Daily Roshni News

خدا، جغرافیہ اور وراثت کا جبر: کیا ہمارا عقیدہ محض ایک اتفاق ہے؟ -تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد

خدا، جغرافیہ اور وراثت کا جبر: کیا ہمارا عقیدہ محض ایک اتفاق ہے؟ – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )زندگی کی اس طویل، پرپیچ اور بسا اوقات تھکا دینے والی مسافت میں، جب ہم روزمرہ کی بے ہنگم دوڑ اور معاشی بقا کی جنگ سے ذرا سی فرصت نکال کر اپنے ہی وجود کے اندر جھانکتے ہیں، تو کچھ ایسے سلگتے ہوئے سوالات ہمارا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں جنہیں ہم عموماً عقیدت کے دبیز پردوں یا سماجی مصلحتوں کے خوف سے قالین کے نیچے دھکیلنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

مجھے حال ہی میں ان باکس میں ایک نوجوان کی طرف سے ایک ایسی ہی طویل، کرب ناک اور فکری الجھنوں سے بھری ہوئی تحریر موصول ہوئی ہے جس نے مجھے روایتی موضوعات سے ہٹ کر براہِ راست انسانی شعور، مذہب کے جغرافیائی جبر اور الہامی انصاف کے ان نازک ترین پہلوؤں پر بات کرنے پر مجبور کر دیا ہے جو آج کے ہر اس پڑھے لکھے اور حساس نوجوان کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں جو اندھی تقلید کے بجائے دلیل کی روشنی کا متلاشی ہے۔

اس نوجوان کا یہ کرب اور احساسِ ندامت کہ وہ خود کو ایک گمراہ اور ان پڑھ انسان سمجھتا ہے کیونکہ وہ اپنے مسلمان ہونے کی کوئی عقلی اور منطقی وجہ نہیں تلاش کر پا رہا، دراصل کسی گمراہی کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائناتی سچائی کی طرف اٹھنے والا پہلا، سب سے مضبوط اور سب سے شفاف قدم ہے جسے قرآنِ مجید کی زبان میں ‘تدبر’ کہا جاتا ہے۔

جب کوئی مجھ سے یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان صرف اس لیے ہوں کیونکہ میں نے ایک مسلمان کے گھر میں جنم لیا ہے، اور اگر میں کسی ہندو یا عیسائی کے گھر پیدا ہوتا تو آج میں مندر یا چرچ میں بیٹھا ہوتا، تو میں اس کی اس بات کو کسی الحاد یا بغاوت کا طعنہ دینے کے بجائے اس کی فکری دیانتداری پر اسے داد دیتا ہوں۔

حقیقت یہی ہے کہ ہم میں سے ننانوے فیصد لوگ اپنا مذہب، اپنا مسلک، اپنی زبان اور اپنا خدا بالکل اسی طرح اپنے والدین سے وراثت میں حاصل کرتے ہیں جس طرح ہم ان سے اپنی جائیداد، اپنے خدوخال اور اپنی خاندانی بیماریاں وراثت میں پاتے ہیں۔ لیکن یہاں سے وہ اصل فکری سفر شروع ہوتا ہے جسے سمجھنا آج کی اس کنفیوزڈ اور سوشل میڈیا کے سطحی علم میں الجھی ہوئی نسل کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔

یہ سوال کہ کیا سچائی محض قسمت، جغرافیے یا کسی خطے کی جاگیر ہے، بظاہر بہت وزن دار لگتا ہے، لیکن جب ہم اسے الہامی فلسفے اور عقل کے کڑے ترازو پر تولتے ہیں تو اس کی تہیں کچھ اور ہی حقیقت بیان کرتی ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں اپنے ذہنوں سے اس زہریلے اور صدیوں پرانے مغالطے کو کھرچ کر نکالنا ہوگا کہ خدا نے ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کر کے ہم پر کوئی ایسا ‘فیور’ (Favor) یا احسان کیا ہے جس کے نتیجے میں ہم خود بخود جنت کے ٹھیکیدار بن گئے ہیں اور باقی دنیا کے اربوں انسان محض اس لیے جہنم کا ایندھن بنیں گے کیونکہ ان کی پیدائش اتفاقاً کسی غیر مسلم گھرانے میں ہو گئی تھی۔

