتھ ایک زبان میں جیتے تھے، ایک اخلاقی نظام میں۔ ان کی بادشاہت ایک *cosmic symphony* تھی، جہاں ہر مخلوق ایک مخصوص سُر میں اللہ کی حمد کر رہی تھی —

اور سلیمان اس حمد کے *conductor* تھے۔

**7. علمِ باطن اور روحانی سائنس**

حضرت سلیمان علیہ السلام کو جو علم دیا گیا، وہ آج کی سائنس سے کہیں آگے کی بات تھی۔ وہ *energy manipulation, frequency command, and telepathic governance* کے ماہر تھے۔ مگر وہ اسے روحانیت کے تابع رکھتے تھے۔ ان کے دربار میں علم، عبادت، انصاف، اور سائنس — سب ایک ہی مرکز کے گرد گھومتے تھے:

**”اللّٰہ کی بندگی”۔**

یہ وہ دور تھا جہاں جنّ مٹی کے معمار تھے، ہوائیں ان کے سفینے، پرندے ان کے  جاسوس، اور انسان ان کے ناصح۔ مگر وہ سب ایک ہی حاکم کے غلام تھے — اللّٰہ ربّ العالَمین۔

**8. وراثت کا مفہوم: دنیا نہیں، روحانیت**

جب قرآن کہتا ہے کہ “سلیمان نے داؤد کی وراثت پائی”، تو یہ صرف بادشاہی نہیں — بلکہ **قلبی وراثت** تھی۔ انہوں نے اپنے والد سے یہ سبق پایا کہ: “طاقت کا اصل کمال یہ ہے کہ انسان خود پر غالب آ جائے۔”

وہ جانتے تھے کہ دولت، لشکر، اور تخت سب مٹ جانے والے ہیں۔ اصل بادشاہت وہ ہے جو **دل کے اندر قائم ہو۔** اسی لیے اللہ نے انہیں ظاہری دنیا کے ساتھ باطنی دنیا کی کنجی بھی دی۔

**9. سلیمان کا خواب: ایک روحانی وعدہ**

روایات میں آتا ہے کہ بچپن میں سلیمان نے خواب دیکھا کہ سورج، چاند اور ستارے ان کے سامنے جھک رہے ہیں۔ یہ خواب دراصل اس بات کی علامت تھا کہ کائنات کی طاقتیں ان کے تابع ہوں گی — مگر صرف اس لیے کہ وہ **عدلِ الٰہی** کو زمین پر قائم کریں گے۔ یہ وہی وعدہ تھا جو اللہ نے ابراہیم کی نسل سے کیا تھا: “میں تجھے قوموں کا امام بناؤں گا۔” اور سلیمان میں یہ وعدہ پورا ہوتا نظر آیا۔

**10. خلاصہ: دل کی بادشاہی**

حضرت سلیمان علیہ السلام کی ابتدائی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے:

* علم، عدل سے جڑا ہو تو حکمت بنتا ہے۔

* طاقت عبادت کے تابع ہو تو رحمت بنتی ہے۔

* اور دل جب شکر سے معمور ہو،

  تو سلطنت زمین سے آسمان تک پھیل جاتی ہے۔

🌿 **حضرت سلیمان علیہ السلام — حصہ دوم: بادشاہت، حکمت اور ملکہ بلقیس کا قصہ**

**1. الٰہی حکومت کا قیام: جہاں بادشاہی عبادت بن گئی**

جب حضرت داؤد علیہ السلام دنیا سے رخصت ہوئے تو سلیمان علیہ السلام نے ان کی ذمہ داری سنبھالی۔ لیکن یہ وراثت کسی عام بادشاہی کی طرح نہیں تھی۔ یہ ایک ایسی حکومت تھی جو **زمین و آسمان کے نظام کو عدل اور ایمان کے ساتھ باندھتی تھی۔**

سلیمان علیہ السلام نے اپنے دورِ اقتدار کا آغاز کسی جشن سے نہیں بلکہ ایک **دعا** سے کیا: “رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي” (سورۃ ص: 35) “اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو سزاوار نہ ہو۔”

