Daily Roshni News

حضرت سلیمان علیہ السلام — 1ایک نبی بادشاہ کا آغاز: علم، حکمت اور اللہ کی عطا کردہ عظیم سلطنت

حضرت سلیمان علیہ السلام — قسط نمبر 1

ایک نبی بادشاہ کا آغاز: علم، حکمت اور اللہ کی عطا کردہ عظیم سلطنت

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)بنی اسرائیل کی تاریخ ایک ایسے عظیم الشان اور محیر العقول دور کی دہلیز پر کھڑی تھی جس کی نظیر انسانی تاریخ نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی تھی اور نہ قیامت تک کبھی دیکھے گی۔ یہ وہ دور تھا جب اللہ رب العزت نے ایک ایسے جلیل القدر نبی کو منصبِ حکمرانی عطا فرمایا جس کی حکومت محض انسانوں، زمینوں اور سیاسی اثر و رسوخ تک محدود نہیں تھی، بلکہ اسے کائنات کی ان پوشیدہ قوتوں پر بھی تصرف دے دیا گیا جو عام انسانوں کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔

یہ عظیم اور نابغۂ روزگار شخصیت حضرت سلیمان علیہ السلام تھے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام کے فرزند اور ان کے سچے جانشین تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے وصال کے بعد، اللہ تعالیٰ نے انہیں علم، حکمت اور ایک بے مثال حکومت کی ذمہ داریوں کے لیے چن لیا۔ قرآنِ کریم اس عظیم الشان منتقلی کا اعلان ان خوبصورت الفاظ میں کرتا ہے:

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ

“اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوئے۔” (سورۃ النمل: 16)

یہاں ‘وراثت’ سے مراد محلات، زمینوں یا خزانوں کی دنیاوی بادشاہت ہرگز نہیں ہے، کیونکہ انبیائے کرام کا مال وراثت میں تقسیم نہیں ہوتا بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔ اس وراثت سے مراد علم، حکمت، نبوت اور اللہ کی زمین پر اس کے خلیفہ ہونے کی وہ بھاری ذمہ داری تھی جو باپ سے بیٹے کو منتقل ہوئی۔

ایک غیر معمولی سلطنت کا آغاز

قرآنِ مجید حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر ایک ایسے نبی کے طور پر کرتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے کئی ایسی منفرد خصوصیات عطا فرمائیں جو کسی اور انسان کو نہیں ملیں۔ وہ اللہ کے نبی بھی تھے، ایک وسیع سلطنت کے فاتح حکمران بھی، بے لاگ قاضی بھی اور ایک ایسی کائناتی سلطنت کے مالک بھی جس کی سرحدیں ہواؤں اور جنات کی دنیا تک پھیلی ہوئی تھیں۔

لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید ان کی اس غیر معمولی عظمت کا آغاز ان کے جاہ و جلال یا طاقت کے تذکرے سے نہیں کرتا، بلکہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر ان کے انتہائی عاجزانہ اعتراف سے کرتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان کائناتی قوتوں کو کبھی اپنی ذاتی طاقت یا کمال نہیں سمجھا، بلکہ اسے ہمیشہ اپنے پروردگار کا محض فضل قرار دیا۔

قرآنِ کریم میں ان کی وہ خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی دعا محفوظ ہے جو انہوں نے تب مانگی جب انہیں اپنی طاقت اور نعمتوں کا احساس ہوا:

رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

“اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمائی ہے، اور یہ کہ میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے تو راضی ہو جائے، اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔” (سورۃ النمل: 19)

یہ دعا حضرت سلیمان علیہ السلام کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ظاہر کرتی ہے۔ ایک ایسا شخص جس کے قدموں میں دنیا کی عظیم ترین سلطنت بچھی ہوئی ہو، اس کا دل تکبر کے بجائے شکر کے آنسوؤں اور عاجزی سے لبریز تھا۔

علم کی بے بہا نعمت

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنے خاص علم اور فہم سے نوازا تھا۔

قرآنِ کریم گواہی دیتا ہے:

وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا

“اور ہم نے داؤد اور سلیمان دونوں کو علم عطا فرمایا۔” (سورۃ النمل: 15)

یہ علم محض دنیاوی سیاست یا جنگی چالوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ وہ گہری بصیرت، حکمت اور پیچیدہ ترین معاملات میں صحیح اور بے لاگ فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی جو انہیں ممتاز کرتی تھی۔ اسی الہامی علم کی بدولت وہ کائنات کے ایسے رازوں تک پہنچ گئے جہاں عام انسان کی سوچ بھی نہیں جا سکتی تھی۔