یہ تصور سراسر اس عدلِ الٰہی کی نفی ہے جو کائنات کے ذرے ذرے میں پوری آب و تاب کے ساتھ کارفرما ہے۔ قرآنِ مجید، جسے ہم ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ تو اندھی تقلید اور باپ دادا کے وراثت میں ملے ہوئے مذہب کا سب سے بڑا ناقد ہے۔

قرآن بار بار ان لوگوں کی شدید مذمت کرتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ

“ہم نے اپنے باپ دادا کو جس راستے پر پایا، ہم تو اسی پر چلیں گے”۔

اگر پیدائشی طور پر مل جانے والا عقیدہ ہی نجات کا حتمی پیمانہ ہوتا، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بت تراش باپ کے خلاف بغاوت کر کے آگ میں کودنے کی کیا ضرورت تھی؟

وہ بھی تو ایک مخصوص جغرافیے اور ایک مشرک گھرانے کی پیداوار تھے۔

دراصل، کائنات کا خالق یہ چاہتا ہی نہیں کہ انسان اس کے وجود کو محض ایک جینیاتی یا جغرافیائی حادثے کے طور پر قبول کرے۔

جس طرح جدید سائنس میں ایپی جینیٹکس (Epigenetics) کا حیرت انگیز علم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اصل مسئلہ جینز کی ترتیب یا جینیاتی وراثت (Gene Sequence) کا نہیں ہے، بلکہ ان عوامل کا ہے جو ان جینز کے اظہار (Gene Expression) کو کنٹرول کرتے ہیں، بالکل اسی طرح کسی خاص مذہبی گھرانے میں پیدائش آپ کے عقیدے کی محض ایک ابتدائی ترتیب تو طے کر سکتی ہے، مگر آپ کی روح اور آپ کے شعور کا اصل امتحان اس عقیدے کا شعوری، عملی اور عقلی اظہار ہے۔

جب تک آپ اپنے وراثت میں ملے ہوئے ‘اتفاقی اسلام’ کو سوالات کی بھٹی میں جلا کر، تحقیق اور تفتیش کے کٹھن راستوں سے گزر کر ایک ‘شعوری اسلام’ میں تبدیل نہیں کر لیتے، تب تک آپ کا عقیدہ محض ایک سماجی عادت ہے، کوئی الہامی سچائی نہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ہاں اس انسان کے ایمان کا درجہ اور وزن کہیں زیادہ بھاری اور قیمتی ہے جس نے کفر اور شرک کی تاریکیوں میں جنم لیا اور پھر اپنی عقل، اپنے مشاہدے اور اپنی روح کی بے چینی کو رہبر بنا کر سچائی کو خود کھوج نکالا، بنسبت اس شخص کے جسے سب کچھ پکی پکائی کھیر کی طرح گھر میں مل گیا اور اس نے ساری زندگی اس پر ایک لمحے کے لیے بھی غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر میں عیسائی یا ہندو گھر میں پیدا ہوتا تو میرا خدا کا تصور بالکل مختلف ہوتا، تو اس کا جواب انسانی جبلت اور ‘فطرت’ کے اس کائناتی قانون میں پوشیدہ ہے جسے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر بھیجتے وقت سچائی کو محض کسی ایک خطے، ایک نسل یا ایک کتاب تک محدود نہیں کیا۔

کیا قرآن خود یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ دنیا کی کوئی ایسی قوم، کوئی ایسی بستی اور کوئی ایسا خطہ نہیں گزرا جہاں ہم نے حق کا پیغام پہنچانے والے ہادی اور ڈرانے والے نہ بھیجے ہوں؟

انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار کے لگ بھگ انبیاء اور مصلحین دنیا کے ہر کونے میں، ہر رنگ اور ہر نسل کے لوگوں میں مبعوث کیے گئے۔

ان سب کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا:

ایک کائناتی طاقت پر یقین، انسانوں کے ساتھ عدل، اور اخلاقیات کی پاسداری۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانوں نے اپنے جغرافیائی تعصبات، سیاسی مفادات اور نسلی تکبر کی بنا پر ان الہامی پیغامات میں ملاوٹ کر دی اور انہیں مختلف اور متصادم مذاہب کی شکل دے دی۔

آج کا ہندو مت، بدھ مت یا عیسائیت اپنے آغاز میں اسی ایک سچائی کی مختلف شکلیں تھیں جنہیں وقت کے ساتھ انسانوں نے مسخ کر دیا۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ انسان جو آج اس مسخ شدہ دور میں کسی غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہوا ہے، اس کے ساتھ خدا کا کیا معاملہ ہوگا؟

اس کا جواب الہامی عدل کا وہ شاندار اصول دیتا ہے جسے علمِ کلام میں ‘اتمامِ حجت’ کہا جاتا ہے۔

اللہ کا انصاف اتنا اندھا یا ظالم نہیں ہے کہ وہ افریقہ کے کسی گھنے جنگل میں پیدا ہونے والے، یا مغربی دنیا کے کسی ایسے معاشرے میں پلنے والے انسان کو محض اس لیے جہنم میں جھونک دے کہ اس تک اسلام کا صحیح اور غیر مسخ شدہ پیغام پہنچا ہی نہیں تھا۔

اللہ ہر انسان کو اس کی ذہنی استعداد، اس تک پہنچنے والے علم کی مقدار، اور اس کے معروضی حالات کے عین مطابق جج کرے گا۔ اگر کسی انسان تک حق کا پیغام اس کی اصل اور شفاف شکل میں پہنچا ہی نہیں، یا اسے میڈیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے اتنا مسخ کر کے پیش کیا گیا کہ اس کی عقل اسے قبول کرنے پر تیار نہ ہوئی، لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی زندگی ایک سچے، دیانتدار اور اخلاقی طور پر اعلیٰ انسان کے طور پر گزاری، تو یاد رکھیے کہ خدا کا ترازو ہماری مسلکی اور محدود سوچ سے بہت بڑا ہے۔ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے اور وہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرے گا۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے خدا کو ایک ایسا ڈکٹیٹر سمجھ لیا ہے جو آسمان پر بیٹھا محض لوگوں کو عذاب دینے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، جبکہ وہ تو سراپا عدل اور سراپا رحمان ہے۔

نوجوان کے ذہن میں اٹھنے والا سب سے مضبوط اور دلائل سے بھرپور سوال وہ ہے جو آج کل سوشل میڈیا کے ہر دوسرے مباحثے میں پوری شدت سے گردش کر رہا ہوتا ہے کہ سوئی دھاگے سے لے کر ہوائی جہاز، بلب، کمپیوٹر، اور زندگی بچانے والی لائف سیونگ ڈرگز، ایم آر آئی اور سرجری کی مشینیں ایجاد کرنے والے وہ تمام عظیم انسان جنہوں نے انسانیت کی بے مثال خدمت کی اور اربوں انسانوں کی زندگیاں آسان بنائیں، وہ تو اکثریت میں غیر مسلم تھے۔

تھامس ایڈیسن، الیگزینڈر فلیمنگ، البرٹ آئن سٹائن، یا رائٹ برادران نے تو کلمہ نہیں پڑھا تھا، تو کیا خدا نے انہیں اپنے احسان سے محروم رکھا؟

کیا ان کی یہ عظیم الشان فلاحی خدمات ان کے لیے آخرت میں ‘نجات’ کا سبب نہیں بنیں گی؟

