Daily Roshni News

خلا میں وقت زمین کے مقابلے میں مختلف کیوں گزرتا ہے؟ آئن سٹائن کا حیران کن انکشاف۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

خلا میں وقت زمین کے مقابلے میں مختلف کیوں گزرتا ہے؟ آئن سٹائن کا حیران کن انکشاف

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)ہم اپنی روزمرہ زندگی میں وقت کو ایک بالکل سیدھی اور مستقل چیز سمجھتے ہیں۔ ایک منٹ ہر جگہ ایک منٹ ہی محسوس ہوتا ہے، ایک گھنٹہ ہر انسان کے لیے ایک جیسا گزرتا ہے، اور دن رات کا بدلنا ہمیں یہ پکا احساس دیتا ہے کہ وقت پوری کائنات میں ایک ہی رفتار سے چل رہا ہو گا۔ مگر جدید طبیعیات (Physics) نے ایک ایسی حیران کن حقیقت سامنے رکھی جس نے وقت کے بارے میں انسان کے پرانے تصور کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔

سائنسدانوں کے مطابق وقت ہر جگہ ایک ہی رفتار سے نہیں گزرتا۔

یہ بات پہلی بار سننے والے کے لیے جادو جیسی محسوس ہوتی ہے، مگر یہی وہ سچی حقیقت ہے جسے مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے اپنے “نظریۂ اضافیت” (Theory of Relativity) میں بیان کیا تھا۔ اس نظریے کے مطابق کائنات میں سفر کرنے کی رفتار (Speed) اور کسی جگہ کی کششِ ثقل (Gravity) وقت کے بہاؤ کو کم یا زیادہ کر سکتی ہیں۔

سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ اگر کوئی شخص بہت زیادہ تیز رفتار سے سفر کرے، یا کسی ایسی جگہ جائے جہاں کششِ ثقل بہت زیادہ طاقتور ہو، تو اس کے لیے وقت زمین پر بیٹھے لوگوں کے مقابلے میں سست رفتار سے گزرے گا۔

سائنس کی دنیا میں اس حیران کن اثر کو “ٹائم ڈائلیشن” (Time Dilation) یعنی وقت کا پھیل جانا کہا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر خلا میں موجود خلابازوں کے لیے وقت زمین کے مقابلے میں ایک معمولی فرق کے ساتھ گزرتا ہے۔ اگرچہ عام حالات میں یہ فرق سیکنڈ کے کروڑوں حصے کے برابر ہوتا ہے، مگر فضا میں بھیجی گئی جدید ترین ایٹمی گھڑیوں (Atomic Clocks) کے ذریعے اس باریک فرق کو سو فیصد درست ناپا جا چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری روزمرہ کی جدید ٹیکنالوجی بھی اسی سائنسی حقیقت کے اوپر چل رہی ہے۔

مثال کے طور پر ہمارے موبائلوں میں چلنے والا جی پی ایس (GPS) سسٹم جن سیٹلائٹس کی مدد سے کام کرتا ہے، وہ زمین کے گرد بہت تیز رفتار سے گردش کر رہی ہوتی ہیں، اور وہ زمین کی سطح سے دور ہونے کی وجہ سے کمزور کششِ ثقل والے ماحول میں ہوتی ہیں۔ اگر آئن سٹائن کے اس نظریے کے مطابق سیٹلائٹس کی گھڑیوں اور زمین کی گھڑیوں کے اس باریک فرق کو روزانہ حساب میں نہ رکھا جائے، تو ہمارے موبائل کا نقشہ ہر روز کئی کلومیٹر کی بڑی غلطی دکھانا شروع کر دے۔

یعنی آپ کے موبائل کا نقشہ بھی دراصل آئن سٹائن کی اس عجیب تھیوری کی بالکل سچی اور عملی گواہی دے رہا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

آئن سٹائن کے مطابق وقت اور خلا (اسپیس) دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں، بلکہ یہ دونوں آپس میں جڑ کر ایک چادر کی طرح کام کرتی ہیں جسے “اسپیس-ٹائم” (Space-Time) یعنی زمان و مکان کا تانا بانا کہا جاتا ہے۔ جب کوئی بھاری جسم کائنات میں موجود ہوتا ہے تو وہ اپنی کششِ ثقل کی وجہ سے اس چادر میں جھول یا گڑھا پیدا کر دیتا ہے، جس سے وہاں سے گزرنے والے وقت کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔

اسی طرح اگر کوئی انسان روشنی کی رفتار کے قریب تیز ترین سفر کرے، تو اس کے لیے وقت بہت سست گزرے گا۔ فرض کریں ایک خلاباز بیس سال کی عمر میں ایک ایسے خلائی جہاز میں سفر پر نکلے جو روشنی کی رفتار سے چلتا ہو، اور وہ اپنے حساب سے پانچ سال کا سفر کر کے واپس زمین پر آئے، تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائے گا کہ زمین پر اس کا ہم عمر دوست پچاس یا ساٹھ سال کا بوڑھا ہو چکا ہو گا، جبکہ وہ خود ابھی صرف پچیس سال کا ہو گا۔

