بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خلق، جعل، امر — تخلیق کے مختلف انداز
خلق — تدریجی تخلیق
انسان جب آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو اسے صرف ستارے نظر نہیں آتے، بلکہ اسے ایک خاموش سفر دکھائی دیتا ہے۔ ایک ایسا سفر جو لمحہ بہ لمحہ مکمل ہوا۔ سورج ایک ہی لمحے میں پوری کائنات پر نہیں چمکا تھا، زمین ایک ہی حکم میں مکمل آباد نہیں ہوئی تھی، اور انسان بھی ایک ہی لمحے میں اپنے شعور کی انتہا تک نہیں پہنچا تھا۔ ہر چیز کے پیچھے ایک تدریج ہے، ایک ترتیب ہے، ایک خاموش پرورش ہے۔ یہی “خلق” کا راز ہے۔
خلق صرف پیدا کرنا نہیں۔ خلق ایک مسلسل سفر ہے۔ ایسا سفر جس میں اللہ کسی چیز کو عدم سے وجود میں لاتا ہے، پھر اسے سنوارتا ہے، پھر اس میں مقصد رکھتا ہے، پھر اسے آزمائشوں سے گزارتا ہے، پھر اسے اس کے انجام تک پہنچاتا ہے۔
ایک بچہ ماں کے رحم میں نو ماہ تک پرورش پاتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحے میں مکمل انسان پیدا کر دیتا۔ مگر اُس نے تدریج کو اختیار کیا۔ کیوں؟ کیونکہ تدریج کے اندر محبت ہے۔ تدریج کے اندر حکمت ہے۔ تدریج کے اندر تربیت ہے۔
ماں جب اپنے بچے کی پہلی حرکت محسوس کرتی ہے تو اُس کے دل میں ایک عجیب کیفیت جنم لیتی ہے۔ وہ بچہ ابھی دنیا میں آیا بھی نہیں ہوتا، مگر اُس کی محبت ماں کے دل میں جڑ پکڑ چکی ہوتی ہے۔ پھر مہینے گزرتے ہیں، تکلیفیں بڑھتی ہیں، راتیں بے چین ہوتی ہیں، مگر اسی تدریجی سفر میں ایک رشتہ گہرا ہوتا جاتا ہے۔ یہی خلق کا انداز ہے۔
اللہ انسان کو بھی اسی طرح بناتا ہے۔ انسان ایک دن میں کامل نہیں ہوتا۔ اُس کا دل آہستہ آہستہ نرم ہوتا ہے۔ اُس کی آنکھیں آہستہ آہستہ حقیقت دیکھتی ہیں۔ اُس کی روح آہستہ آہستہ اللہ کی طرف پلٹتی ہے۔
کتنے لوگ ہیں جو ایک وقت میں گناہوں کے اندھیروں میں ڈوبے ہوتے ہیں، مگر پھر ایک آیت، ایک سجدہ، ایک آنسو، ایک رات، ایک صدمہ، ایک دعا، آہستہ آہستہ اُن کی روح بدل دیتا ہے۔ اللہ ایک لمحے میں چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا، مگر اُس نے انسان کے اندر سفر رکھا۔
خلق ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ٹوٹنا ہمیشہ ختم ہونا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ٹوٹنا، بننے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ بیج زمین کے اندر دفن ہوتا ہے۔ مٹی اُس پر ڈال دی جاتی ہے۔ اندھیرا اُس کے گرد پھیل جاتا ہے۔ اگر کوئی اُسے دیکھے تو کہے گا کہ یہ ختم ہوگیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اُس کے اندر نئی زندگی جنم لے رہی ہوتی ہے۔
انسان کی زندگی میں بھی ایسے مرحلے آتے ہیں جب وہ سمجھتا ہے کہ اب سب ختم ہوگیا۔ دعائیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ خواب بکھر جاتے ہیں۔ اپنے بدل جاتے ہیں۔ راستے بند ہوجاتے ہیں۔ مگر شاید وہی لمحہ اُس کی نئی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔
خلق کا ایک راز یہ بھی ہے کہ اللہ ہر چیز کو اُس کی برداشت کے مطابق بڑھاتا ہے۔ بچہ پہلے چلنا نہیں سیکھتا، پہلے رینگتا ہے۔ پہلے لڑکھڑاتا ہے۔ پہلے گرتا ہے۔ پھر کھڑا ہوتا ہے۔ اگر اُسے اچانک دوڑنے پر مجبور کیا جائے تو وہ ٹوٹ جائے گا۔
اسی طرح اللہ بندے پر آزمائشیں بھی تدریج سے ڈالتا ہے۔ پہلے چھوٹے صدمے، پھر بڑے امتحان۔ پہلے چھوٹی جدائیاں، پھر بڑی تنہائیاں۔ تاکہ روح مضبوط ہوسکے۔
کتنے لوگ ہیں جو اپنے درد پر روتے ہیں، مگر انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ اُنہیں بنا رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں توڑا جارہا ہے، حالانکہ حقیقت میں اُنہیں تراشا جارہا ہوتا ہے۔