یہ سوال بظاہر بہت جذباتی اور لاجواب کر دینے والا محسوس ہوتا ہے، لیکن جب ہم اس کا تجزیہ کائنات کے اس فزیکل اور سپرچوئل نظام (Physical and Spiritual System) کے تحت کرتے ہیں جو اللہ نے خود وضع کیا ہے، تو حقائق بالکل شفاف ہو کر سامنے آ جاتے ہیں۔

ہمیں سب سے پہلے ‘دنیاوی کامیابی’ اور ‘اخروی نجات’ کے درمیان موجود اس فرق کو سمجھنا ہوگا جسے ہم عموماً آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس مادی کائنات کو ‘سنۃ اللہ’ (یعنی طبعی قوانین اور Cause and Effect) کے ایک سخت اور بے رحم اصول پر استوار کیا ہے۔

اس دنیاوی لیبارٹری میں جو شخص بھی محنت کرے گا، کائنات کے رازوں پر غور کرے گا، فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کے قوانین کو سمجھے گا، قدرت اس پر اپنے خزانے کھول دے گی۔

اس مادی دنیا کے انعامات حاصل کرنے کے لیے مسلمان ہونا، یا نمازی ہونا ہرگز شرط نہیں ہے۔

جو قوم لیبارٹری میں اپنا خون پسینہ ایک کرے گی، وہ ہوائی جہاز بھی بنائے گی، کینسر کی دوائیاں بھی ایجاد کرے گی اور دنیا پر معاشی اور عسکری حاکمیت بھی قائم کرے گی۔

اللہ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کی دنیاوی محنت کو رائیگاں نہیں کرتا۔

ان عظیم سائنسدانوں اور موجدوں نے اس دنیا کی ترقی کے لیے بے پناہ محنت کی، اور اللہ نے اپنے کامل انصاف کے تحت انہیں اسی دنیا میں اس کا بھرپور صلہ دے دیا۔ انہیں وہ شہرت ملی جو تاقیامت یاد رکھی جائے گی، انہیں نوبل انعامات ملے، ان کی ایجادات پر انہیں دولت اور عزت کی وہ بلندیاں ملیں جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ ان کی محنت کا ہدف یہ مادی دنیا تھی، اور خدا نے انہیں اس مادی دنیا کا عظیم ترین انعام دے کر ان کا حساب بے باق کر دیا۔

لیکن جب ہم ‘نجات’ یا آخرت کی بات کرتے ہیں، تو اس کا پیمانہ سراسر مختلف ہے۔

آخرت اس روحانی تعلق، اس شعوری لگاؤ اور اس ایمانی معاہدے کا نام ہے جو انسان اپنے خالق کے ساتھ استوار کرتا ہے۔

ذرا ایک سادہ سی عقلی مثال پر غور کیجیے۔

اگر ایک طالب علم سارا سال بائیولوجی (Biology) کی کتابیں پڑھتا رہے، اس میں بے پناہ محنت کرے، دن رات ایک کر دے، اور جب امتحان کا دن آئے تو وہ فزکس (Physics) کے پرچے میں بیٹھ کر یہ مطالبہ کرے کہ چونکہ میں نے پڑھائی میں بہت محنت کی ہے اور بائیولوجی کا سارا علم مجھے ازبر ہے، اس لیے مجھے فزکس کی ڈگری بھی دے دی جائے، تو کیا دنیا کا کوئی بھی تعلیمی بورڈ اسے وہ ڈگری دے گا؟

یقیناً نہیں۔

اس کی محنت اپنی جگہ قابلِ ستائش ہے، مگر اس نے اس مضمون کی تیاری ہی نہیں کی جس کا وہ امتحان دے رہا ہے۔ بالکل اسی طرح، جس شخص نے اپنی ساری زندگی اس کائنات کی مادی پردوں کو چاک کرنے میں گزار دی، لیکن اس نے کبھی ان پردوں کے پیچھے موجود اس کائناتی خالق کو پہچاننے کی کوشش ہی نہیں کی جس نے یہ سارا نظام ترتیب دیا تھا، جس نے کبھی خدا کے وجود پر یقین ہی نہیں رکھا، جس نے آخرت کی زندگی کا سرے سے انکار کر دیا، تو پھر وہ آخرت کے اس انعام (جنت) کا تقاضا کیسے کر سکتا ہے جس کی اس نے نہ تو کبھی خواہش کی، نہ تیاری کی اور نہ ہی اسے مانا؟

