Daily Roshni News

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے دل میں رحم آنا۔۔۔ انتخاب ۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

حضرت عزرائیل علیہ السلام کے دل میں رحم آنا،

انتخاب ۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام کے دل میں رحم آنا۔۔۔ انتخاب ۔۔۔  محمد جاوید عظیمی)ایک دفعہ اللہ عزوجل نے حضرت عزرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تجھے کسی کی جان قبض کرتے وقت کبھی رحم بھی آیا۔

​حضرت عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ الٰہی میرا ہر ایک کی روح قبض کرتے وقت دل دکھتا ہے مگر تیرے حکم کی سرتابی کی مجال کہاں۔ ہاں ایک واقعہ ایسا گزرا ہے، جس کا دکھ میں ابھی تک نہیں بھلا سکا وہ غم ایسا ہے جو تنہائی میں بھی میرے ساتھ رہتا ہے۔

​ایک جہاز سمندر میں سفر کر رہا تھا۔ وہ تیرے حکم سے ایک بھنور میں پھنس گیا۔ اس طرح تھوڑی دیر بعد وہ جہاز تباہ و برباد ہو گیا۔ جہاز میں سوار کئی مرد و زن غرق ہو گئے جو مسافر بچے ان میں ایک ماں تھی اور دوسرا اس کا نو زائیدہ بچہ جو تباہ شدہ جہاز کے ایک تختے پر سمندر کی لہروں میں تیرے رحم و کرم پر بہے جا رہے تھے۔ تیز ہوا نے انہیں آناً فاناً سینکڑوں میل دور سمندر کے کنارے پر پہنچا دیا۔ میں ماں اور بیٹے کے بچ جانے سے بہت خوش ہوا اسی لمحے تیرا حکم ہوا ماں کی روح قبض کرلو۔ میں نے مولا کریم تیرے حکم کی تعمیل کی باری تعالیٰ تُو خوب جانتا ہے کہ یہ حکم پا کر میرا کلیجہ کانپ گیا تھا اور جب میں نے اس طفلِ شیر خوار کو ماں سے الگ کیا تو مجھے کس قدر تکلیف پہنچی تھی اب یاد آئی ہے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئی ہیں۔

پھر حکم الٰہی ہوا۔ کیا تجھے پتا ہے کہ بعد میں وہ بچہ کہاں اور کس طرح پرورش پاتا رہا؟

​عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے ظاہر اور باطن اسی پر عیاں ہیں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا ہم نے موجِ سمندر کو حکم دیا کہ اس لاوارث بچے کو اٹھا کر ساحل پر ڈال دے۔ ساحل کے قریب ایک سرسبز و شاداب جزیرہ تھا۔ ہم نے پھولوں کو حکم دیا کہ بچے کے نیچے سیج بچھا دیں۔ سورج سے کہا اپنی تیز شعاعوں سے بچے کو محفوظ رکھنا۔ بادل کو کہا بچے سے ذرا فاصلے پر برسے، درختوں کی شاخیں خود بخود جھک کر پھل اور ان کا رس اس کے منہ میں ڈال دیتی تھیں۔ جزیرے میں ایک شیرنی کی ہم نے ڈیوٹی لگا دی وہ روزانہ اسے دودھ پلاتی شیرنی کے خوف سے کوئی جانور بچے کے پاس نہیں آ سکتا تھا۔ اس جزیرے میں ہم نے خوش نوا اور حسین پرندے بھیجے جو ہر وقت چہچہاتے تاکہ بچے کا دل پریشان نہ ہو۔ ہوا کو حکم دیا کہ اس پر سے آہستہ آہستہ گزرے تاکہ اس کو کوئی تکلیف نہ ہو۔

​اے عزرائیل علیہ السلام! وہ تنہا اور بظاہر بے یار و مددگار بچہ پرورش پا کر خوب صحت مند اور بہادر ہو گیا۔ ہم نے اس کے پاؤں میں کبھی کاٹنا بھی نہ چبھنے دیا۔ دنیا جہان کی نعمتیں اسے عطا کیں۔

اب اے ملک الموت علیہ السلام تُو جانتا ہے وہ بچہ کہاں اور کیا کر رہا ہے؟ ایک بادشاہ شکار کھیلتے ہوئے ادھر آن نکلا وہ خوبصورت صحت مند بچے کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اسے اٹھا کر اپنے محل میں لے گیا۔ ان کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ بادشاہ کے مرنے کے بعد وہ اکیلا تاج و تخت کا مالک بن گیا۔ غرور اور تکبر سے ہمارے بندوں پر ظلم کرنے لگا۔ ایسا سرکش نکلا کہ خود خدا بن بیٹھا۔ اپنے بت بنوا کر انہیں سجدے کرانے لگا۔ خاک کا فانی پتلا ہمارا شریک بن بیٹھا آخر ہم نے اس کی بہتری کے لئے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کو اس کے پاس بھیجا اس ظالم نے ہمارے پیارے کو بھی آگ میں پھینک دیا۔

​عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا اے مخلوقات کے خالق تیرے بھید تُو ہی جانے، میں اس سرکش بچے کی حالت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے دل میں خیال اور ملال لاتا رہا۔

​اے عزرائیل علیہ السلام! اس بچے نے میرا کیا شکریہ ادا کیا؟ دوسروں کے لئے تو ماں باپ کی پرورش حجاب بن جاتی ہے۔ مگر اس نالائق نے تو بلا واسطہ اپنی جیب میں بہت سے موتی ہم سے پائے تھے۔

​’’وہ بچہ نمرود بن کر اس وقت ایک بڑے ملک کا بادشاہ ہے اور اسی نے میرے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں جھونکا ہے اور اب خدائی کا دعویٰ کر کے لوگوں کو میری راہ سے ہٹاتا ہے اور حکم نہ ماننے والوں کو سخت سزا دیتا ہے۔‘‘

​درسِ حیات:

اے خدا کے بندے تُو اپنی اصلاح کر لے، زنجیر کتے کی گردن سے مت بحال کر یعنی نفس کو قید و بند میں رکھ۔ نفس یقیناً ایک خونی درندے کی مانند ہے اگر یہ احسان فراموش ہو جائے تو مثلِ نمرود بن جاتا ہے۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ

کتاب. حکایتِ رومیؒ

“اسلامی تصوف دانش گاہ عالیہ تصوف کی دنیا محبت کی دنیا” (رجسٹرڈ) رحیم یار خان سے

خدا کا پاکستانی چینل

تصوف کی دنیا

Khuda Ka Pakistani Channel

Tasawuf Ki Dunya

#everyone

@highlight

Loading