حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا خط، حضرت پیر مہر علی شاہ ؒ کے نام
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )لاہور،١٨ اگست 1933
،مخدوم و مکرم حضرت قبلہ۔ السلام علیکم
اگرچہ زیارت اور استفادہ کا شوق ایک مدت سے ہے تاہم اس سے پہلے شرف نیاز حاصل نہیں ہوا،اب اس محرومی کی تلافی اس عریضہ سے کرتا ہوں،گو مجھے اندیشہ ہے کہ اس خط کا جواب لکھنے یا لکھوانے میں جناب کو زحمت ہوگی،بہرحال جناب کی وسعت اخلاق پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ چند سطور لکھنے کی جرأت کرتا ہوں کہ اس وقت ہندوستان بھر میں کوئی اور دروازہ نہیں جو پیش نظر مقصد کے لیے کھٹکھٹایا جاۓ۔
میں نے گذشتہ سال انگلستان میں حضرت مجدد الف ثانی ؒپر ایک تقریر کی تھی جو وہاں کے ادا شناس لوگوں میں بہت مقبول ہوئی، اب پھر ادھر جانے کا قصد ہے اور اس سفر میں حضرت محی الدین ابن عربی ؒ پر کچھ کہنے کا ارادہ ہے، نظر بایں حال چند امور دریافت طلب ہیں جناب کے اخلاق کریمانہ سے بعید نہ ہوگا اگر سوالات کا جواب شافی مرحمت فرمایا جاۓ۔
١۔اوّل یہ ہے کہ حضرت شیخ اکبر ؒ نے تعليم حقيقت زمان کے متعلق کیا کہا ہے اور آئمہ متکلمین سے کہاں تک مختلف ہے۔
٢۔ یہ تعلیم شیخ اکبر ؒ کی کون کون سی کتب میں پائی جاتی ہیں اور کہاں کہاں، اس سوال کا مقصود یہ ہے کہ سوال اوّل کے جواب کی روشنی میں خود بھی ان مقامات کا مطالعہ کر سکوں۔
٣۔حضرات صوفیہ میں اگر کسی بزرگ نے بھی حقيقت زمان پر بحث کی ہو تو ان بزرگ کے ارشادات کے نشان بھی مطلوب ہیں، مولوی سید انور شاہ صاحب مرحوم و مغفور نے مجھے عربی کا ایک رسالہ مرحمت فرمایا تھا اس کا نام تھا درایتہ الزماں، جناب کو ضرور اس کا علم ہوگا، میں نے یہ رسالہ دیکھا ہے مگر چونکہ یہ رسالہ بہت مختصر ہے اس لیے مزید روشنی کی ضرورت ہے۔
میں نے سنا ہے کہ جناب نے درس و تدریس کا سلسلہ ترک فرما دیا ہے، اس لیے یہ عریضہ لکھنے میں تامل تھا، لیکن مقصود چونکہ خدمت اسلام ہے، مجھے یقين ہے کہ اس تصدیعہ کے لیے جناب معاف فرمائيں گے۔
باقی التماس دعا۔ مخلص محمد اقبالؒ
![]()