آپ کسی ایسے شخص کو اس کے گھر میں زبردستی کیسے داخل کر سکتے ہیں جس کے وجود کو وہ تسلیم ہی نہ کرتا ہو؟

تاہم، اس کے باوجود، یہ فیصلہ کرنا کہ ایڈیسن یا فلیمنگ سیدھے جہنم میں جائیں گے، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ خدا کی رحمت اور اس کا عدل بہت وسیع ہے۔ ہو سکتا ہے ان میں سے کسی نے سچے دل سے خدا کی تلاش کی ہو، یا ان کی انسانیت کی بے لوث خدمت کے بدلے خدا ان کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ فرما دے جو ہماری محدود عقل کے احاطے سے باہر ہو۔ ہمارا کام لوگوں کو جنت یا جہنم کی سند بانٹنا نہیں ہے، ہمارا کام صرف الہامی قوانین کو سمجھنا ہے۔

اس الجھے ہوئے نوجوان کا یہ شکوہ کہ وہ اپنے وجود، اپنے مقصد اور اپنے عقیدے کے متعلق بنیادی سوالات کے جوابات نہیں دے پا رہا، دراصل اس کے زندہ اور بیدار ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔

جب آپ کے اندر سوالات اٹھنے لگیں تو سمجھ جائیں کہ آپ کی روح پر جمی ہوئی صدیوں کی وہ دھول جھڑنا شروع ہو گئی ہے جو اندھی عقیدت نے آپ پر تھونپ رکھی تھی۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں معلومات کا ایک سیلاب ہے، مگر خالص علم اور حکمت کا شدید قحط ہے۔

سوشل میڈیا نے ہمیں آدھے ادھورے حقائق، گمراہ کن دلائل اور سطحی دانشوری کا عادی بنا دیا ہے۔ ہم کتابوں کے ٹائٹل پڑھ کر خود کو محقق سمجھنے لگتے ہیں، اور جب ہمارے سامنے کوئی الحادی یا منطقی سوال آتا ہے تو ہمارا روایتی، کمزور اور ادھار کا عقیدہ ریت کے محل کی طرح بکھر جاتا ہے۔

اس نوجوان کی یہ بے بسی کہ وہ ان پڑھ اور گمراہ ہونے کا احساسِ ندامت رکھتا ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا ضمیر ابھی مرا نہیں ہے۔

سچائی کا پہلا اصول ہی اپنی جہالت کا اعتراف ہے۔ جب آپ مان لیتے ہیں کہ آپ کو کچھ نہیں آتا، تو قدرت آپ کے لیے سیکھنے کے نئے دروازے کھول دیتی ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو ایک جامد، خشک اور رسموں سے بھرا ہوا ایک ایسا مذہب بنا دیا ہے جس کا کام صرف لوگوں پر کفر کے فتوے لگانا، عورتوں کے لباس ماپنا، اور ایک دوسرے کی مسجدوں پر قبضے کرنا رہ گیا ہے۔

ہم نے اس دین کی وہ سائنسی، عقلی اور آفاقی روح ہی نکال دی ہے جس نے کبھی دنیا کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا کیا تھا۔

آج کا نوجوان جب مذہب کے نام پر منبروں سے صرف نفرت، تقسیم اور غیر منطقی کہانیاں سنتا ہے، تو وہ بجا طور پر اس سارے نظام سے باغی ہو جاتا ہے۔

یہاں یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ سچائی کی تلاش کوئی ایسا کام نہیں جو آپ ایک دن میں کر لیں اور رات کو آپ کو اچانک کوئی الہام ہو جائے۔ یہ زندگی بھر کا ایک کٹھن، صبر آزما اور مسلسل سفر ہے۔