پہاڑ ایک دن میں نہیں بنتے۔ دریا ایک لمحے میں راستہ نہیں بناتے۔ درخت ایک رات میں سایہ نہیں دیتے۔ ہر عظمت کے پیچھے وقت، صبر، خاموشی اور مسلسل عمل ہوتا ہے۔ یہی خلق کا قانون ہے۔
قرآن میں بار بار آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے مراحل کا ذکر آتا ہے۔ یہ صرف معلومات نہیں، بلکہ انسان کے دل کے لیے ایک پیغام ہے۔ پیغام یہ کہ اگر تم ابھی مکمل نہیں ہو تو مایوس نہ ہو۔ اللہ ابھی تمہیں بنا رہا ہے۔
کبھی انسان اپنی دعاؤں کے قبول نہ ہونے پر ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اللہ خاموش کیوں ہے۔ مگر شاید اللہ اُسے انتظار کے ذریعے تیار کررہا ہوتا ہے۔ کیونکہ کچھ نعمتیں فوری مل جائیں تو انسان اُن کا وزن برداشت نہیں کرسکتا۔
خلق کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے سفر میں تنہائی محسوس کرتا ہے۔ اُسے لگتا ہے کہ کوئی اُسے سمجھ نہیں رہا۔ مگر حقیقت میں اُس کے رب کی نگاہ ہر لمحہ اُس پر ہوتی ہے۔
وہ رات جب انسان خاموشی سے روتا ہے، جب کوئی اُس کے آنسو نہیں دیکھتا، جب دل اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ اُسے چھوڑتا نہیں۔ شاید وہی رات اُس کے وجود کی نئی تعمیر کررہی ہوتی ہے۔
خلق کا تعلق صرف جسم سے نہیں، دل سے بھی ہے۔ اللہ دلوں کو بھی پیدا کرتا ہے۔ کچھ دل سخت ہوتے ہیں، پھر ایک حادثہ اُنہیں نرم کر دیتا ہے۔ کچھ دل غافل ہوتے ہیں، پھر ایک جنازہ اُنہیں جگا دیتا ہے۔ کچھ دل دنیا میں کھوئے ہوتے ہیں، پھر ایک دعا اُنہیں اللہ کے قریب لے آتی ہے۔
یہ سب تدریجی تخلیق ہے۔
انسان اگر اپنی زندگی پر غور کرے تو اُسے احساس ہوگا کہ وہ آج جو ہے، وہ ایک لمبے سفر کا نتیجہ ہے۔ بچپن کے زخم، جوانی کی غلطیاں، راتوں کی دعائیں، محرومیوں کی آگ، محبتوں کی جدائیاں، سب نے مل کر اُس کی روح کو ایک نئی شکل دی۔
کبھی کبھی اللہ انسان کو دیر سے دیتا ہے، کیونکہ جلدی ملنے والی چیز انسان کو بگاڑ دیتی ہے۔ اور کبھی اللہ انسان کو انتظار میں رکھتا ہے تاکہ اُس کے اندر عاجزی پیدا ہو۔
خلق ہمیں صبر سکھاتا ہے۔ ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہر چیز اپنے وقت پر کھلتی ہے۔ پھول کو اگر وقت سے پہلے کھولا جائے تو وہ مر جاتا ہے۔
اسی طرح انسان کو بھی اپنے رب کے فیصلوں پر بھروسہ کرنا سیکھنا ہوتا ہے۔
بعض اوقات انسان اپنے ماضی سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ اُسے لگتا ہے کہ اگر یہ تکلیفیں نہ ہوتیں تو وہ بہتر ہوتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شاید انہی زخموں نے اُسے اللہ کے قریب کیا۔
خلق کے اندر ایک خاموش محبت چھپی ہوئی ہے۔ اللہ انسان کو آہستہ آہستہ اپنے قریب لاتا ہے۔ کبھی نعمت سے، کبھی محرومی سے، کبھی دعا سے، کبھی آزمائش سے۔
اور جب انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے کہ اُس کی زندگی میں کوئی لمحہ بے مقصد نہیں تھا۔ ہر درد، ہر انتظار، ہر آنسو، ہر شکست، اُسے بنانے کے لیے تھی۔ یہی خلق ہے۔ تدریجی تخلیق۔ خاموش تعمیر۔ آہستہ آہستہ وجود کا مکمل ہونا۔
# بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
# جعل — کسی چیز کو خاص کام دینا
دنیا میں موجود ہر چیز صرف پیدا نہیں کی گئی، بلکہ اُسے ایک مقصد بھی دیا گیا۔ سورج صرف روشنی کے لیے نہیں، چاند صرف خوبصورتی کے لیے نہیں، ہوا صرف چلنے کے لیے نہیں، اور انسان صرف جینے کے لیے نہیں بنایا گیا۔ ہر وجود کے پیچھے ایک ذمہ داری ہے۔ یہی “جعل” کا راز ہے۔
خلق وہاں ختم نہیں ہوتی جہاں وجود پیدا ہوجائے۔ خلق کے بعد “جعل” آتا ہے۔ یعنی اللہ کسی وجود کو ایک خاص مقام دیتا ہے، ایک خاص کام دیتا ہے، ایک خاص پہچان دیتا ہے۔
