Daily Roshni News

خالد بن ولیدؓ

رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو بے قابو نہ ہونے دیا۔ آپ ﷺ نے دیکھ لیا تھا کہ اہل قریش خندق کے پار کھڑے قہقہے لگا رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کا مزاق بھی اڑا رہے تھے۔ پھبتیاں بھی کس رہے تھے۔ رسول کریم ﷺ اس جگہ پہنچے جہاں عکرمہ اور اس کے سوار کھڑے للکار رہے تھے۔ رسول کریم ﷺ کے ساتھ حضرت علی علیه السلام بھی تھے۔ آپ ﷺ نے صورت حال کا جائزہ لیا تو سمجھ گئے کہ عکرمہ انفرادی مقابلے کیلئے آیا ہے۔ آپ ﷺ کو اور حضرت علی علیه السلام کو دیکھ کر عمرو بن عبدو نے اپنا گھوڑا آگے بڑھایا۔ قسم ہبل اور عزّیٰ کی! عمرو نے للکار کر کہا۔ ”تم میں مجھے کوئی ایک بھی نظر نہیں آ رہا جو میرے مقابلے میں اتر سکے۔“ مؤرخ عینی شاہدوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی خاموشی گواہی دے رہی تھی کہ ان پر عمرو کا خوف طاری ہو گیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ عمرو کی جسامت اور طاقت کے ایسے ایسے قصے مشہور تھے جیسے وہ مافوق الفطرت طاقت کا مالک ہو۔ دیکھا شاید کسی نے بھی نہیں تھا۔ لیکن سب کہتے تھے کہ عمرو گھوڑے کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتا ہے اور وہ پانچ سو گھڑسواروں کو اکیلا شکست دے سکتا ہے۔ اس کے متعلق ہر کوئی تسلیم کرتا تھا کہ اسے نہ کوئی گرا سکا ہے نہ کوئی گرا سکے گا۔ ابو سفیان خندق کے پاس کھڑا دیکھ رہا تھا۔ خالد اور صفوان بھی دیکھ رہے تھے۔ غطفان، عینیہ اور ان کا تمام لشکر دیکھ رہا تھا اور نعیم بن مسعود بھی غیر مسلموں کے لشکر میں دم بخود کھڑے تھے۔
”میں جانتا ہوں تم میں سے کوئی بھی آگے نہیں آئے گا۔“ عمرو بن عبدو کی للکار ایک بار پھر گرجی۔ خندق کے پار قریش کا قہقہہ بلند ہوا اور کئی پھبتیاں سنائی دیں۔ حضرت علی علیه السلام نے رسول خدا ﷺ کی طرف دیکھا۔ آپ ﷺ نے اپنا عمامہ سر سے اتارا اور حضرت علی علیه السلام کے سر پر باندھ دیا پھر اپنی تلوار حضرت علی علیه السلام کو دی۔ مؤرخ ابن سعد نے لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی سرگوشی سنائی دی۔ ”اے اللہ! علی کا مددگار تو ہی ہے۔“ مؤرخین نے اس تلوار کے متعلق جو رسول کریم ﷺ نے حضرت علی علیه السلام کو دی تھی، لکھا ہے کہ ”یہ تلوار قریش کے مشہور جنگجو منبہ بن حجاج کی تھی۔ وہ بدر کی لڑائی میں مارا گیا تھا۔ فاتح مجاہدین نے یہ تلوار حضور ﷺ کو پیش کی تھی۔ آپ ﷺ نے اس کے بعد یہی تلوار اپنے پاس رکھی، اب آپ ﷺ نے وہی تلوار حضرت علی عليه السلام کو دے کر عرب کے ایک دیو قامت کے مقابلے میں اتارا۔ یہ تلوار تاریخ اسلام میں ”ذوالفقار“ کے نام سے مشہور ہوئی۔