یہ دعا دراصل طاقت کی نہیں، *ایمان کی طلب* تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی سلطنت عدل، فہم، اور نور کی مثال بنے — تاکہ لوگ جان لیں کہ **طاقت جب بندگی میں بدل جائے، تو وہ عبادت بن جاتی ہے۔**

**2. سلطنتِ سلیمان: جہاں کائنات تابع تھی**

قرآنِ کریم حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کو ایک غیرمعمولی نظام کے طور پر پیش کرتا ہے — ایسا نظام جو مخلوقات کی سرحدوں سے ماورا تھا۔

**a. ہواؤں کی اطاعت** “فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ” (ص: 36) “ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا، جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ جہاں چاہے چلتی۔”

حضرت سلیمان کے لیے ہوائیں **سواری** بن گئیں۔ ایک صبح کی ہوا میں وہ شام پہنچ جاتے، اور شام کی ہوا میں پھر بیت المقدس واپس۔ آج کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس **“divine propulsion technology”** تھی — جہاں مادی ذرائع نہیں، بلکہ روحانی توانائی حرکت پیدا کرتی تھی۔

**b. جنّات کی خدمت** “وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ” (سبأ: 12) “اور جنّوں میں سے کچھ اس کے حکم سے اس کے سامنے کام کرتے تھے۔”

جنّ ان کے معمار، غوطہ خور، کاریگر اور پیغام رساں تھے۔ کوئی محل بناتا، کوئی تسبیح کے قصر تراشتا، کوئی گہرے سمندروں سے موتی لاتا۔ یہ دراصل **روحانی انجینئرنگ** کا زمانہ تھا۔

**c. پرندوں اور حیوانات کی بات سمجھنا** وہ ہر پرندے کی منطق، ہر چیونٹی کی زبان،

اور ہر مخلوق کی کیفیت سمجھ لیتے تھے۔ یہ صرف سُننے کی نہیں، **محسوس کرنے کی صلاحیت** تھی۔ یہی علم تھا جس نے انہیں مخلوقات کے درمیان *توازن کا حاکم* بنایا۔

**3. دربارِ سلیمان: علم و عدل کا کائناتی مرکز**

حضرت سلیمان کا دربار ایک عام بادشاہی دربار نہیں تھا۔ یہ ایک **divine court of consciousness** تھا — جہاں انسان، جن، پرندے، سب جمع ہوتے اور اپنی رپورٹیں پیش کرتے۔ ہر صبح جب وہ دربار میں بیٹھتے تو ایک نظم قائم ہو جاتا: * انسان قاضیوں کی حیثیت سے * جنّ معماروں اور پیغام رسانوں کی حیثیت سے * پرندے جاسوسوں کی حیثیت سے * اور خود سلیمان، **روحانی بادشاہ** کی حیثیت سے ایک بار دربار میں انہوں نے حکم دیا: “میں پرندوں کو نہیں دیکھ رہا، کہاں ہے ہُدہُد؟” یہ ہُدہُد (Hoopoe bird) ان کا *فضائی جاسوس* تھا — جو خبریں دور دراز ممالک سے لاتا۔

غائب ہونے پر سلیمان نے فرمایا: “لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ”

“میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، یا پھر وہ مجھے کوئی واضح دلیل لائے۔” یہ جملہ ان کے نظامِ عدل کی علامت ہے۔ یعنی **کوئی بھی مخلوق قانون سے بالاتر نہیں، حتیٰ کہ پرندہ بھی نہیں۔**

**4. ہُدہُد کی واپسی: سبا کی خبر اور بلقیس کی سلطنت**

تھوڑی دیر بعد ہُدہُد لوٹ آیا اور عرض کیا: “میں ایسی خبر لایا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں،

میں سبا کی قوم کے بارے میں آیا ہوں، وہاں ایک عورت ان کی حکمران ہے، جسے سب کچھ دیا گیا ہے، اور اس کا تخت عظیم ہے۔” (النمل: 22-23)