جب آپ سچائی کو کھوجنے نکلتے ہیں تو آپ کو اپنے اندر کے ان تمام بتوں کو توڑنا پڑتا ہے جو معاشرے نے، آپ کی تربیت نے اور آپ کی خاندانی انا نے آپ کے ذہن میں تراش رکھے ہوتے ہیں۔

جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سچ کی تلاش میں پہلے ستاروں کو اپنا رب سمجھا، پھر چاند کو، پھر سورج کو، اور جب وہ سب ڈوب گئے تو انہوں نے پکار کر کہا کہ میں ڈوب جانے والوں سے محبت نہیں کرتا، اور پھر انہوں نے اس حتمی سچائی کو پا لیا جو ان تمام مادی چیزوں کا خالق تھا۔ یہ قرآنی واقعہ محض کوئی تاریخی قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہر اس انسان کے لیے ایک الہامی بلیو پرنٹ (Blueprint) ہے جو حق کی تلاش میں نکلتا ہے۔

آپ کو بھی اپنے شکوک و شبہات کے ستاروں اور چاند سورج سے گزرنا ہوگا۔ شکوک پیدا ہونا بری بات نہیں ہے، بلکہ شکوک کو دبا کر ایک منافقانہ زندگی گزارنا بری بات ہے۔ جو شخص شک کی وادی سے نہیں گزرتا، وہ کبھی یقین کی چوٹی پر نہیں پہنچ سکتا۔

میرے ان تمام نوجوان دوستوں کے لیے، جو اس تحریر میں اٹھائے گئے سوالات کی طرح ذہنی اور فکری کرب کا شکار ہیں، میرا پیغام صرف اتنا ہے کہ اپنے آپ پر، اپنی اس بے چینی پر اور اپنے سوالات پر فخر کریں۔

آپ ان کروڑوں بھیڑوں کے ریوڑ سے بہتر ہیں جو بغیر سوچے سمجھے ایک اندھی کھائی کی طرف بھاگے جا رہے ہیں۔

اپنے اس ‘اتفاقی اسلام’ کو ایک ‘شعوری اسلام’ میں بدلنے کا آغاز کریں۔

اس کے لیے آپ کو کسی خاص فرقے کے مدرسے میں جانے کی ضرورت نہیں، بلکہ کھلے ذہن کے ساتھ، تعصبات کو ایک طرف رکھ کر، اس کائنات کے خالق کی دی ہوئی دو سب سے بڑی نعمتوں، یعنی ‘قرآن و حدیث’ اور ‘عقل’، کو ایک ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

جب آپ کائنات کے طبعی قوانین اور الہامی قوانین کو ایک ساتھ ملا کر پڑھیں گے، تو آپ پر یہ راز کھلے گا کہ جس خدا نے یہ حیرت انگیز اور پیچیدہ کائنات بنائی ہے، وہ اتنا ظالم یا غیر منصف نہیں ہو سکتا جتنا ہمارے نام نہاد ٹھیکیداروں نے اسے بنا کر پیش کیا ہے۔

حق کا راستہ تنہائی کا راستہ ہے، مطالعے کا راستہ ہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے اندر کی منافقت کو مارنے کا راستہ ہے۔

جس دن آپ نے اپنے ذہن کو ان روایتی زنجیروں سے آزاد کر لیا، اس دن آپ کا یہ شکوہ ختم ہو جائے گا کہ آپ نے مسلمان گھر میں کیوں جنم لیا، بلکہ آپ اس بات پر مسکرائیں گے کہ آپ نے بالآخر اس شعور کو پا لیا جس کے لیے آپ کو اس دنیا میں بھیجا گیا تھا۔

اللہ ہمیں اندھی تقلید سے نکال کر شعوری سچائی اور حقیقی فہم کی طرف رہنمائی فرمائے۔

نوٹ: الحمدللہ میں اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہوں، یہ محض میرا قول نہیں بلکہ فعل یعنی ذاتی تجربہ بھی ہے۔

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading