خاکسار کی کتاب برگد تلے سے ایک باپ
تحریر۔۔۔۔۔۔نصیر احمد آفاقی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خاکسار کی کتاب برگد تلے سے ایک باپ۔۔۔ تحریر۔۔۔نصیر احمد آفاقی )سچائی کی تلاش میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنے سوالات کو دیانت داری سے قبول کریں۔
اکثر انسان ان سوالات سے خوف محسوس کرتا ہے جو اس کے پہلے سے قائم عقائد کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسان کے عقائد صرف خیالات نہیں ہوتے، بلکہ وہ اس کی شناخت، خاندان، معاشرے اور جذبات سے جڑ جاتے ہیں۔
جو عقائد ہمیں بچپن سے ملتے ہیں، جن کے ساتھ ہمارا ماحول، ہماری روایات اور ہماری جذباتی وابستگیاں ہوتی ہیں، انہیں پر سوال اٹھانا آسان نہیں ہوتا۔
لیکن اگر سچائی واقعی اہم ہے تو پھر ایک بنیادی سوال ضرور پوچھنا ہوگا:
کیا کوئی تصور صرف اس لیے درست ہو سکتا ہے کہ وہ ہمیں ورثے میں ملا ہے؟
دنیا کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے انسان مختلف مذاہب، مختلف عقائد اور مختلف نظریات کے ساتھ پرورش پاتے ہیں۔ ۔
ایک شخص جس مذہبی گھرانے میں پیدا ہوتا ہے وہ اسی مذہب کو سچ سمجھتا گا۔
لیکن اگر وہی شخص کسی دوسرے ملک، دوسرے خاندان یا دوسرے ثقافتی ماحول میں پیدا ہوتا تو ممکن ہے اس کا یقین بالکل مختلف ہوتا۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا سچائی کا تعلق ہماری پیدائش کے مقام سے ہے، یا حقیقت میں کوئی ایسا معیار موجود ہے جس سے ہم مختلف دعوؤں کو پرکھ سکیں۔
انسانی آگہی کے پاؤں میں پڑی سب سے گراں بار زنجیر وہ عقائد ہیں جو اسے انتخاب کے حق سے پہلے ہی ‘عطا’ کر دیے جاتے ہیں۔ شعور کی ناپختہ زمین پر جو بیج ابتدائی برسوں میں بو دیے جاتے ہیں، وہ وقت گزرنے کے ساتھ محض خیالات نہیں رہتے بلکہ وجود کا جزوِ لاینفک بن جاتے ہیں۔ انسان بعد میں جو بھی منطق تراشتا ہے، وہ انہی جڑوں سے پھوٹنے والی شاخیں ہوتی ہیں۔
چنانچہ سچ کی راہ میں سب سے مضبوط دیوار ہمارے بچپن کے عقائد ہیں۔ زندگی کے ابتدائی برسوں میں جو نظریات ہمارے ذہنوں میں بھر دیے جاتے ہیں، وہ محض معلومات نہیں رہتے بلکہ ہماری شناخت، ہمارا احساسِ ذات اور ہمارا زاویۂ نگاہ بن جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی عقائد ذہن کو حرکت کے بجائے جمود عطا کرتے ہیں۔ سوال کرنے کی جرأت کم ہوتی جاتی ہے، اور سوچ آہستہ آہستہ ایک مقررہ دائرے میں قید ہو جاتی ہے۔
ہم ان عقائد کو آخری سچ اس لیے مان لیتے ہیں کہ ہم نے انہیں کبھی عقل کی کسوٹی پر پرکھا ہی نہیں ہوتا۔ ان سے ہمارا رشتہ دلیل کا نہیں، جذبات کا ہوتا ہے۔ جیسے انسان اپنی ماں پر تنقید برداشت نہیں کر پاتا، چاہے حقیقت کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو، اسی طرح ہم اپنے عقائد پر سوال سننے کو تیار نہیں ہوتے۔
انسان ایک خوش کن فریب میں مبتلا رہتا ہے کہ سچ کی کل کائنات اسے ورثے میں مل چکی ہے، اور باقی جہان محرومی کی گرد میں اٹا ہے۔ اس خود ساختہ یقین کے زیرِ سایہ وہ صرف انھی صداؤں کو سنتا ہے جو اس کے اپنے اندر کی گونج ہوں۔
اس جذباتی وابستگی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم دوسروں کے نظریات کو محض مختلف نہیں بلکہ خطرناک اور اپنے لیے زہر قاتل سمجھنے لگتے ہیں۔ اور دوسروں کو غلط،حقیر، گمراہ اور بدقسمت جب کہ اپنے بارے میں ہمیں یقین کامل ہوتا ہے کہ ہم راہ راست پر ہیں ۔یوں اختلاف نفرت میں، نفرت تعصب میں اور تعصب تشدد میں بدل جاتا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انسان نے اپنے عقیدے کی حفاظت کے نام پر دوسروں کی جان لینا بھی جائز سمجھا، بلکہ اسے اپنے لیے باعث فخر سمجھا۔
ہم ایک گہری خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہمیں ہی سچ عطا ہوا ہے۔
یہ احساس ہمیں پرسکون نہیں بلکہ مطمئن کر دیتا ہے، اور یہی اطمینان فکری موت کی پہلی علامت ہوتا ہے۔
اسی کیفیت میں ہماری پوری زندگی ایک ہی عقیدے کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ ہم وہی کتابیں پڑھتے ہیں جو ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ ہم درست ہیں، اور انہی محفلوں میں بیٹھتے ہیں جہاں ہمارے سوال پہلے سے طے شدہ جوابات میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ یوں شعور کی نمو رک جاتی ہے۔ ذہن کشادہ ہونے کے بجائے تنگ نظری کا شکار ہو جاتا ہے۔
