Daily Roshni News

**حضرت ہود علیہ السلام: غرور، طاقت اور قومِ عاد کا زوال**

**حضرت ہود علیہ السلام: غرور، طاقت اور قومِ عاد کا زوال**

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تعارف: طوفانِ نوح کے بعد کی دنیا**

انسان کی تاریخ ہمیشہ دو قوتوں کے درمیان جھولتی رہی ہے — ایمان اور تکبر، عاجزی اور خود خدائی۔

طوفانِ نوحؑ کے بعد زمین پر جب زندگی نے دوبارہ سانس لیا، تو یہ امید پیدا ہوئی کہ انسان اب سبق سیکھ چکا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسان نے ایک بار پھر اپنی طاقت، عقل اور دولت پر غرور کرنا شروع کر دیا۔ یہی غرور ہر قوم کو ہلاکت کی طرف لے گیا، اور انھی اقوام میں ایک نام چمکتا ہے — **قومِ عاد**۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

**“اور ہم نے نوحؑ کے بعد کتنی ہی قوموں کو پیدا کیا، پھر ان کے پاس رسول آئے جنہیں وہ جھٹلاتے رہے…”**      *(سورۃ المؤمنون: 44)*

یہ وہ زمانہ تھا جب انسانیت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی تھی۔ طوفان کے بعد کی زمین زرخیز تھی، آسمان کھلا ہوا، ہوا صاف، اور زمین پر چند ہی قومیں آباد تھیں۔ انہی قوموں میں سے ایک قوم تھی جو اپنی جسمانی طاقت، عمارت سازی اور شان و شوکت میں بے مثال تھی — یہی تھی **قومِ عاد**۔

**قومِ عاد کا ظہور اور تمدن**

قومِ عاد کا سلسلہ نسب حضرت نوحؑ کے بیٹے **سام** سے جا ملتا ہے۔ ان کے جدِّ امجد کا نام **عاد بن عوص بن ارم** تھا، اسی نسبت سے یہ قوم “عاد” کہلائی۔ ان کی بستی “اِرَم” کے نام سے مشہور تھی جسے قرآن نے “ذَاتِ العِمَاد” یعنی “بلند ستونوں والی بستی” کہا۔

**“کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ (یعنی) ارم کے ساتھ، جن کے ستون بڑے بلند تھے۔”**      *(سورۃ الفجر: 6–7)*

تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے مطابق، قومِ عاد موجودہ **یمن اور عمان** کے درمیان کے صحرائی علاقے میں آباد تھی۔ ان کے محلات ریت کے پہاڑوں پر بنے ہوئے تھے، اور ان کے ستون آسمان کو چھوتے تھے۔ ان کے پاس زراعت، تعمیرات، اور تجارت کی بے مثال صلاحیت تھی۔ مگر جیسے جیسے ان کی دنیا بڑھی، ان کا دل چھوٹا ہوتا گیا۔

وہ اپنی طاقت پر فخر کرتے اور کہتے:

**“مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً؟”**   *(سورۃ فصلت: 15)*    “ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟”

یہ ایک ایسے ذہن کی علامت تھی جو مخلوق ہونے کے باوجود خالق بننے کے زعم میں مبتلا ہو جائے۔

قرآن کہتا ہے کہ وہ زمین پر محلات بناتے تھے “گویا وہ ہمیشہ رہنے والے ہوں” (سورۃ الشعراء: 129)۔

یہ فانی انسان جب اپنی عمارت کو ابدیت کی علامت سمجھنے لگا، تو عذاب کے دروازے کھلنے لگے۔

**حضرت ہود علیہ السلام کی بعثت**

ایسے ہی دورِ تکبر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ایک نبی بھیجا — **حضرت ہود علیہ السلام**۔ ان کا تعلق اسی قوم سے تھا، اس لیے قرآن نے فرمایا:

**“اور ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔”**  *(سورۃ الاعراف: 65)*

حضرت ہودؑ نرم دل، بردبار، اور انتہائی بلیغ کلام کرنے والے نبی تھے۔ وہ اپنی قوم سے محبت کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ اپنے رب کو پہچان لے۔ ان کا پیغام واضح اور سیدھا تھا:

**“اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟”**     *(سورۃ الاعراف: 65)*

وہ اپنی قوم کو یاد دلاتے کہ طاقت اور نعمتیں صرف امتحان ہیں۔

**“اے میری قوم! اپنے رب سے مغفرت مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے خوب بارش نازل کرے گا اور تمہاری طاقت میں اضافہ کرے گا۔”**

*(سورۃ ہود: 52)*

یہ ایک زبردست وعدہ تھا — اگر وہ توبہ کرتے تو ان کی زمین مزید آباد ہو جاتی۔ لیکن قومِ عاد نے بجائے شکر کے، مذاق اڑایا۔

**قومِ عاد کا تکبر اور انکار**

ان کی عقل غرور کے پردوں میں قید تھی۔ انہوں نے کہا:

**“اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی کھلی دلیل نہیں لائے، اور ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ تم پر ہمارے کچھ دیوتاؤں نے برا اثر ڈال دیا ہے۔”**       *(سورۃ ہود: 53–54)*

حضرت ہودؑ نے جواب دیا:

**“میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان سب سے بری ہوں جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو۔”**      *(سورۃ ہود: 54–56)*

یہ ایک نبی کا اعلانِ براءت تھا — کسی خوف کے بغیر، سچ کے ساتھ کھڑا ہونا۔

انہوں نے اپنی قوم سے کہا:

**“میری تدبیر پر عمل کرو، مجھے کچھ مہلت نہ دو۔ میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، جو میرا اور تمہارا رب ہے۔”**

**الٰہی تنبیہ اور بادِ صرصر کا آغاز**

قرآن بیان کرتا ہے کہ جب قومِ عاد کا انکار حد سے بڑھ گیا، تو اللہ نے پہلے ان پر **قحط** مسلط کیا۔ تین سال تک آسمان سے بارش نہ برسی۔

حضرت ہودؑ نے فرمایا:

“اگر تم اللہ سے معافی مانگو گے، تو وہ تم پر بارشیں برسائے گا، اور تمہیں دوبارہ طاقت دے گا۔”

مگر قومِ عاد نے ان کے الفاظ کا مذاق اڑایا۔ انہوں نے کہا: “یہ بادل دیکھو، یہ تو ہمیں بارش دینے آ رہا ہے!”