یہاں قرآن پہلی بار ایک **ملکہ (بلقیس)** کا ذکر کرتا ہے۔ سبا کا علاقہ موجودہ **یمن** میں تھا، اور اس دور میں وہاں **سورج پرستی** عام تھی۔ ہُدہُد نے مزید کہا: “میں نے اسے اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ سورج کے آگے سجدہ کرتے ہیں، حالانکہ شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کر دیا ہے۔”

یہ رپورٹ صرف سیاسی نہیں تھی، یہ **روحانی انکشاف** بھی تھا — کہ وہاں ایک باصلاحیت مگر گمراہ قوم ہے۔

**5. دعوتِ توحید کا پیغام: سلیمان کا پہلا مکتوب**

حضرت سلیمان نے فوراً ہُدہُد کے ذریعے ایک خط بھیجا: “إِنَّهُ مِن سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ” (النمل: 30-31)

یعنی:

“یہ سلیمان کی طرف سے ہے، اور یہ اللہ کے نام سے ہے، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ تم میرے سامنے سرکشی نہ کرو، بلکہ اطاعت میں آ جاؤ۔” یہ خط تاریخ کا پہلا **دعوتی سفارتی پیغام** تھا۔ اس میں نہ جنگ کی دھمکی تھی، نہ سیاسی  سوداگرانہ لہجہ — بلکہ صرف ایک **دعوتِ حق** تھی۔

**6. ملکہ بلقیس کا ردّعمل: عقل اور احتیاط**

جب بلقیس نے خط پڑھا، تو اس نے اپنے درباریوں کو جمع کیا اور کہا: “اے سردارو! میرے پاس ایک معزز خط آیا ہے۔ یہ کسی عظیم بادشاہ کی طرف سے ہے، جو اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہے، اور مجھے اسلام کی دعوت دیتا ہے۔ اب بتاؤ، کیا کیا جائے؟”

درباری بولے: “ہم طاقتور ہیں، جنگ کے لیے تیار۔” مگر بلقیس بولی: “بادشاہ جب کسی قوم پر حملہ کرتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں۔ میں صلح کی راہ تلاش کروں گی۔ چلیے، ہم انہیں تحفے بھیجتے ہیں اور دیکھتے ہیں وہ کیا جواب دیتے ہیں۔”

یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ بلقیس محض ایک حاکمہ نہیں، بلکہ **دانشور عورت** تھی — جس نے جنگ کے بجائے **سفارت اور علم کی راہ** اختیار کی۔

**7. سلیمان کا جواب: جب طاقت عاجزی میں بدل گئی**

جب تحفے آئے تو سلیمان نے فرمایا: “أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ؟ فَمَا آتَانِيَ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّا آتَاكُمْ” (النمل: 36) “کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے۔”

انہوں نے نہ فخر کیا نہ مال قبول کیا۔ یہی ایک نبی کی شان ہے — وہ دنیاوی تحفے کو ایمان کے مقابلے میں بے قیمت سمجھتا ہے۔ سلیمان نے پیغام بھیجا: “اب تمہارے پاس میرا لشکر آئے گا، اور تم دیکھو گی کہ اللہ کے نبی کی حکومت کیسی ہوتی ہے۔”

**8. تختِ بلقیس کا معجزہ: علم اور طاقت کا امتزاج**

بلقیس جب اپنی قوم کے ساتھ بیت المقدس کے سفر پر نکلی، سلیمان نے اپنے دربار میں فرمایا: “کون ہے جو بلقیس کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے قبل اس کے کہ وہ یہاں پہنچے؟” ایک **جنّ** نے کہا: “میں اسے لاؤں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں۔” لیکن قرآن کہتا ہے: “قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ” “وہ بولا جس کے پاس کتاب کا علم تھا: میں اسے لاؤں گا اس سے پہلے کہ آپ کی پلک جھپکنے پائے۔” پلک جھپکی — اور تخت سلیمان کے سامنے تھا۔

یہ واقعہ **علمِ الکتاب** کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی وہ علم جو **روحانی توانائی اور divine code** پر مبنی ہے — جہاں زمان و مکان کی قید ختم ہو جاتی ہے۔