اگر ہم تحقیق بھی کریں تو اکثر وہ محض اپنے ہی یقین کی توثیق بن کر رہ جاتی ہے۔ سچ ہمیں وہی نظر آتا ہے جو ہم پہلے سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت ہمارے سامنے ہوتی ہے، مگر ہم اسے اپنے عقیدے کے آئینے میں مسخ کر لیتے ہیں۔
فولادی خول
انسانی ذہن کی حالت اس پرندے کے بچے جیسی ہے جو انڈے کے خول میں بند ہوتا ہے۔ جب تک خول سلامت ہے، اسے یہی گمان رہتا ہے کہ یہی پوری کائنات ہے۔ مگر جیسے ہی خول ٹوٹتا ہے، ایک وسیع اور نامعلوم دنیا اس کے سامنے کھل جاتی ہے۔ ہمارے بچپن کے عقائد بھی ایسا ہی خول ہیں۔ وہ ہمیں تحفظ کا احساس تو دیتے ہیں، مگر پرواز کی اجازت نہیں دیتے۔
اسی لیے سچ کی تلاش کا پہلا اور سب سے کٹھن مرحلہ یہی ہے کہ ہم اس خول کو توڑنے کی جرأت کریں۔ اپنے موروثی عقائد کو—چاہے وہ درست ہی کیوں نہ ہوں—۔ ایک لمحے کے لیے معطل کر دیں۔ ذہن کو خالی کریں، تعصب ختم کریں، اور سوال کو دوبارہ جنم لینے دیں۔
یہ مرحلہ آسان نہیں۔ یہ عمل گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، کیونکہ ان عقائد کو چھوڑنا دراصل اپنے وجود کے ایک حصے کو چھوڑنے جیسا محسوس ہوتا ہے
مگر آفاقی سچائی یہی ہے کہ:
جب تک خول پاش پاش نہیں ہوتا، پرواز کا استعارہ حقیقت نہیں بن سکتا۔
جب تک انسان اپنے ‘موروثی سچ’ کو سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ہمت نہیں پاتا، سچائی کا نور اس پر روشن نہیں ہوتا ۔۔
شاید یہی سچ کی تلاش کی سب سے تلخ حقیقت ہے۔
جب ہم اپنے بچپن کے اندھے عقیدے کے فولادی خول کو پاش پاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ہمارے سامنے شعور و اگہی کا افتاب اہستہ اہستہ طلوع ہونے لگتا ہے۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اس سے قبل ہم کس قدر اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔”
دن اور رات کا استعارہ
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ فکری پختگی صرف اپنے عقائد تک محدود رہنے سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ مخالف نظریات کا مطالعہ بھی اسی گہرائی سے ضروری ہے۔ جو شخص صرف ایک ہی سمت دیکھتا ہے وہ مکمل منظر نہیں دیکھ سکتا۔ روشنی اور تاریکی، دن اور رات، سچ اور غلط—یہ سب ایک دوسرے کے فہم سے جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کو سمجھے بغیر مکمل تصویر تک رسائی ممکن نہیں۔
چنانچہ جب انسان بلوغت کی دہلیز پر اپنے وراثتی عقائد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی جرأت کرتا ہے،بشرط کہ یہ جائزہ اخلاص اور تحقیق پر مبنی ہو تو دو نتائج سامنے آتے ہیں:
اگر عقیدہ درست ہوا تو
ہمارا ایمان زیادہ مضبوط اور پختہ ہوگا اور ان عقائد اور افکار کی اہمیت بھی ہم پر اجاگر ہوگی۔
، اور اگر غلط ہوا تو انسان اس کے اثر سے آزاد ہو کر زیادہ متوازن فہم حاصل کر لیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں شعور میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔
جب انسان سچائی کی دہلیز پار کرکے حقیقت کے روبرو کھڑا ہوتا ہے تو اسے محض ایک جواب نہیں ملتا، اس کے اندر ایک نئی دنیا طلوع ہوتی ہے۔ علم و آگہی کی لازوال دولت ہاتھ آتی ہے ۔ ۔
حقیقت کا ادراک انسان کو ایک ایسی مسرت عطا کرتا ہے جسے لفظوں میں قید کرنا ممکن نہیں۔ یہ اس لمحے کی سرشاری ہے جب انسان اپنے ہی وجود سے اٹھنے والے ایک قدیم سوال کا جواب سن لیتا ہے۔ اور یقین اندر سے اٹھنے والی ایک روشن آواز بن جاتا ہے۔
ذہن، جو برسوں سے سوالوں کے بوجھ تلے جھکا ہوتا ہے، اچانک اپنے ہی آسمان کا رخ دیکھنے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اندر کہیں ایک پوشیدہ چشمہ تھا جو حقیقت کی ایک ضرب سے پھوٹ پڑا ہو۔ اس کا پانی ذہن کے ان گوشوں تک پہنچتا ہے جہاں مدتوں سے خوف، تذبذب اور وہم نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
سوچ میں وسعت آتی ہے، نگاہ میں گہرائی اترتی ہے، سوال خوف نہیں رہتے بلکہ راستے بن جاتے ہیں،
یہی سچائی کا سب سے بڑا معجزہ ہے
![]()