حضرت علی عليه السلام، عمرو بن عبدو کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ ”ابو طالب کے بیٹے!“ عمرو جو گھوڑے پر سوار تھا، حضرت سے مخاطب ہوا۔ ”کیا تم بھول گئے ہو کہ تمہارا باپ میرا کتنا گہرا دوست تھا؟ کیا یہ میرے لیے بہت برا فعل نہیں ہوگا کہ میں اپنے عزیز دوست کے بیٹے کو قتل کردوں؟“ ”اے میرے باپ کے دوست!“ حضرت علی عليه السلام نے للکار کر جواب دیا۔ ”ہماری دوستی ختم ہو چکی ہے۔ خدا کی قسم! میں تمہیں صرف ایک بار کہوں گا کہ اللہ کو برحق اور محمد ﷺ کو اللہ کا رسول تسلیم کر لو اور ہم میں شامل ہو جاؤ۔“ ”تم نے ایک بار کہہ لیا ہے۔“ عمرو نے کہا۔ ”میں دوسری بار یہ بات نہیں سنوں گا۔“ ”میں تمہیں قتل نہیں کرنا چاہتا۔“ حضرت علی عليه السلام نے کہا۔ ”اتر گھوڑے سے اور آ میرے مقابلے پر۔ اور بچا اپنے آپ کو اس تلوار سے جو مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے عطا کی ہے۔“
عمرو کے متعلق مؤرخ لکھتے ہیں کہ وہ وحشی تھا۔ جب غصے میں آتا تھا تو اس کا چہرہ غضب ناک ہو کر درندوں جیسا ہو جاتا تھا۔ وہ گھوڑے سے کود کر اترا اور تلوار سونت کر حضرت علی عليه السلام پر پہلا وار اتنی تیزی سے کیا کہ دیکھنے والے یہ سمجھے کہ اس کی تلوار نے حضرت علی عليه السلام کو کاٹ دیا ہے۔ لیکن حضرت علی عليه السلام نے بھرپور وار بچا گئے۔ اس کے بعد عمرو نے یکے بعد دیگرے حضرت علی عليه السلام پر متعدد وار کیے۔ حضرت علی عليه السلام نے ہر وار غیر متوقع پینترا بدل کر بچایا۔ عمرو نے یہ تو سوچا ہی نہیں تھا کہ جس جسامت اور طاقت پر اسے اتنا گھمنڈ ہے وہ ہر جگہ کام نہیں آسکتی۔ تیغ زنی کے معرکے میں جس تیزی اور پھرتی کا مظاہرہ حضرت علی عليه السلام کر رہے تھے وہ عمرو نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس کا جسم بھاری بھرکم تھا، اگر وہ گھوڑے کو اپنے کندھوں پر اٹھا بھی سکتا تھا تو بھی اس میں گھوڑے جیسی رفتار نہیں تھی۔ اس کی طاقت گھوڑے سے زیادہ بھی ہو سکتی تھی۔ حضرت علی عليه السلام نے اس پر ایک بھی وار نہ کیا جسے عمرو نے خوفزدگی سمجھا ہوگا۔ وہ وار پر وار کرتا رہا اور حضرت علی عليه السلام کبھی ادھر کبھی ادھر ہوتے رہے۔
خندق کے پار اہل قریش کا لشکر جو قہقہے لگا رہا تھا، یک لخت خاموش ہو گیا۔ کیونکہ ان کا دیو قامت عمرو وار کرتے کرتے رک گیا تھا، اور خاموش کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ ہانپ رہا تھا۔ وہ غالباً حیران تھا کہ یہ نوجوان جو قد وقامت میں اس کے جسم کا بیسواں حصہ بھی نہیں ہے اس سے مرعوب کیوں نہیں ہوا۔ دراصل عمرو تھک گیا تھا۔ حضرت علی عليه السلام نے جب اس کی یہ حالت دیکھی کہ وہ اپنی طاقت اتنے سارے وار کرتے کرتے صرف کر چکا ہے اور حیران و پریشان کھڑا ہے تو حضرت علی عليه السلام نے یہ حیران کن مظاہرہ کیا کہ تلوار پھینک کر بجلی کی سی تیزی سے عمرو پر جھپٹے، اور اچھل کر اس کی گردن اپنے ہاتھوں میں دبوچ لی۔ اس کے ساتھ ہی حضرت علی عليه السلام نے عمرو کی ٹانگوں میں اپنی ٹانگ ایسے پھنسائی کہ وہ پیٹھ کے بل گرا۔ اس نے اپنی گردن چھڑانے کیلئے بہت زور لگایا لیکن اس کی گردن حضرت علی عليه السلام کی آہنی گرفت سے آزاد نہ ہو سکی۔ حضرت علی عليه السلام نے اس کی گردن سے ایک ہاتھ ہٹا کر کمر بند سے خنجر نکالا اور اس کی نوک عمرو کی شہ رگ پر رکھ دی۔ ”اب بھی میرے اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لے آ تو میں تیری جان بخشی کر دوں گا۔“ حضرت علی عليه السلام نے کہا۔
عمرو بن عبدو نے جب دیکھا کہ اس کی وہ طاقت جس سے اہل عرب لرزتے تھے بے کار ہو گئی ہے تو اس نے یہ اوچھی حرکت کی کہ حضرت علی عليه السلام کے منہ پر تھوک دیا۔ دیکھنے والے ایک بار پھر حیران رہ گئے کیونکہ حضرت علی عليه السلام خنجر سے اس کی شہ رگ کاٹ دینے کے بجائے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے خنجر کمر بند میں واپس لیا اور ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کیا۔ عمرو اب اس طرح اٹھا جیسے اس کے جسم کی طاقت ختم ہو چکی ہو۔ صرف اسے ہی نہیں ہر کسی کو توقع تھی کہ حضرت علی عليه السلام اسے زندہ نہیں اٹھنے دیں گے لیکن حضرت علی عليه السلام بڑے آرام سے پیچھے ہٹے۔ ”عمرو!“ حضرت علی عليه السلام نے کہا۔ ”میں نے اللہ کے نام پر تیرے ساتھ زندگی اور موت کا مقابلہ کیا ہے لیکن تو نے میرے منہ پر تھوک کر میرے دل میں ذاتی دشمنی پیدا کر دی ہے۔ میں تجھے ذاتی دشمنی کی بنا پر قتل نہیں کروں گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے خدا کو میرا یہ انتقام اچھا نہ لگے۔ جا یہاں سے، اپنی جان لے کر واپس چلا جا۔“
عمرو بن عبدو شکست تسلیم کرنے والا آدمی نہیں تھا۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ میدان میں اس کی یہ پہلی بار تھی جسے وہ برداشت نہ کر سکا۔ اس نے اپنی ہار کو جیت میں بدلنے کیلئے یہ اوچھی حرکت کی کہ تلوار نکال کر حضرت علی عليه السلام پر جھپٹ پڑا۔ ان کی کامیابی کیلئے رسول خد ﷺ نے خدا سے مدد مانگی تھی۔ عین وقت پر جب عمرو کی تلوار اور حضرت علی عليه السلام کی گردن میں دو چار لمحوں کا فاصلہ رہ گیا تھا، حضرت علی عليه السلام نے اپنی ڈھال آگے کر دی۔ عمرو کا وار اس قدر زور دار تھا کہ اس کی تلوار نے حضرت علی عليه السلام کی ڈھال کو کاٹ دیا۔ ڈھال حضرت علی عليه السلام کے کان کے قریب سر پر لگی جس سے خون بہنے لگا۔
عمرو ڈھال میں سے تلوار کھینچ ہی رہا تھا کہ حضرت علی عليه السلام کی وہ تلوار جو انہیں رسول کریم ﷺ نے دی تھی، اتنی تیزی سے حرکت میں آئی کہ عمرو کی گردن کٹ گئی۔۔ عمرو کی تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی، اس کا جسم ڈولنے لگا۔ حضرت علی عليه السلام نے اس پر دوسرا وار نہ کیا۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ یہی وار کافی ہے۔ عمرو کی ٹانگیں دوہری ہوئیں، اس کے گھٹنے زمین پر لگے اور وہ لڑھک گیا۔ عرب کی مٹی اس کا خون چوسنے لگی۔