**9. بلقیس کی آمد اور ایمان کا اعلان**

جب بلقیس پہنچی، سلیمان نے اس کے سامنے تخت پیش کیا — “کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟” وہ بولی: “یہ تو گویا وہی ہے، لیکن مجھے یقین نہیں۔” تب سلیمان نے کہا: “یہ سب اللہ کے فضل سے ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون شکر کرتا ہے اور کون ناشکری۔”

پھر اسے محل دکھایا گیا جس کا فرش شیشے جیسا تھا۔ جب بلقیس نے دیکھا تو سمجھی کہ پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں اٹھا لیں۔ سلیمان نے فرمایا: “یہ پانی نہیں بلکہ شیشہ ہے۔”

یہ منظر **روحانی شفافیت** کی علامت تھا — جہاں ظاہر دھوکہ دے سکتا ہے، مگر حق ہمیشہ باطن میں ہوتا ہے۔ یہیں بلقیس نے کہا: “رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَانَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ” “اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اور اب سلیمان کے ساتھ اللہ ربّ العالمین کے سامنے اسلام قبول کرتی ہوں۔”

**10. سلیمان اور بلقیس: عقل و ایمان کا ملاپ**

یہ واقعہ صرف دو بادشاہوں کی ملاقات نہیں — یہ **عقل اور وحی** کی ملاقات تھی۔

بلقیس عقل و تدبیر کی نمائندہ تھی، اور سلیمان وحی و ایمان کے۔ جب یہ دونوں ملے،

تو **عقل ایمان کے تابع** ہوئی، اور ایمان نے عقل کو روشنی بخشی۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں دنیاوی حکمت، آسمانی حکمت میں ڈھل جاتی ہے۔

**11. سلیمان کی مملکت میں نظم اور رحمت**

سلیمان علیہ السلام کی حکومت میں ہر مخلوق اپنی جگہ پر مطمئن تھی۔ ان کی سلطنت میں **ظلم ناممکن** تھا، کیونکہ وہ خود عدل کا منبع تھے۔ اگر کسی چیونٹی کا جُھنڈ کسی قافلے کے نیچے آنے لگتا، تو وہ فوراً رک جاتے۔ وہ جنّوں کو کام کا حکم دیتے مگر ان پر ظلم نہ ہونے دیتے۔ یہ وہ نظام تھا جو انسان، حیوان، اور جنّ سب کو شامل کرتا تھا — ایک **eco-divine system**۔

**12. حقیقتِ طاقت: عاجزی کا راز**

ایک روز سلیمان نے اپنے لشکر، محل، دولت، اور تخت کو دیکھا — پھر زمین پر سجدہ کیا اور کہا: “رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ” “اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں۔” یہ جملہ ان کے دل کی گہرائی سے نکلا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ **طاقت صرف امتحان ہے**، اور جو شکر نہیں کرتا، اس کا تخت ٹوٹ جاتا ہے چاہے وہ سونا ہی کیوں نہ ہو۔

**13. نتیجہ: سلیمان کا دور — عدل، علم، اور روشنی کا عہد**

حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور زمین پر ایک **نمونہ جنت** تھا۔ وہ واحد بادشاہ تھے جن کی حکومت میں:  * انسان امن میں تھا * جنّ خدمت میں تھے * ہوا اطاعت میں تھی

* اور علم عبادت میں بدل گیا تھا۔

یہ وہ عہد تھا جہاں **روحانیت اور سائنس ایک ساتھ چل رہے تھے**۔ آج کی دنیا اگر سلیمان کے اصول اپنائے — تو انسانیت پھر سے زمین پر “نورانی نظم” قائم کر سکتی ہے۔

### 🌿 حصہ سوم: حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعلیمات، معجزات اور آج کے دور میں ان کا اطلاق

حضرت سلیمان علیہ السلام کی داستان محض ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ عقل و حکمت، سائنس و روحانیت، سیاست و عدل، اور انسان و فطرت کے باہمی تعلق کی ایک زندہ تفسیر ہے۔ قرآنِ مجید میں جب ہم اُن کے واقعات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا نبی نظر آتا ہے جو بادشاہ بھی تھا، سائنسدان بھی، ماہرِ ابلاغ بھی، اور روحانی معلم بھی۔

