Daily Roshni News

خاتون اور حضرت داؤد ؑ کا واقعہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک خاتون حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے خدا کے نبی! کیا اللہ ظالم ہے؟ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : رب تعالیٰ تو سراسر عدل و انصاف ہے وہ ذرا برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اس نے کہا اللہ نے مجھ پر ظلم کیا ہے حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا کون سا ظلم کیا ہے؟ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔

وہ کہنے لگی مجھے تو حکمت نظر نہیں آتی مجھے تو ظلم لگتا ہے

پھر اس عورت نے اپنا قصہ بیان کرنا شروع کیا اے خدا کے نبی! میں ایک بیوہ عورت ہوں، میری تین یتیم بچیاں ہیں، جن کی پرورش میں اپنے ہاتھ سے سوت کاٹ کاٹ کے کرتی ہوں

میں دن بھر اور بعض اوقات راتوں کو جاگ کر سوت کاٹتی ہوں۔ گزشتہ روز میں اپنا کاٹا ہوا سوت ایک سرخ کپڑے میں باندھ کر اسے بیچنے کے لیے بازار جانا چاہتی تھی

تاکہ اس کی آمدنی سے بچیوں کے کھانے پینے کا ، بندوبست کروں

لیکن اچانک ایک پرندہ مجھ پر ٹوٹ پڑا اور سرخ کپڑے کا ٹکڑا جس میں میں نے سوت باندھ رکھا تھا

اسے گوشت کا ٹکڑا سمجھتے ہوئے لے اڑا۔ میں یونہی حسرت و یاس سے ہاتھ ملتے رہ گئی۔

اب میرے پاس کچھ نہیں کی اپنی بچیوں کو کھانا ہی کھلا سکوں۔

ابھی وہ خاتون حضرت داؤد علیہ السلام سے اپنی داستان بیان کر رہی تھی کہ اتنے میں آپ کے دروازے پر دستک ہوئی۔

حضرت داؤد علیہ السلام نے آنے والے کو گھر میں داخل ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی

اجازت ملتے ہی دس تاجر یکے بعد دیگرے اندر داخل ہوئے، جن میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں سو سو دینار تھے۔ تاجروں نے عرض کیا : خدا کے نبی ! ہمارے ان دیناروں کو ان کے مستحق تک پہنچادیں۔

: حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا میرے پاس یہ مال حاضر کرنے کا سبب کیا ہے ؟

تاجروں نے جواب دیا: خدا کے نبی ! ہم سب ایک کشتی میں سوار تھے۔ اتفاقاً ایک زور دار آندھی آئی کشتی میں ایک جانب سوراخ ہوگیا اور پانی کشتی میں داخل ہونا شروع ہوگیا۔

موت ہمیں سامنے نظر آرہی تھی۔ ہم نے نذر مانی کہ اگر رب تعالیٰ ہمیں اس طوفان سے نجات دیدے تو ہر شخص سو سو دینار صدقہ کرے گا۔

اب پانی کشتی میں تیزی سے داخل ہونے لگا۔ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی ، جس سے اس سوراخ کو بند کر سکیں۔

ادھر ہم نے نذرمانی ادھر رب تعالیٰ نے ہماری مدد کا بندوبست کر دیا۔ ایک بہت بڑا پرندہ منڈلاتا ہواکشتی کے

اوپر آگیا

۔ اس کے پنجے میں ایک سرخ رنگ کی پوٹلی تھی۔

اس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوٹلی کشتی میں پھینک دی۔

ہم نے لپک کر اس پوٹلی کو پکڑا ، اس میں کاٹا ہوا سوت تھا۔ ہم نے فوراً اس سے کشتی کا سوراخ بند کیا اور اس میں داخل شدہ پانی کو ہاتھوں سے باہر پھینکا۔

تھوڑی دیر بعد طوفان تھم گیا اور یوں ہم موت کے منہ سے واپس آئے ہیں۔

اب یہ صدقے کی رقم آپ کے ہاتھوں میں ہے، آپ جسے چاہیں ، اسے دے دیں

یہ قصہ سن کر حضرت داؤد علیہ السلام اس بیوہ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا

پروردگار تیرے لیے بحر و بر میں تجارت کر رہا ہے اور تو ہے کہ اس کو ظالم گردان رہی ہے؟

پھر آپ نے وہ دینار اس خاتون کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: “جاؤ انہیں اپنی بچیوں پر خرچ کرو

اگر آپ فیس بک کو فضول استعمال کر کے تھک چکے ھیں تو آئیے میرے ساتھ مل کر کچھ اچھا کریں، اور فیس بک پر اپنی اور دوسروں کی اصلاح کریں۔ میری اچھی اچھی پوسٹ پڑھیں اور اپنے دوستوں کو بھی دعوت دیں کہ وہ اچھی بات آگے پھیلائیں۔ جزاک اللہ خیراً ۔۔!

برائے مہربانی لائک اور فالو بھی کر لیں شُکریہ

Info Planet

#IslamicHistory #Lailahaillallah #FaithOverFalsehood #SeeratUnNabi #PowerOfTruth #IslamForAll #DivineJustice #islam #TruthPrevails #infoplanet #nonfollowers #foryoupageシ

Loading