ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قرآن مجید میں جب تعلیم و تربیت کے نبوی مشن کو بیان کیا گیا تو اس کی بنیاد تزکیہ، حکمت، رحمت اور خیر خواہی پر رکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یعنی #رسول اللہ ﷺ لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کا تزکیہ فرماتے ہیں۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے مقصد کو پوری انسانیت کے لیے رحمت قرار دیتے ہوئے فرمایا:
اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:
(التوبة: 128)
یعنی تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے خواہاں اور اہلِ ایمان پر نہایت شفیق و مہربان ہیں۔
یہ #آیات اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلامی تعلیم و تربیت کی اصل روح شفقت، حکمت، تدریج اور رحمت ہے، نہ کہ سختی، تشدد اور جسمانی اذیت۔ اگر جسمانی مارپیٹ تعلیم و تربیت کا مطلوب اور بنیادی طریقہ ہوتی تو سب سے پہلے اس کا نمونہ معلمِ اعظم ﷺ کی زندگی میں نظر آتا، لیکن تاریخی اور حدیثی شواہد اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔
اس #مسئلہ میں عموماً دو احادیث پیش کی جاتی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز نہ پڑھنے پر مارو۔
پہلی #روایت حضرت سبرہ بن معبد الجہنیؓ سے مروی ہے اور دوسری عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے منقول ہے۔
پہلی #روایت کو امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں اور امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ امام #ترمذی نے اس کو حسن صحیح قرار دیا جبکہ امام حاکم نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
لیکن محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس روایت کی سند پر کلام کیا ہے۔ اس روایت کا مدار #عبد الملک بن الربیع بن سبرہ پر ہے۔ امام یحییٰ بن معین نے صراحت کی ہے:
“أحاديث عبد الملك عن أبيه عن جده ضعاف”
یعنی عبد الملک کی اپنے والد اور دادا سے روایت کردہ احادیث ضعیف ہیں۔ امام ابن حبان نے اسے ’’منکر الحدیث جداً‘‘ قرار دیا اور فرمایا کہ وہ ایسی روایات بیان کرتا ہے جن کی متابعت نہیں ملتی۔ #ابو الحسن ابن القطان نے اس کی عدالت کے ثابت نہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس بنا پر متعدد محققین کے نزدیک اس روایت کی سند محلِ نظر ہے۔
دوسری #روایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے طریق سے منقول ہے۔ محدثین کے ہاں یہ سند بذاتِ خود درجۂ صحت تک نہیں پہنچتی، اور مزید یہ کہ اس روایت میں سوار بن داود نامی راوی موجود ہے جس کے بارے میں ائمۂ حدیث نے کلام کیا ہے۔ دارقطنی نے فرمایا کہ اس کی روایات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، بزار نے کہا: ’’لم يكن بالقوي‘‘، بیہقی نے اسے ’’ليس بالقوي‘‘ قرار دیا، جبکہ عقیلی نے واضح طور پر لکھا کہ اس روایت کی کوئی مضبوط متابعت موجود نہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا:
“وأما حديث عمرو بن شعيب فليس يروى من وجه يثبت”
یعنی #عمرو بن شعیب والی روایت کسی ایسے طریق سے منقول نہیں جو ثابت اور قابلِ اعتماد ہو۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر ان دونوں روایات کو قابلِ استدلال مان بھی لیا جائے تب بھی ان سے رائج جسمانی تشدد اور مارپیٹ کا جواز ثابت نہیں ہوتا، ان روایات کو اسلام کے عمومی مزاج, مقاصدِ شریعت اور نبی اکرم ﷺ کے ثابت شدہ عملی اسوہ کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔
صحیح #مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
“ما ضرب رسول الله ﷺ شيئاً قط بيده، ولا امرأة ولا خادماً، إلا أن يجاهد في سبيل الله”
رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنے دستِ مبارک سے کسی خادم، عورت یا دوسرے شخص کو نہیں مارا، سوائے جہاد کے مواقع کے۔
اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں حضرت انس بن مالکؓ کا مشہور بیان موجود ہے:
“خدمت #النبي صلى الله عليه وسلم عشر سنين فما قال لي أف ولا لم صنعت ولا ألا صنعت”
میں نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی، آپ ﷺ نے کبھی مجھے اُف تک نہیں کہا، نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا یا کیوں نہیں کیا۔
یہ روایات نہ صرف صحیح ہیں بلکہ تعلیم و تربیت کے باب میں نبی اکرم ﷺ کے عملی منہج کو واضح کرتی ہیں۔ غور کیجیے کہ ایک بچہ دس سال تک گھر اور سفر دونوں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتا ہے، لیکن نہ اسے مارا جاتا ہے، نہ اس کی تحقیر کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی شخصیت کو مجروح کیا جاتا ہے۔ یہی وہ عملی نمونہ ہے جسے اسلام نے امت کے لیے معیار بنایا ہے۔
مزید برآں شریعت کا ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ نابالغ بچہ شرعی احكام کا مکلف نہیں ہوتا۔ فقہاء کا اتفاق ہے کہ بلوغ سے پہلے نماز فرض نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ جس عمل کا وجوب ابھی ثابت ہی نہیں ہوا، اس کے ترک پر جسمانی سزا کا تصور کس طرح اسلام کے مزاج کے مطابق سمجھا جائے؟ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اہلِ علم نے ان روایات کو تعزیر یا تشدد کے عمومی جواز کے بجائے تربیت، اہتمام اور تدریجی عادت سازی کے معنی میں سمجھا ہے۔
بچوں کو نماز سکھانے اور عبادت کی عادت ڈالنے کا حکم بہرحال ثابت اور متواتر عمل ہے۔ #ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ بچے کو نماز کا حکم کب دیا جائے؟ فرمایا:
“إذا عرف يمينه من شماله فمروه بالصلاة”
جب وہ اپنی دائیں اور بائیں سمت کو پہچاننے لگے تو اسے نماز سکھاؤ۔
صحابۂ کرام اور تابعین کے آثار بھی اسی مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔ ابن ابی شیبہ نے متعدد آثار نقل کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف کا اصل زور تعلیم، ترغیب، عادت سازی اور تدریجی تربیت پر تھا۔ ایک روایت میں حضرت عمرؓ نے ایک عورت کو اپنے بچے کو نماز کے لیے سختی سے جگاتے دیکھا تو فرمایا:
“دعيه فليست عليه حتى يعقلها”
اسے چھوڑ دو، ابھی اس پر نماز لازم نہیں جب تک وہ اس کی حقیقت نہ سمجھ لے۔
حضرت #عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے: “حافظوا على أبنائكم على الصلاة” (اپنی اولاد کی نماز کی نگرانی کرو)۔ حضرت #عبداللہ بن عمرؓ کا معمول تھا کہ جب بچہ دائیں اور بائیں میں فرق پہچان لیتا تو اسے نماز سکھائی جاتی۔ حضرت #ابن عباسؓ اپنے خادموں کو تلقین کرتے تھے كہ بچوں کو نماز کے لیے بیدار کریں، اگرچہ ایک سجدہ ہی کیوں نہ ہو۔ #امام ابراہیم نخعی، محمد بن سیرین، میمون بن مہران اور دیگر تابعین کے آثار بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بچوں کو نماز کی تعلیم تدریج، مشق اور ترغیب کے ذریعے دی جاتی تھی۔
ان تمام آثار میں کہیں بھی شعبۂ حفظ میں رائج سخت جسمانی سزا، ڈنڈوں کی مار، تھپڑ، تحقیر یا خوف کے ماحول کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
عصرِ #حاضر کے علومِ تعلیم اور ماہرینِ نفسیات کی تحقیقات بھی اسی نتیجے تک پہنچی ہیں جس کی طرف اسلامی مزاج رہنمائی کرتا ہے۔ جدید #نفسیاتی مطالعات کے مطابق جسمانی سزا وقتی اطاعت تو پیدا کرسکتی ہے لیکن حقیقی سیکھنے کا عمل، داخلی تحریک، شخصیت کی نشوونما اور علم سے محبت پیدا نہیں کرتی۔ مسلسل مارپیٹ بچے میں خوف، اضطراب، احساسِ کمتری، نفسیاتی دباؤ اور بعض اوقات جارحانہ رویے پیدا کرتی ہے۔ تعلیم کا مقصد اگر صرف معلومات کا منتقل کرنا نہیں بلکہ شخصیت سازی بھی ہے تو تشدد اس مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
خصوصاً #شعبۂ حفظ میں یہ نقصان زیادہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے، کیونکہ یہاں طالب علم کا تعلق براہِ راست قرآن مجید سے استوار ہورہا ہوتا ہے۔ اگر قرآن سیکھنے کا تجربہ خوف، درد، تحقیر اور اذیت کے ساتھ وابستہ ہوجائے تو بچے کے ذہن میں قرآن اور دینی ماحول کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ متعدد واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ شدید جسمانی سزا کے نتیجے میں بچے نہ صرف حفظ چھوڑ دیتے ہیں بلکہ دینی ماحول سے بھی دور ہوجاتے ہیں۔ یہ نتیجہ یقیناً مقاصدِ شریعت اور تعلیمِ قرآن کے اصل مقصد کے خلاف ہے۔
حافظِ #قرآن بنانا محض الفاظ یاد کرانا نہیں بلکہ قرآن کے ساتھ محبت، تعلق، خشیت اور روحانی وابستگی پیدا کرنا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تعلیم و دعوت کے عمومی اصول کے طور پر فرمایا:
“يسروا ولا تعسروا، وبشروا ولا تنفروا”
آسانی پیدا کرو، تنگی پیدا نہ کرو؛ خوشخبری دو، نفرت پیدا نہ کرو۔ یہ حدیث درحقیقت اسلامی تعلیم و تربیت کا بنیادی منشور ہے۔ اگر کوئی تدریسی طریقہ بچوں میں دین، نماز، قرآن یا مدرسہ سے نفرت پیدا کررہا ہو تو وہ اس نبوی ہدایت کے خلاف ہوگا، چاہے اس کے حق میں کتنی ہی روایتی دلیلیں پیش کی جائیں۔
یہ بھی درست ہے کہ فقہاء نے بعض حالات میں تادیب کی محدود گنجائش کا ذکر کیا ہے، لیکن انہوں نے اس کے لیے ایسی سخت شرائط مقرر کی ہیں کہ وہ معمول کی تدریسی پالیسی نہیں بن سکتی۔ فقہاء کے نزدیک اگر کبھی تادیب کی ضرورت پیش آئے تو وہ آخری درجہ ہو، غیر مبرح ہو، نقصان دہ نہ ہو، غصہ یا انتقام کی بنیاد پر نہ ہو، بچے کی عزتِ نفس کو مجروح نہ کرے اور اس کا مقصد محض اصلاح ہو۔ لیکن مدارس میں عام معمول کے طور پر مارپیٹ کو تعلیمی ضرورت قرار دینا نہ سلف کے منہج سے ثابت ہے، نہ اسوۂ نبوی سے، نہ مقاصدِ شریعت سے اور نہ جدید تعلیمی تحقیق اس کی تائید کرتی ہے۔
مدارس الاسلامیہ، خصوصاً #شعبۂ حفظ القرآن، اگر واقعی قرآن کے خام اور #حاملینِ قرآن تیار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خوف اور تشدد کے بجائے رحمت، حکمت اور حسنِ تربیت کے نبوی منہج کو اختیار کرنا ہوگا۔ یہی شریعت کے مزاج، اسوۂ رسول ﷺ اور عصرِ حاضر کے معتبر تعلیمی اصولوں کا تقاضا ہے۔
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
#اللهم صل على محمد و على آل محمد
#alfalahstudycentet
![]()