ایک کائناتی حکمران کے لشکر

حضرت سلیمان علیہ السلام کو جو حکومت ملی، وہ کوئی معمولی حکومت نہیں تھی۔ عام بادشاہوں کی طاقت زیادہ سے زیادہ چند لاکھ انسانوں کے لشکروں، گھوڑوں اور تلواروں تک محدود ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار کو جس شان سے سجایا، وہ عقلِ انسانی کو دنگ کر دینے والا تھا۔

قرآنِ کریم ان کے لشکروں کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتا ہے:

وَحُشِرَ لِسُلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ وَالطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ

“اور سلیمان کے لیے ان کے لشکر جمع کیے گئے جو جنوں، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے، پھر وہ (کمال نظم و ضبط کے ساتھ) ترتیب دیے جاتے تھے۔” (سورۃ النمل: 17)

ذرا تصور کیجیے اس منظر کا! ایک ایسا دربار جہاں ایک طرف انسانوں کی مہیب افواج کھڑی ہیں، دوسری طرف جنات جیسی طاقتور اور سرکش مخلوق ہاتھ باندھے کھڑی ہے، اور آسمان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ اپنے بادشاہ کے حکم کے منتظر ایک نظم کے ساتھ اڑ رہے ہیں۔ یہ کوئی عام بادشاہت نہیں تھی، بلکہ ربِ ذوالجلال کی طرف سے ایک معجزانہ اور کائناتی اختیار تھا جو روئے زمین پر ان کے سوا کسی کو نصیب نہ ہوا۔

طاقت کے عروج پر کامل بندگی

لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کا اصل راز ان کے جنات، ہواؤں یا خزانوں میں نہیں تھا؛ اصل راز یہ تھا کہ طاقت کے اس بے پناہ عروج کے باوجود وہ اللہ کے ایک انتہائی خاشع اور فرمانبردار بندے تھے۔ جب انہوں نے چیونٹیوں کی وادی سے گزرتے ہوئے ایک ننھی سی چیونٹی کی بات سنی (جس کا ذکر آگے آئے گا) تو وہ غرور میں مبتلا نہیں ہوئے کہ دیکھو کائنات کے ذرے ذرے پر میری حکومت ہے، بلکہ فوراً مسکرا کر اللہ کے حضور شکر کے سجدے میں گر گئے۔

یہی وہ سبق ہے جو ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے مقرب بندے نعمتوں اور طاقت کو اپنی بڑائی اور ظلم کا ذریعہ نہیں بناتے، بلکہ اسے اللہ کی پہچان اور مخلوق کی خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ عظیم الشان زندگی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ آگے چل کر تاریخ اور قرآن وہ حیرت انگیز واقعات بیان کرنے والے ہیں جن میں ہوا کا ان کے تخت کو اڑا کر لے جانا، جنات کا ان کے لیے محلات بنانا، اور ملکہ سبا کا تخت ان کے دربار میں پلک جھپکتے حاضر ہونے کے مناظر شامل ہیں۔

لیکن ان تمام حیرت انگیز معجزات سے پہلے، ایک ایسا تاریخی اور فقہی واقعہ ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی غیر معمولی حکمت، فہم اور اللہ کی عطا کردہ سمجھ کو انتہائی شاندار انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعہ دو عورتوں اور ایک معصوم بچے کے تنازعے کا ہے، جس میں ایک نوجوان قاضی نے وہ فیصلہ سنایا جس پر آج تک دنیا حیران ہے۔

(اگلی قسط میں: حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمت و بصیرت کا پہلا امتحان — دو ماؤں اور ایک بچے کا وہ تاریخی فیصلہ جس نے ان کی دانائی کا سکہ بٹھا دیا)

(جاری ہے…)

توجہ فرمائیں:

اگر آپ ہماری تاریخ، تحقیق اور قرآنی واقعات پر مبنی تمام پوسٹس سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں، جس پر آپ کو ہر مضمون کی تمام اقساط باآسانی اور ترتیب کے ساتھ دستیاب ہوں گی:

https://whatsapp.com/channel/0029VbD49gfC1FuFdh6Ik93F

بنیادی حوالہ جات:

القرآن الکریم — سورۃ النمل: 15–19، سورۃ سبأ: 12–14، سورۃ ص: 30–40

صحیح البخاری — کتاب احادیث الانبیاء

تفسیر ابن کثیر — سورۃ النمل

معارف القرآن — مفتی محمد شفیع

#حضرت_سلیمان #قصص_الانبیاء #قرآنی_تاریخ #سیرت_انبیاء #بنی_اسرائیل #اسلامی_تاریخ #GlobalTareekhHub

Loading