یہ انوکھا خیال کسی ڈراؤنی فلم جیسا لگتا ہے، مگر جدید فزکس کے سچے تجربات اس سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کر چکے ہیں۔

خلا میں موجود بلیک ہول (Black Hole) کے قریب تو کششِ ثقل اتنی ہولناک ہوتی ہے کہ وہاں وقت تقریباً رکنے کے برابر سست ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر کوئی شخص بلیک ہول کے قریب جا کر صرف چند گھنٹے گزار کر واپس آئے، تو زمین پر اتنی دیر میں کئی سال یا صدیاں گزر چکی ہوں گی۔

یہ حقیقت انسان کو عاجزی کی آخری حد تک پہنچا دیتی ہے کہ وقت، جسے ہم ہمیشہ ایک سادہ اور نہ بدلنے والی چیز سمجھتے تھے، دراصل کائنات کے حالات، رفتار اور جگہ کے مطابق بدل سکتا ہے۔

اگر انسان ٹھنڈے دماغ سے غور کرے تو یہ کائنات واقعی ہماری روزمرہ کی سوچ سے کہیں زیادہ انوکھی اور پیچیدہ ہے۔ خلا کوئی خالی جگہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو قدرت کا ایک ایسا متحرک نظام ہے جہاں رفتار اور کششِ ثقل وقت جیسی حتمی چیز پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

قرآنِ مجید میں بھی وقت کی اس لچک اور مختلف کائناتی پیمانوں کی طرف چودہ سو سال پہلے انتہا درجے کے خوبصورت اشارے دیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الحج میں فرماتا ہے:

﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ﴾

“اور بے شک آپ کے رب کے ہاں ایک دن (کا پیمانہ) تمہارے حساب کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔” — (سورۃ الحج: 47)

اسی طرح وقت کے ایک اور مہیب پیمانے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ رب العزت سورۃ المعارج میں فرماتا ہے:

﴿تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ﴾

“فرشتے اور روح (جبرائیل علیہ السلام) اس کی طرف ایک ایسے دن میں اوپر چڑھتے ہیں جس کی لمبائی (تمہارے زمینی حساب سے) پچاس ہزار سال ہے۔” — (سورۃ المعارج: 4)

یہ پاک آیات انسان کو وقت کے مختلف دیسی حسابوں اور کائناتی نظاموں کی وسعت کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ البتہ ایک محقق کے طور پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ قرآن یہاں جدید فزکس کی کوئی ریاضیاتی مساواتیں بیان کر رہا تھا، بلکہ سچا علمی موقف یہ ہے کہ قرآن انسان کو وقت اور کائنات کے انوکھے رازوں میں غور و فکر کرنے کا راستہ دکھاتا ہے، جبکہ جدید سائنس اپنی ریسرچ کے ذریعے انہی حقیقتوں کی مزید تشریح کر رہی ہے۔

یہ موضوع انسان کو عاجزی کا ایک بہت بڑا سبق بھی دیتا ہے۔ ہم اکثر اپنی اس چھوٹی سی زمینی زندگی کو ہی پوری کائنات کا سچ سمجھ لیتے ہیں، مگر قدرت کے اصل قوانین ہماری عام سوچ سے کہیں زیادہ عجیب اور حیران کن ہیں۔ وقت جیسی بنیادی چیز بھی ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہے۔

آخر میں یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ “ٹائم ڈائلیشن” صرف ایک سائنسی نظریہ نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ رب العزت کی بنائی ہوئی کائنات کے محیر العقول نظام کی ایک شاندار جھلک ہے۔ انسان جتنا زیادہ خلا اور فزکس کی گہرائی کو سمجھتا جاتا ہے، اتنا ہی اسے سچے دل سے احساس ہوتا ہے کہ یہ کائنات ہماری سوچ، ہماری عقل اور ہماری ڈگریوں سے کہیں زیادہ عظیم، پراسرار اور لاجواب ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ جات:

ناسا — ریلیٹیویٹی اینڈ اسپیس ٹائم ریسرچ (NASA)

آئنسٹائنز تھیوری آف ریلیٹیویٹی — تاریخی دستاویزی ریکارڈز

یورپی اسپیس ایجنسی فزکس پبلیکیشنز (ESA)

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا — ٹائم ڈائلیشن اینڈ فزکس آف ٹائم

نیچر فزکس پبلیکیشنز (Nature Physics)

#وقت #خلاء #کائنات #سائنس_اور_قرآن #آئنسٹائن #نظریہ_اضافیت #فلکیات #فزکس #اسلام_اور_سائنس #تدبر_قرآن #ٹائم_ڈائلیشن

Loading