Daily Roshni News

حکمت کا امتحان

حکمت کا امتحان

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قدیم زمانے کی بات ہے جب عظیم جرنیل اور عادل حکمران Salah ad-Din Ayyubi (سلطان صلاح الدین ایوبی) اسلامی دنیا کے بڑے سلطان تھے۔ وہ نہ صرف ایک بہادر سپاہی تھے بلکہ علم و حکمت کے بھی قدر دان تھے۔ دور دور سے لوگ ان کے دربار میں سوالات اور مسائل لے کر آتے اور وہ ہمیشہ دلیل اور دانائی سے جواب دیتے۔

ایک دن چار مشہور یہودی عالم سلطان کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ بڑے پڑھے لکھے اور بحث و مباحثے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ دربار میں آنے کے بعد انہوں نے سلطان سے کہا:

“اے سلطان! ہم نے اسلام کے بہت سے احکام سنے ہیں۔ ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔”

سلطان نے مسکرا کر کہا،

“پوچھو، علم سوال کرنے سے ہی بڑھتا ہے۔”

ان میں سے ایک عالم بولا:

“آپ لوگ بکرے اور دنبے کو حلال کہتے ہیں مگر خنزیر کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اگر خنزیر اتنا ہی ناپاک اور غلیظ ہے تو پھر اللہ نے اسے پیدا ہی کیوں کیا؟ اگر آپ ہمیں اس بات کی واضح اور عقلی دلیل دے دیں تو ہم چاروں اسلام قبول کر لیں گے۔”

دربار میں بیٹھے لوگ خاموش ہو گئے۔ سب کی نظریں سلطان صلاح الدین ایوبی پر جم گئیں۔

سلطان نے کچھ لمحے سوچا اور پھر کہا:

“میں تمہیں زبانی جواب نہیں دوں گا۔ میں تمہیں ایسا جواب دوں گا جو تم اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔”

یہ سن کر وہ چاروں عالم حیران ہو گئے۔

اگلے دن سلطان نے حکم دیا کہ ایک کشتی تیار کی جائے۔ اس کشتی میں ایک سور، ایک بکرا، ایک دنبہ، ایک کتا اور ایک گدھا بھی لائے جائیں۔

چاروں علماء کو بھی کشتی میں سوار ہونے کے لیے کہا گیا۔

کشتی دریا کے بیچوں بیچ روانہ ہو گئی۔

سلطان نے کہا:

“ہم دو دن تک اس کشتی میں رہیں گے۔ تمہیں تمہارے سوال کا جواب مل جائے گا۔”

پہلا دن گزر گیا۔ سب لوگ کشتی میں بیٹھے رہے۔ جانور بھی وہیں بندھے ہوئے تھے۔

بکرا اور دنبہ خاموشی سے بیٹھے رہتے، کبھی کبھار گھاس چباتے۔ گدھا بھی پرسکون کھڑا رہتا اور کتا ادھر ادھر دیکھتا رہتا۔

مگر سور کا حال عجیب تھا۔ وہ ہر چیز کو سونگھتا، ادھر ادھر گھومتا اور گندگی پھیلانے کی کوشش کرتا۔

یہودی علماء خاموشی سے یہ سب دیکھتے رہے۔

دوسرا دن بھی گزر گیا۔

رات کا وقت تھا۔ آسمان پر ستارے چمک رہے تھے اور دریا میں ہلکی ہلکی لہریں اٹھ رہی تھیں۔

اسی رات اچانک ایک یہودی عالم کو پیٹ میں شدید درد ہوا۔

وہ گھبرا کر بولا:

“مجھے قضائے حاجت کی سخت ضرورت ہے۔”

کشتی دریا کے بیچ تھی اور وہاں کوئی بیت الخلا موجود نہیں تھا۔

سلطان نے کہا:

“اگر ضرورت ہے تو کشتی کے ایک کونے میں جا کر فارغ ہو جاؤ۔”

مجبوراً وہ عالم کشتی کے کونے میں چلا گیا اور وہیں قضائے حاجت کر لی۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ کشتی میں شدید بدبو پھیل گئی۔

چاروں علماء پریشان ہو گئے۔

سلطان نے کہا:

“اب دیکھتے ہیں ان جانوروں کا رویہ کیا ہوتا ہے۔”

کچھ ہی لمحوں بعد سور وہاں پہنچ گیا۔

وہ اس گندگی کے پاس آیا اور فوراً اسے کھانے لگا۔

یہ منظر دیکھ کر چاروں علماء کے چہرے بدل گئے۔

ان میں سے ایک نے ناک پر ہاتھ رکھ لیا اور بولا:

“یہ کتنا گندا جانور ہے!”

سلطان نے خاموشی سے کہا:

“غور سے دیکھو، یہی تمہارے سوال کا جواب ہے۔”

پھر سلطان نے پوچھا:

“بکرا اور دنبہ کہاں گئے؟”

وہ دونوں جانور اس گندگی سے دور کھڑے تھے۔

گدھا بھی اس کے قریب نہ گیا۔

کتا بھی صرف سونگھ کر پیچھے ہٹ گیا۔

مگر سور نے ساری گندگی صاف کر دی۔

سلطان نے کہا:

“اللہ نے دنیا میں ہر مخلوق کو ایک مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ سور کا کام گندگی کو صاف کرنا ہے۔ وہ ایسی چیزیں کھاتا ہے جنہیں دوسرے جانور چھوتے تک نہیں۔”

پھر سلطان نے مزید کہا:

“جو جانور گندگی اور نجاست کھاتا ہو، اس کا گوشت انسان کے لیے پاک کیسے ہو سکتا ہے؟”

چاروں علماء خاموش ہو گئے۔

انہوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیا تھا۔

ایک عالم آہستہ سے بولا:

“ہم نے آج تک اس طرح کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔”

دوسرے عالم نے کہا:

“واقعی، جو جانور نجاست کھاتا ہے وہ انسان کے لیے مناسب غذا نہیں ہو سکتا۔”

سلطان نے نرمی سے کہا:

“اسلام میں ہر حکم کے پیچھے حکمت ہوتی ہے۔ کبھی انسان فوراً سمجھ جاتا ہے اور کبھی وقت کے ساتھ سمجھ آتی ہے۔”

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد چاروں علماء سلطان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

ان کے چہروں پر سنجیدگی تھی۔

انہوں نے کہا:

“اے سلطان! آپ نے ہمیں دلیل بھی دی اور حقیقت بھی دکھا دی۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔”

یہ سن کر سلطان صلاح الدین ایوبی نے خوشی سے ان کو گلے لگا لیا۔

دریا کی لہریں خاموشی سے بہہ رہی تھیں اور آسمان کے ستارے اس منظر کے گواہ تھے۔

اس دن چار انسانوں کے دل بدل گئے تھے۔

اور سب کو یہ سبق ملا کہ اللہ کی بنائی ہوئی ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے، مگر ہر چیز انسان کے لیے حلال نہیں ہوتی۔

Loading