قرآن کہتا ہے:

**“بلکہ یہ وہ ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے، یہ ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔”**     *(سورۃ الاحقاف: 24)*

پھر وہ ہوا — **بادِ صرصر** — چلنے لگی۔ ایک ایسی آندھی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک زمین پر قہر بن کر چھائی رہی۔

**“پس ہم نے ان پر ان منحوس دنوں میں سخت آندھی بھیجی تاکہ ہم انہیں زندگی میں رسوا کریں۔”**      *(سورۃ فصلت: 16)*

زمین پر ان کے بڑے بڑے جسم ریت میں اڑ گئے۔ قرآن کہتا ہے:

**“گویا وہ کھجور کے گرے ہوئے تنے تھے۔”**     *(سورۃ الحاقہ: 7)*

یہ منظر انسان کے غرور کے خلاف سب سے بڑی گواہی ہے —

طاقت جس پر وہ فخر کرتے تھے، اب خاک بن چکی تھی۔

**عذاب کے بعد نجات**

جب آندھی تھمی، تو زمین پر سناٹا تھا۔

حضرت ہودؑ اور ان کے چند مومنین محفوظ رہے۔

قرآن کہتا ہے:

**“اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے نجات دی، اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا۔”**     *(سورۃ الاعراف: 72)*

روایات کے مطابق، حضرت ہودؑ بعد میں **حضرموت (یمن)** کے علاقے میں قیام پذیر ہوئے، جہاں ان کا مزار آج بھی موجود ہے۔

وہ اپنی قوم کے مٹ جانے پر افسردہ رہتے، مگر ان کا ایمان اور یقین کبھی متزلزل نہ ہوا۔

**قرآنی و حدیثی بصیرت**

قرآن میں حضرت ہودؑ اور قومِ عاد کا ذکر کئی بار آیا ہے — تاکہ انسان غرور سے بچے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

**“جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔”**

*(صحیح مسلم)*

اور فرمایا:

**“انسان اپنے رب کے قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے۔”**

یہ سجدہ، یعنی عاجزی، ہی انسان کی اصل طاقت ہے۔ قومِ عاد سجدہ بھول گئی تھی — اسی لیے مٹ گئی۔

**تورات و بائبل میں اشارے**

بائبل میں براہِ راست “Hud” نام نہیں ملتا، لیکن بعض مفسرین نے حضرت ہودؑ کو “Eber” یا “Heber” سے تشبیہ دی ہے — جو سام کی نسل سے تھا اور جس نے خدا پر ایمان رکھا۔

بائبل میں “Book of Job” میں جس قومِ Uz کا ذکر ہے، بعض مورخین اسے بھی عاد کے علاقے سے جوڑتے ہیں۔

تینوں الہامی مذاہب — اسلام، عیسائیت، اور یہودیت — اس بات پر متفق ہیں کہ **غرور انسان کی سب سے بڑی تباہی ہے**۔

**فکری و روحانی تفسیر: جدید دور کے لیے پیغام**

آج کا انسان — قومِ عاد کی طرح — آسمان چھوتی عمارتیں بنا رہا ہے، سمندر کے نیچے شہر بسا رہا ہے، اور کہتا ہے: “ہم سے طاقتور کون ہے؟”

ٹیکنالوجی، AI، اور سائنسی ترقی نے اسے یہ گمان دے دیا ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ مگر **روحانی مرکز** سے کٹ کر یہ ترقی صرف عذاب کی تمہید بن رہی ہے۔

قومِ عاد کی “بادِ صرصر” آج شاید کسی طوفان کی شکل میں نہ آئے —

بلکہ **ڈیجیٹل زوال، روحانی خلا، اور اخلاقی تباہی** کی صورت میں آ رہی ہے۔

جب انسان اپنی عبادت کو چھوڑ دیتا ہے، تو طاقت خود اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔

**نتیجہ: غرور سے فنا، تواضع سے بقا**

حضرت ہودؑ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ **طاقت نجات نہیں دیتی، ایمان دیتا ہے۔**

اللہ نے ہر قوم کو موقع دیا — مگر جنہوں نے تکبر کیا، وہ مٹ گئے۔

قومِ نوحؑ پانی میں ڈوبی، قومِ عاد ہوا میں بکھری، اور آج کی قوم شاید *خود اپنی ایجادوں میں* فنا ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

**“اور ہم نے ان میں ایسی نشانیاں چھوڑی ہیں تاکہ تم سمجھو۔”**(سورۃ الذاریات: 37)*

یہ “نشانیاں” صرف پرانے زمانے کی نہیں — یہ آج کے انسان کے دل کے لیے ہیں۔

غرور انسان کو فنا کرتا ہے، مگر عاجزی اسے ابدی بنا دیتی ہے۔

**آخری دعا**

اے اللہ! ہمیں حضرت ہودؑ کی طرح سچ کہنے کا حوصلہ دے،

قومِ عاد کی طرح غرور سے بچا،

اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کر جو **طاقت کے نہیں، بندگی کے وارث** ہیں۔

آمین یا رب العالمین 🌿

Loading