حضرت شاہ رکنِ عالمؒ:
ملتان کے درخشندہ ستارے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ملتان، جسے “اولیاء کا شہر” کہا جاتا ہے، اپنی روحانی نسبتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں ممتاز ہے۔ اس سرزمین کی سب سے قدآور شخصیت حضرت شاہ رکنِ عالمؒ (1251–1335ء) ہیں، جن کا مزار تغلق طرزِ تعمیر کا ایک عظیم شاہکار اور
عقیدت کا مرکز ہے [18, 27]۔
🌺ولادت اور بچپن
برصغیر پاک و ہند کے عظیم روحانی پیشوا حضرت شاہ رکنِ عالمؒ 9 رمضان المبارک 649ھ (مطابق 1251ء) کو بروز جمعۃ المبارک پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت پر آپ کے دادا حضرت غوث بہاء الدین زکریا ملتانیؒ نے بے حد خوشی کا اظہار کیا اور ملتان کے غرباء و مساکین میں کثرت سے خیرات تقسیم فرمائی۔ عقیقہ کے موقع پر آپ کے سرِ مبارک کے تراشے ہوئے بال بطورِ تبرک محفوظ کیے گئے۔ آپ کا اسمِ گرامی “رکن الدین” رکھا گیا، تاہم آپ دنیا بھر میں “شاہ رکنِ عالم” (دنیا کا ستون) کے لقب سے
مشہور ہوئے [7, 9]۔
🌺سلسلہِ نسب اور طریقت
آپ حضرت شیخ صدر الدین عارف سہروردیؒ کے بڑے فرزند اور حضرت غوث بہاء الدین زکریاؒ کے پوتے تھے۔ آپ کا سلسلہِ طریقت انتہائی معتبر ہے:
آپ نے خلافت اپنے والد حضرت شیخ صدر الدین عارفؒ سے حاصل کی۔
یہ سلسلہ حضرت شیخ بہاء الدین زکریاؒ اور حضرت شہاب الدین سہروردیؒ سے ہوتا ہوا خواجہ جنید بغدادیؒ، خواجہ معروف کرخیؒ اور حضرت حسن بصریؒ تک پہنچتا ہے۔
بالآخر یہ سلسلہ سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کے ذریعے حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے جا ملتا ہے۔
روحانی واقعہ: اصلاحِ باطن اور نزولِ رحمت🌺
اہلِ ملتان میں ایک مشہور روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک بار ملتان شدید خشک سالی کا شکار ہو گیا۔ لوگ پریشان ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بارش کے لیے دعا کی درخواست کی۔ آپؒ نے ان کی ظاہری حالت دیکھ کر فرمایا:
“جب تک دلوں میں ظلم، حسد اور نافرمانی کی گرد ہے، زمین پر رحمت کیسے اترے؟”
آپؒ نے لوگوں کو توبہ، باہمی صلح اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تلقین کی۔ جب لوگوں نے صدقِ دل سے توبہ کی اور اپنی اصلاح کر لی، تو آپؒ نے دعا فرمائی۔ روایت ہے کہ اسی وقت آسمان پر بادل چھا گئے اور ایسی بارش ہوئی کہ زمین سیراب ہو گئی
۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اولیاء کی دعا سے پہلے انسان کا اپنے اللہ سے تعلق درست ہونا ضروری ہے
☝🏻🙏🏻💐—یعنی پہلے دل بدلے، پھر موسم بدلا۔
نذرانہِ عقیدت (منقبت)
بخدمتِ اقدس و عالی، جنابِ حضرت ابوالفتح، شاہ رُکنِ عالم، رُکنِ دیں، رُکنِ حق، نُوری حضوری، مُلتانی، سُہروردی رحمۃ اللہ علیہ
منقبتِ شاہ رکنِ عالمؒ (اردو ترجمہ)
🍂رُکنِ عالم شاہِ دُنیا، شاہِ دیں
در جماعتِ اولیاء بُرہانِ مُبیں
ترجمہ: اے رکنِ عالم! آپ دنیا کے بھی شاہ ہیں اور دین کے بھی بادشاہ ہیں
۔ اولیاء اللہ کی جماعت میں آپ (حق کی) ایک کھلی اور روشن دلیل ہیں۔
🍂ہست صاحبِ اذن مادر زاد
بختِ زریں تُوئی دُرِ ثمیں
ترجمہ: آپ پیدائشی طور پر (اللہ کی طرف سے) صاحبِ اذن اور بااختیار ہیں۔ آپ چمکتا ہوا سنہرا نصیب اور ایک قیمتی و نایاب موتی ہیں۔
🍂خوشا ورود اندر صنم کدہِ مَن
روشن است از نُورِ تو ایں قلب حزیں
ترجمہ: میرے اس دل کے صنم کدے (دنیاوی خواہشات کے گھر) میں آپ کی روحانی آمد کتنی مبارک ہے۔ آپ ہی کے نور سے میرا یہ غمگین دل روشن و منور ہے۔
🍂اے جِگر گوشہ و انوارِ چشم
عارفِ باللّہ والحق شیخ صدرالدیں
ترجمہ: آپ حضرت شیخ صدر الدین عارفؒ (جو خود اللہ اور حق کی پہچان رکھنے والے تھے) کے لختِ جگر اور ان کی آنکھوں کا نور ہیں۔
🍂یک کرن از نُورِ شمسِ زکریا
غوثِ عالم بادشاہ بہاءالدّیں
ترجمہ: آپ غوثِ عالم حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے سورج جیسے نور کی ایک تابندہ کرن ہیں۔
🍂بر گدائے ایں حُسین رحم کُن
از طُفیلِ حضرتِ حاکم حمیدالدیں
ترجمہ: (اے شاہِ ملتان!) اس گدا (حسین) کی حالت پر رحم فرمائیں، آپ کو حضرت حاکم حمید الدینؒ (حاکمِ پاکپتنی) کا واسطہ اور طفیل
@shagufta
حضرت شاہ رکن عالمؒ کی تعلیمات کا نچوڑ شریعت کی پاسداری، باطنی پاکیزگی اور خدمتِ خلق تھا۔ آپؒ اپنے مریدوں کو تاکید فرماتے تھے کہ حقیقی تصوف محض ظاہری عبادات کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس کو حسد، غرور اور جھوٹ جیسی برائیوں سے پاک کرنا اصل مقصد ہے۔ آپؒ کے نزدیک اللہ کے فضل کی بڑی نشانی یہ تھی کہ انسان دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنے عیوب پر نظر رکھے اور اپنے ہر عضو کو گناہوں سے دور رکھے۔ آپؒ نے ہمیشہ ایسی صحبتوں سے بچنے کی ہدایت کی جو انسان کو دنیا پرستی کی طرف مائل کریں، اور مریدوں کو محبت، رواداری اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا تاکہ وہ اللہ اور اس کی مخلوق کے قریب ہو سکیں۔
![]()