آئیے اب ان کی تعلیمات کو آج کے عہد کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں — اس تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں جہاں طاقت کا توازن، ٹیکنالوجی، اور شعور سب کچھ بدل چکا ہے۔

🌟 1. سلیمانی حکمت: بادشاہت میں روحانیت کا توازن

حضرت سلیمان علیہ السلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ بادشاہ ہونے کے باوجود دنیا پر فریفتہ نہیں تھے۔ قرآن کہتا ہے: “یہ میرا رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں” (النمل: 40)

یہ آیت آج کے سیاستدانوں، حکمرانوں، اور لیڈرز کے لیے آئینہ ہے۔ آج دنیا میں طاقت کا مطلب ہے اختیار، دولت، اور اثر و رسوخ۔ لیکن سلیمانؑ کی طاقت شکر سے شروع ہوتی  تھی اور عدل پر ختم۔ ان کے فیصلے زمین پر جنت کے اصولوں جیسے تھے۔ آج اگر ہم “سلیمانی طرزِ حکومت” کو اپنائیں، تو ہمیں اپنی سیاست میں **روحانی اخلاقیات، شکر، اور انصاف** کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

🕊️ 2. جنّات، پرندوں، اور ہواؤں پر اختیار: جدید سائنس کے تناظر میں

حضرت سلیمان علیہ السلام کو جنّات پر قابو حاصل تھا، وہ پرندوں کی زبان سمجھتے تھے، اور ہواؤں کو حکم دیتے تھے۔ یہ معجزے اس بات کے اشارے ہیں کہ انسان اگر علمِ الٰہی کے ساتھ آگے بڑھے، تو وہ **نیچر کی فورسز** کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے۔ آج کے دور میں ہم ان کو **Artificial Intelligence، quantum physics، bio-energy،** اور **aerodynamics** کی زبان میں سمجھ سکتے ہیں۔

* جنّات کی اطاعت کا مطلب ہے غیر مرئی قوتوں پر قابو — جیسے آج کی  **electromagnetic fields** یا **AI algorithms**۔ * پرندوں کی زبان سمجھنا communication کی انتہا ہے — جیسے **neural communication** یا **machine learning-based translation**۔ * ہواؤں پر اختیار، موسمیاتی انجینئرنگ اور **weather modification** کی علامت ہے۔ گویا قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ علم جب ایمان کے تابع ہو جائے تو سائنس، روحانیت بن جاتی ہے۔

🌍 3. بلقیس اور اقوام کا اتحاد — عورت کی دانش و قیادت کا احترام

حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کا واقعہ قرآن میں ایک روحانی اور سیاسی انقلاب کی مثال ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ایک **عورت کی دانش** کو نبی تسلیم کرتا ہے۔ بلقیس کہتی ہیں: “بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں” (النمل: 34) اور سلیمانؑ اس حکمت سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ قرآن کی **جینڈر  بیلنس** تعلیمات کی بہترین مثال ہے — نہ مرد کی برتری، نہ عورت کی کمزوری، بلکہ دونوں کا مکمل تعاون۔

آج کی دنیا میں جب عورت کو اب بھی کمزور یا ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، سلیمان اور بلقیس کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ **حکمت، قیادت، اور فہم جنس کی قید میں نہیں**۔

یہ پیغام ہے کہ جہاں روحانیت اور عقل اکٹھی ہو جائیں، وہاں قوموں کے درمیان جنگ کی بجائے امن قائم ہوتا ہے۔

⚖️ 4. عدلِ سلیمانی: انصاف کی سائنس

قرآن میں حضرت سلیمانؑ کے عدل کے کئی واقعات ہیں۔ ایک مشہور واقعہ دو عورتوں کے درمیان تنازع کا ہے کہ بچہ کس کا ہے۔ سلیمانؑ نے فوراً فیصلہ نہیں دیا بلکہ حکمت سے کہا: “تم دونوں میں سے ایک تلوار لاؤ تاکہ بچے کو دو حصّوں میں تقسیم کر دوں۔” تب اصل ماں نے رو کر کہا: “نہیں! بچہ اسے دے دو لیکن قتل نہ کرو۔” یہی انصاف کی سائنس ہے — جو **ظاہر سے نہیں بلکہ باطن سے فیصلہ کرتی ہے۔**