خندق کے پار دشمن کے لشکر پر ایسا سکوت طاری ہو گیا جیسے پورے کا پورا لشکر کھڑے کھڑے مر گیا ہو۔ اب مسلمانوں کے نعرے گونج رہے تھے۔ عربوں کی رسم کے مطابق اس مقابلے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا تھا۔ مسلمانوں کے ایک جیش نے عکرمہ اور اس کے باقی سواروں پر حملہ کر دیا تھا۔ قریش کے ان سواروں کیلئے بھاگ نکلنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ خیریت سے پسپا ہونے کیلئے لڑے۔ اس معرکے میں قریش کا ایک آدمی مارا گیا۔ عکرمہ نے اپنا ایک گھوڑا خندق کی طرف موڑ کر بھاگ نکلنے کیلئے ایڑھ لگائی۔ خندق پھلانگنے سے پہلے عکرمہ نے اپنی برچھی پھینک دی۔ ان میں سے ایک سوار جس کا نام ”خالد بن عبداللہ“ تھا خندق کو پھلانگ نہ سکا۔ اس کا گھوڑا خندق کے اگلے کنارے سے ٹکرایا اور خندق میں جا پڑا۔ وہ اٹھ کر کنارے پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن مسلمانوں نے اس پر پتھروں کی بوچھاڑ کر دی اور وہ وہیں ختم ہو گیا۔
رسول کریم ﷺ نے حکم دیا کہ خندق کے اس مقام پر مستقل پہرے کا انتظام کر دیا جائے کیونکہ وہاں سے خندق پھلانگی جا سکتی تھی۔ دوسرے دن خالد اپنے گھڑسوار دستے میں سے چند ایک جانباز سوار منتخب کر کے خندق عبور کرنے کو چل پڑا۔ ”خالد رک جاؤ!“ ابو سفیان نے اسے کہا۔ ”کیا تم نے کل عکرمہ کے سواروں کا انجام نہیں دیکھا؟ اب مسلمانوں نے وہاں پہرے کا اور زیادہ مضبوط انتظام کر دیا ہوگا۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ لڑے بغیر واپس جانے کے بجائے تم میری لاش میرے گھوڑے پر رکھ کر مکہ لے جاؤ؟“ خالد نے کہا۔ ”اگر ہم ایک دوسرے کے انجام سے ڈرنے لگے تو وہ دن بہت جلد طلوع ہوگا جب ہم مسلمانوں کے غلام ہوں گے۔“ ”میں تمہیں نہیں روکوں گا میرے دوست!“ عکرمہ نے خالد سے کہا۔ ”لیکن میری ایک بات سن لو۔ اگر تم میری شکست کا انتقام لینے جا رہے ہو تو رک جاؤ۔ تمہیں قریش کی عظمت عزیز ہے تو ضرور جاؤ۔“
آج مدینہ کی طرف جاتے ہوئے خالد کو وہ لمحے یاد آ رہے تھے۔ اسے نہ اس وقت یہ خیال آیا تھا نہ آج کہ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ خندق عبور کر کے بھی مارا جائے گا، نہ عبور کر سکا تو بھی مارا جائے گا، کیوں خندق کی طرف چل پڑا تھا۔
وہ ۶ مارچ ۶۲۷ء کے دن کا تیسرا پہر تھا۔ خالد چند ایک منتخب سواروں کے ساتھ خندق کی طرف بڑھا۔ اس نے خندق پھلانگنے کیلئے کچھ فاصلے سے اپنے گھوڑے کو ایڑھ لگائی۔ مگر اس مقام کے پہرے پر جو مسلمان کہیں چھپے بیٹھے تھے، انہوں نے تیروں کا مینہ برسا دیا۔ خالد نے لگام کو پوری طاقت سے کھینچا، اور اس کا گھوڑا خندق کے عین کنارے پر جا رکا۔ خالد نے گھوڑے کو پیچھے موڑا اور اپنے تیر اندازوں کو بلایا۔ اس نے سوچا تھا کہ اس کے تیر انداز مسلمانوں پر تیر پھینکتے چلے جائیں گے جس سے مسلمان سر نہیں اٹھا سکیں گے اور وہ خندق پھلانگ لے گا۔ لیکن مسلمانوں نے تیر اندازی میں اضافہ کر دیا۔ مسلمان تیروں کی بوچھاڑوں میں تیر چلا رہے تھے۔ خالد کو پسپا ہونا پڑا۔ خالد اس انداز سے اپنے سواروں کو وہاں سے ہٹا کر دوسری طرف چل پڑا جیسے اس نے خندق پر ایک اور حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہو۔ مؤرخین جن میں ابن ہشام اور ابن سعد قابل ذکر ہیں لکھتے ہیں کہ ”یہ خالد کی ایک چال تھی۔ اس نے چلتے چلتے اپنے سوار جیش میں مزید سوار شامل کر لیے۔ اس نے سوچا یہ تھا کہ اسے پسپا ہوتے دیکھ کر مسلمان پہرے دار ادھر اُدھر ہو جائیں گے۔“ اس نے ادھر دیکھا۔ وہاں اسے کوئی پہرے دار نظر نہ آیا۔ اس نے اپنے دستے کو خندق کے کم چوڑائی والے مقام کی طرف موڑ کر سرپٹ دوڑا دیا۔
خالد کی یہ چال صرف اس حد تک کامیاب رہی کہ اس کے تین چار گھڑسوار خندق پھلانگ گئے۔ ان میں خالد سب سے آگے تھا۔ مسلمان پہرے داروں نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ قریش کے جو سوار ابھی خندق کے پاس تھے، ان پر مسلمانوں نے اتنے تیر برسائے کہ انہیں پسپا ہونا پڑا۔ خالد اور اس کے سواروں کیلئے مسلمانوں کے گھیرے سے نکلنا بہت مشکل ہو گیا۔ یہ زندگی اور موت کا معرکہ تھا جو خالد نے گھوڑا دوڑا کر اور پینترے بدل بدل کر لڑا۔ اس کے سوار بھی تجربہ کار اور پھرتیلے تھے۔ ان میں سے ایک مارا گیا۔ خالد اب دفاعی معرکہ لڑ رہا تھا۔ اس نے کئی مسلمانوں کو زخمی کیا جن میں سے ایک شہید ہو گیا۔ آخر اسے نکلنے کا موقع مل گیا اور اس کا گھوڑا خندق کو پھلانگ آیا۔ اس کے جو سوار زندہ رہ گئے تھے وہ بھی خندق پھلانگ آئے۔ اس کے بعد قریش میں سے کسی نے بھی خندق کے پار جانے کی جرات نہ کی۔
عکرمہ اور خالد کی ناکامی کے بعد قریش اور ان کے دیگر اتحادی قبائل کے لشکر میں مایوسی جو پہلے ہی کچھ کم نہ تھی اور بڑھ گئی۔ خوراک نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ ابو سفیان جو اپنے اور دیگر تمام قبائل کے لشکر کا سالار اعلیٰ تھا پہلے ہی ہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھا تھا۔ خالد، عکرمہ اور صفوان نے یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ ان کا لشکر زندہ و بیدار ہے، یہ کارروائی جاری رکھی کہ وقتاً فوقتاً خندق کے قریب جا کر مسلمانوں کی خیمہ گاہ پر تیر برساتے رہے۔ اس کے جواب میں مسلمانوں نے تیر اندازوں کو خندق کے قریب پھیلا دیا جو اہل قریش کے تیر اندازوں پر جوابی تیر اندازی کرتے رہے۔ تیروں کے تبادلے کا یہ سلسلہ صرف ایک دن صبح سے شام تک چلا۔
