Daily Roshni News

حضرت عمر بن عبدالعزیز کو زہر کیوں دیا گیا ؟ انتخاب ۔۔۔۔۔  میاں عاصم محمود

حضرت عمر بن عبدالعزیز کو

زہر کیوں دیا گیا ؟

انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔  میاں عاصم محمود

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو زہر کیوں دیا گیا ؟ انتخاب ۔۔۔۔۔  میاں عاصم محمود)ایکایسا حکمران جس نے انصاف کو تخت و تاج پر ترجیح دی ۔63 ہجری میں مدینہ منورہ کی سرزمین پر ایک ایسے بچے نے آنکھ کھولی جس کا نام عمر رکھا گیا۔ والد عبدالعزیز بن مروان بنو امیہ کے بااثر حکمران خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ والدہ اُمِ عاصم حضرت عمر فاروقؓ کی نواسی تھیں۔ گویا ایک طرف شاہی خاندان کی نسبت تھی اور دوسری طرف فاروقی عدل کی عظیم میراث۔

بچپن ہی سے عمر بن عبدالعزیزؒ دوسرے شہزادوں سے مختلف تھے۔ جہاں دوسرے بچے کھیل کود اور شاہی مصروفیات میں مشغول رہتے، وہ مسجد نبوی ﷺ میں علماء کی صحبت اختیار کرتے، قرآن و حدیث سنتے اور خاموشی سے علم حاصل کرتے۔

جوانی میں حسن، ذہانت، نفاست اور خوش اخلاقی کی وجہ سے پورے عرب میں ان کا چرچا تھا۔ وہ بہترین لباس اور خوشبو استعمال کرتے تھے، مگر دنیا کی تمام آسائشوں کے باوجود ان کے دل میں ہمیشہ اللہ کی رضا اور آخرت کی فکر زندہ رہی۔

وقت کے ساتھ انہیں مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ منصب سنبھالتے ہی انہوں نے مدینہ کے اکابر علماء کو جمع کیا اور فرمایا:

“اگر کبھی مجھ سے کوئی غلطی ہو تو مجھے ضرور ٹوک دینا، کیونکہ میں بھی ایک انسان ہوں۔”

یہ وہ انداز تھا جو اس زمانے کے حکمرانوں میں بہت کم دیکھنے کو ملتا تھا۔

717ء میں خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے انتقال کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو خلافت سونپی گئی۔

یہ خبر سن کر وہ خوش ہونے کے بجائے گھبرا گئے اور فرمایا:

“اللہ کی قسم! میں نے کبھی اس منصب کی خواہش نہیں کی تھی۔”

اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے شاہی گھوڑے، قیمتی سامان اور سرکاری آسائشیں بیت المال میں واپس جمع کرا دیں۔

پھر اپنی اہلیہ حضرت فاطمہ بنت عبدالملکؒ سے فرمایا:

“اگر یہ زیورات تم اپنے پاس رکھنا چاہتی ہو تو یہ تمہارا اختیار ہے، لیکن اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو انہیں بیت المال میں جمع کروا دو۔”

حضرت فاطمہؒ نے بغیر کسی تردد کے اپنے تمام قیمتی زیورات اللہ کی رضا کے لیے بیت المال میں جمع کرا دیے۔

اس کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے احتساب کا ایسا نظام قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔

جن لوگوں نے ناجائز دولت جمع کی تھی، ان سے وہ دولت واپس لی گئی۔ اپنے خاندان کے افراد کو بھی رعایت نہ دی گئی۔ یتیموں، مسکینوں، مقروضوں اور مسافروں کے حقوق ادا کیے گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا:

“اگر کسی علاقے میں کوئی جانور بھی بھوکا رہ جائے تو وہاں کا ذمہ دار افسر جواب دہ ہوگا۔”

ان کے دورِ خلافت میں انصاف، دیانت اور فلاح عام ہو گئی۔ روایت ہے کہ زکوٰۃ تقسیم کرنے والے مستحق افراد تلاش کرتے پھرتے تھے مگر لینے والا کوئی نہ ملتا تھا۔

ایک رات وہ سرکاری امور انجام دے رہے تھے۔ بیت المال کے تیل سے جلنے والا چراغ روشن تھا۔ اسی دوران ایک رشتہ دار ذاتی گفتگو کے لیے آ گیا۔

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فوراً چراغ بجھا دیا۔

جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:

“یہ چراغ مسلمانوں کے مال سے جل رہا تھا، اور اب گفتگو ذاتی ہے۔”

ان کے عدل اور حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر بے شمار غیر مسلم اسلام قبول کرنے لگے۔

جب بعض گورنروں نے شکایت کی کہ اس وجہ سے جزیے کی آمدنی کم ہو رہی ہے تو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو ہدایت دینے کے لیے بھیجا ہے، ٹیکس جمع کرنے کے لیے نہیں۔”

اسی دور میں انہوں نے احادیثِ نبوی ﷺ کو باقاعدہ جمع اور محفوظ کرنے کا اہم کام بھی شروع کروایا، جو بعد میں علمِ حدیث کی عظیم خدمت ثابت ہوا۔

مگر جتنا انصاف بڑھتا گیا، اتنی ہی دشمنیاں بھی بڑھتی گئیں۔

بنو امیہ کے بعض طاقتور افراد ان کی اصلاحات سے ناخوش تھے۔ ناجائز دولت واپس لی جا رہی تھی اور شاہی مراعات ختم ہو رہی تھیں، اس لیے خفیہ سازشیں شروع ہو گئیں۔

آخرکار انہیں زہر دے دیا گیا۔

جب حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اُس غلام کو بلوایا جس کے ذریعے زہر دیا گیا تھا۔

انہوں نے صرف اتنا پوچھا:

“کتنی قیمت پر تم نے اپنا دین بیچ دیا؟”

غلام روتا ہوا ساری حقیقت بیان کرنے لگا۔

سب لوگ سخت سزا کے منتظر تھے، مگر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے فرمایا:

“اسے چھوڑ دو، میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب کسی پر ظلم ہو۔”

پھر اسے آزاد کر دیا گیا۔

آخری ایام میں کسی نے عرض کیا:

“آپ نے اپنے بچوں کے لیے کچھ کیوں نہیں چھوڑا؟”

انہوں نے کمزور مگر پُراعتماد آواز میں فرمایا:

“اگر میرے بچے نیک ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے کافی ہوگا، اور اگر وہ نافرمان ہوں گے تو میں ان کے لیے حرام مال چھوڑ کر اللہ کے سامنے کیا جواب دوں گا؟”

101 ہجری میں صرف ڈھائی سالہ خلافت کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن اپنے پیچھے نہ خزانے چھوڑے، نہ محلات… بلکہ ایسا عدل، ایسی دیانت اور ایسا کردار چھوڑ گئے جسے تاریخ آج بھی احترام سے یاد کرتی ہے۔

🌿 سبق:

حقیقی عظمت دولت، اقتدار یا شان و شوکت میں نہیں بلکہ انصاف، امانت، تقویٰ اور اللہ کے خوف میں ہے۔ جو حکمران اپنے نفس پر قابو پا لے اور مخلوقِ خدا کے حقوق ادا کرے، وہی تاریخ میں ہمیشہ عزت اور محبت کے ساتھ یاد رکھا جاتا ہے۔

🤍🌷 اگر آپ نے یہ تحریر پوری پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں، تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے اپنا پسندیدہ خوبصورت نام ضرور لکھیں۔

مثلاً: یَا رَحْمٰن، یَا رَحِیم، یَا وَدُود، یَا کَرِیم، یَا غَفُور 🤍

Loading