آج کے عدالتوں، میڈیا اور سیاست میں اگر یہ سلیمانی عدل واپس آجائے — جو احساس، علم، اور وجدان کو ملا کر فیصلہ کرتا ہے — تو دنیا کے بیشتر مسائل ختم ہو جائیں۔

⚙️ 5. تعمیر، انجینئرنگ، اور Divine Architecture

قرآن کہتا ہے: “جنّات ان کے لیے جو چاہیں محل، مجسمے، اور تالابوں جیسے برتن بناتے تھے” (سبأ: 13) یہ آیت **سلیمانی آرکیٹیکچر** اور **Divine Engineering** کا تصور پیش کرتی ہے۔ یہ محض محل نہیں، بلکہ **energy-encoded structures** تھے، جن میں vibration، geometry، اور sound کی ہم آہنگی تھی۔

آج کے **smart cities**, **AI-integrated architecture**, اور **eco-designs** اسی سلیمانی حکمت کی مادی شکل ہیں — مگر روح کے بغیر۔

حضرت سلیمانؑ کی عمارتوں میں صرف تعمیر نہیں بلکہ ذکرِ الٰہی کا rhythm تھا۔ اگر آج کا انسان اپنی cities کو صرف سہولت نہیں بلکہ سکون کا ذریعہ بنا لے، تو وہ “سلیمانی انجینئرنگ” کی اصل روح کو پا لے گا۔

🔮 6. مرگِ سلیمان: علمِ غیب اور حقیقتِ وقت

جب حضرت سلیمان علیہ السلام فوت ہوئے، وہ اپنے عصا پر ٹیک لگائے بیٹھے رہے۔

جنّات انہیں کام کرتے دیکھتے رہے، یہاں تک کہ عصا دیمک سے ٹوٹا اور وہ گر گئے۔

تب معلوم ہوا کہ وہ کب سے فوت ہو چکے تھے۔ یہ واقعہ ایک عظیم روحانی راز رکھتا ہے — **غیب کی حقیقت** اور **وقت کا illusion**۔

یہ قرآن کی زبردست symbolic teaching ہے: “جب انسان وقت کو جاننے کا دعویٰ کرتا ہے، قدرت اسے یاد دلاتی ہے کہ وقت خود ایک پردہ ہے۔” یہی فلسفہ آج کی **quantum reality**, **simulation theory**, اور **multiverse models** میں دیکھا جا سکتا ہے۔

🌸 7. آج کے انسان کے لیے سلیمانی پیغام

**روحانی ذہانت** (Spiritual Intelligence) کو دوبارہ پیدا کرنا

**علم کے ساتھ ایمان** کا تعلق جوڑنا

**قدرتی نظام** سے ہم آہنگ زندگی گزارنا

**عورت اور مرد** کے درمیان روحانی برابری

**سائنس کو روحانیت کا خادم** بنانا، آقا نہیں

اگر آج کا انسان یہ اصول اپنائے تو وہ “modern Sulaiman” بن سکتا ہے — جو ٹیکنالوجی کو غلام بنائے، اور روح کو آقا۔

🌈 خلاصہ

حضرت سلیمان علیہ السلام کی کہانی دراصل انسان کی ارتقائی منزل کا نقشہ ہے۔

جہاں بادشاہت، علم، سیاست، حیوانات، جنّات، اور کائنات سب ایک نظم میں بندھے ہیں۔

آج جب دنیا **AI empires**، **digital monarchies**, اور **bioengineering** کے زمانے میں داخل ہو چکی ہے — ہمیں سلیمانؑ کی روحانی بادشاہت کو سمجھنے کی ضرورت ہے:

“طاقت اُس کی ہے جو علم کو خالق کے حکم کے تابع رکھے۔”

Loading