اہل قریش، غطفان اور دیگر قبائل جس محمد ﷺ کو شکست دینے آئے تھے وہ محمد ﷺ کسی ملک کے بادشاہ نہیں تھے۔ وہ خدا کے رسول ﷺ تھے۔ خدا نے انہیں ایک عظیم پیغام دے کر رسالت عطا کی تھی۔ آپ ﷺ نے خدا سے مدد مانگی تھی۔ خدا اپنے رسول ﷺ کو کیسے مایوس کرتا؟ اس کے علاوہ مدینہ کے اندر مسلمانوں کی عورتیں اور بچے دن رات اپنی کامیابی اور نجات کی دعائیں مانگتے رہتے تھے۔ یہ دعائیں رائیگاں کیسے جاتیں؟
۱۸ مارچ ۶۲۷ء بروز منگل مدینہ کی فضاء خاموش ہو گئی۔ سردی خاصی تھی، ہوا بند ہو گئی۔ موسم خوش گوار ہو گیا لیکن یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔ اچانک آندھی آگئی جو اس قدر تیز و تند تھی کہ خیمے اڑنے لگے۔ جھکڑ بڑے ہی سرد تھے۔ آندھی کی تندی اور اس کی چیخوں سے گھوڑے اور اونٹ بھی گھبرا گئے اور رسیاں تڑوانے لگے۔ مسلمانوں کی اجتماع گاہ سلع کی پہاڑی کی اوٹ میں تھی۔ اس لیے آندھی انہیں اتنا پریشان نہیں کر رہی تھی جتنا مکہ کے لشکر کو۔ قریش کھلے میدان میں تھے۔ آندھی ان کا سامان اڑا رہی تھی، خیمے اڑ گئے یا لپیٹ دیئے گئے تھے۔
لشکر کے سردار اور سپاہی اپنے اوپر ہر وہ کپڑا ڈال کر بیٹھ گئے تھے جو ان کے پاس تھا۔ ان کیلئے یہ آندھی خدا کا قہر بن گئی تھی۔ اس کی چیخوں میں قہر اور غضب تھا۔ ابو سفیان برداشت نہ کر سکا، وہ اٹھا اسے اپنا گھوڑا نظر نہ آیا۔ قریب ہی ایک اونٹ بیٹھا تھا۔ ابو سفیان اونٹ پر چڑھ بیٹھا اور اسے اٹھایا۔ مؤرخ ابن ہشام کی تحریر کے مطابق ابو سفیان بلند آواز سے چلانے لگا۔ ”اے اہل قریش! اے اہل غطفان! کعب بن اسد نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ آندھی ہمارا بہت نقصان کرچکی ہے۔ اب یہاں ٹھہرنا بہت خطرناک ہے۔ مکہ کو کوچ کرو، میں جا رہا ہوں….. میں جا رہا ہوں۔“ اس نے اونٹ کو مکہ کی طرف دوڑا دیا۔ خالد کو آج وہ منظر یاد آ رہا تھا۔ تمام لشکر جسے مکہ سے مدینہ کی طرف کوچ کرتے دیکھ کر اس کا سینہ فخر سے پھیل گیا تھا اور سر اونچا ہو گیا تھا، ابو سفیان کے پیچھے پیچھے ڈری ہوئی بھیڑوں کی طرح جا رہا تھا۔ خالد اور عمرو بن العاص نے اپنے طور پر سوچا تھا کہ ہو سکتا ہے مسلمان عقب سے حملہ کر دیں، چنانچہ انہوں نے اپنے سوار دستوں کو اپنے قابو میں رکھ کر لشکر کے عقب میں رکھا تھا۔
واللہ اعلم بالصواب ۔اگر کوئی کمی بیشی ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔
دوستو….!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️
Golden pages of History
جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
#Islam
#IslamicHistory
#Seerah
#SeeratUnNabi
#ProphetMuhammad ﷺ
#BattleOfKhandaq
#GhazwaeKhandaq
#BattleOfTrench
#ImamAli
#HazratAli
#DhulFiqar
#FaithOverFear
#TruthPrevails
#Courage
#Bravery
#Justice
#Sacrifice
#Patience
#DivineHelp
#VictoryOfFaith
#StandForTruth
#AgainstOppression
#HistoryThatInspires
#LessonsFromHistory
#IslamicLegacy
#Unity
#Hope
#LightOfIslam
#MessageOfPeace

#پچھلی قسطوں کے لنک کمنٹ میں دیے گئے

Loading