حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ
انتخاب ۔۔۔۔۔۔ میاں عمران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔۔ میاں عمران ) ۱۔ تعارف و ولادت:حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، اسلام کے عظیم صحابہ، اسوۂ حسنہ اور دس خوش نصیب صحابہؓ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی۔
ان کا تعلق بنو زہرہ قریش سے تھا اور آپ ﷺ کی دعوت پر بہت جلد اسلام قبول کیا۔ تاریخِ ولادت میں اختلاف ہے لیکن عام روایات کے مطابق آپؓ تقریباً ۵۸۰ء عیسوی (قبل از نبوت) میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔
🌟 ۲۔ اسلام لانا اور ابتدائی دور
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے نہایت ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا، جب مسلمانوں پر سخت ظلم و تشدد تھا۔
انہوں نے هجرتِ حبشہ اور بعد میں مدینہ منورہ ہجرت کی، جہاں نبوی ﷺ نے انہیں سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مؤاخات یعنی بھائی بنایا۔
💼 ۳۔ تجارت اور روزی کمانے کا راستہ
مدینہ میں پہنچ کر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے دیگر مہاجرین کی طرح تجارت کو ذریعہ معاش بنایا۔
🔹 اصولِ کاروبار:
آپ نے ایمان، دیانت، سچائی، انصاف اور اللہ کی رضا کو کاروبار کا مرکز بنایا۔
نقد رقم کا استعمال، ذخیرہ نہ کرنا اور ہر چیز میں صاف گوئی آپ کی خصوصیات تھیں۔
🔹 تجارت میں کامیابی:
آپ نے چھوٹے کاروبار سے شروع کیا، لیکن اللہ پر بھروسہ، محنت اور شریعت کے مطابق تجارت کی بدولت آپ جلد ہی مدینہ کے امیر ترین تاجروں میں شمار ہو گئے۔
💡 سبق: ایمان، محنت، دیانت داری اور اللہ کی راہ میں خرچ — یہی کامیابی کا راز ہے۔
🕌 ۴۔ اسلام میں خدمات
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے:
✔️ ہر جنگِ غزوہ میں شرکت کی، بشمول بدر، احد اور دیگر معرکوں میں۔
✔️ غزوۂ تبوک میں اپنے مال کا بڑا حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔
✔️ مدینہ میں محتاجوں، یتیموں، غریبوں، اور امہات المومنینؓ کی خدمت کی۔
واپس ایمان کی قوت نے انہیں صرف تاجربنانے کا کام نہیں کیا، بلکہ اسلامی سماج کی مضبوطی میں بھی وہ پیش پیش رہے۔
🌺 ۵۔ صوفیانہ پہلو – تزکیہ و اخلاق
صوفی تعلیم میں شخصیت کی اہم خصوصیات ہیں: تواضع، ایثار، عشقِ الٰہی، اور خودی کا فنا ہونا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی زندگی یہ تمام صوفی آئینے کی مانند ہے:
🌿 فنا فی اللہ: بڑے مال کے باوجود آپؓ نے ہمیشہ دریادلی ظاہر کی اور اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔
🌿 صفاتِ اخلاق: امام اور بزرگوں نے ان کی سخاوت، شکر، عاجزی اور خدمتِ انسانیت کی بہت تعریف کی ہے۔
🌿 دل کا تزکیہ: ان کی آخری عمر میں یہ فکر تھی کہ اللہ نے سب کچھ دے دیا، تو آیا اُن کے لیے آخرت میں کچھ باقی رہ جائے گا؟
یہ وہ صوفیانہ کیفیتیں ہیں جن سے ہمیں انسانی روح کی بلندی، محبتِ حق، اور اللہ کی رحمت پر بھروسہ کا درس ملتا ہے۔
📅 ۶۔ وفات
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سالِ 32 ہجری (تقریباً ۶۵۴ء عیسوی) میں مدینہ منورہ میں وصال پائے اور بقیع الجنہ میں دفن ہوئے۔
تاریخِ عمر بھی بعض روایات میں تقریباً ۷۴–۷۵ سال بتائی جاتی ہے۔
📖 ۷۔ ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟
💠 ایک صوفیانہ پیغام
اللہ کی رضا کے لیے دنیاوی دولت کو وسیلہ بنایا جا سکتا ہے — جیسے آپؓ نے صدقہ، خیرات اور انفاق کو اپنا شعار بنایا۔
نفسانی خواہشات پر قابو پانا اور اللہ کی یاد میں زندگی بسر کرنا صوفی راہ کا بنیادی اصول ہے — یہی آپؓ کی زندگی میں نمایاں ہے۔
💠 ایک کاروباری درس
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہمیں سیکھنا چاہیے:
✔️ کاروبار میں ایمانداری، سچائی اور انصاف
✔️ اللہ پر بھروسہ اور محنت
✔️ دولت میں برکت اور اس کا صحیح استعمال
✔️ دنیاوی دولت کو آخرت کی تیاری کے طور پر سمجھنا
✨ نتیجہ
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے صوفیانہ اور تجارتی اصول ہمیں سکھاتے ہیں کہ دولت اللہ کی نعمت ہے، لیکن اس کا استعمال اللہ کی راہ، خدمتِ انسانیت، اور آخرت کی کامیابی کے لیے ہونا چاہیے۔
یہ سیدنا نہ صرف ایک کامیاب تاجر تھے، بلکہ ایک روحانی رہبر، سخاوت کے پیکر، اور اللہ کے راہ میں قربانی دینے والے تھے — ہمیں ان کی سیرتِ طیبہ سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔
![]()