کتنے لوگ دنیا میں آتے ہیں، سانس لیتے ہیں، کھاتے ہیں، سوتے ہیں، اور پھر چلے جاتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ ایک مقصد دے دیتا ہے۔ اُن کی موجودگی دوسروں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ اُن کا ایک لفظ کسی کے اندھیرے میں چراغ بن جاتا ہے۔ اُن کی ایک دعا کسی ٹوٹے دل کو جوڑ دیتی ہے۔ یہی جعل ہے۔
اللہ نے زمین کو بچھونا بنایا۔ آسمان کو چھت بنایا۔ رات کو سکون بنایا۔ دن کو معاش کا ذریعہ بنایا۔ پانی کو زندگی بنایا۔ آگ کو طاقت بنایا۔ ہوا کو سانس بنایا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہر چیز بے مقصد بھی ہوسکتی تھی۔ مگر اُس نے ہر چیز کو ایک کام دیا۔ اور انسان؟
انسان کو صرف جسم نہیں دیا گیا، اُسے ایک امانت بھی دی گئی۔ اُسے عقل دی گئی، دل دیا گیا، احساس دیا گیا، محبت دی گئی، آنسو دیے گئے، دعا دی گئی۔ یہ سب بے مقصد نہیں۔
بعض اوقات انسان اپنی زندگی کے سب سے بڑے درد میں یہی سوال پوچھتا ہے:
“میں کیوں ہوں؟”
یہ سوال صرف ایک جملہ نہیں، یہ روح کی چیخ ہوتی ہے۔
جب انسان ٹوٹ جاتا ہے، جب اُس کے خواب دفن ہوجاتے ہیں، جب اُس کی محبتیں بکھر جاتی ہیں، جب اُسے لگتا ہے کہ دنیا میں اُس کی کوئی اہمیت نہیں، تب اُس کے اندر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر میں نہ بھی ہوتا تو کیا فرق پڑتا؟ مگر اللہ کے نزدیک کوئی وجود بے مقصد نہیں۔ وہ پرندہ جو صبح سویرے خاموش فضا میں اُڑتا ہے، اُس کا بھی ایک مقصد ہے۔ وہ بارش کا قطرہ جو پہاڑ سے پھسل کر زمین تک آتا ہے، اُس کا بھی ایک مقصد ہے۔ وہ بوڑھی ماں جو رات کے آخری پہر اپنے بچوں کے لیے دعا کرتی ہے، اُس کا بھی ایک مقصد ہے۔ اور تم؟
تم بھی بے مقصد نہیں ہو۔
کبھی کبھی انسان اپنی اہمیت دنیا کے پیمانوں سے ناپتا ہے۔ اگر لوگ تعریف کریں تو خود کو قیمتی سمجھتا ہے، اگر لوگ چھوڑ جائیں تو خود کو بے وقعت سمجھنے لگتا ہے۔ مگر اللہ کے نظام میں انسان کی قیمت اُس کے دل سے ہوتی ہے، نہ کہ دنیا کی تالियों سے۔ جعل کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ ہر انسان کو الگ بناتا ہے۔ ہر ایک کے درد الگ، ہر ایک کی آزمائش الگ، ہر ایک کی صلاحیت الگ، ہر ایک کی ذمہ داری الگ۔
کوئی دلوں کو جوڑنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ کوئی علم پھیلانے کے لیے۔ کوئی صبر کی مثال بننے کے لیے۔ کوئی دوسروں کے زخم سمجھنے کے لیے۔
اور کبھی کبھی اللہ کسی انسان کو خود ٹوٹنے دیتا ہے تاکہ وہ دوسروں کے ٹوٹے دلوں کو سمجھ سکے۔ یہ بھی جعل ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کو صرف حسن نہیں دیا گیا تھا، اُنہیں صبر کا منصب بھی دیا گیا تھا۔ کنویں کی تاریکی، غلامی کی ذلت، قید کی تنہائی، سب دراصل اُن کی تیاری تھی۔ کیونکہ اللہ نے اُنہیں ایک عظیم مقصد کے لیے چن لیا تھا۔
اگر انسان صرف اپنے حال کو دیکھے تو وہ اللہ کے فیصلوں کو نہیں سمجھ پاتا۔ مگر جب وہ پوری کہانی دیکھتا ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے کہ ہر درد کسی بڑی ذمہ داری کی تیاری تھا۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنے زخموں سے نفرت کرتے ہیں، حالانکہ شاید وہی زخم اُنہیں انسان بناتے ہیں۔
ایک ماں کو دیکھیے۔ وہ راتوں کو جاگتی ہے۔ اپنے حصے کی نیند قربان کرتی ہے۔ اپنی خواہشیں دفن کرتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اللہ نے اُس کے اندر “ماں” ہونے کا منصب رکھا ہے۔ یہ صرف رشتہ نہیں، یہ جعل ہے۔
ایک باپ دن بھر تھکاوٹ اٹھاتا ہے، خاموشی سے بوجھ برداشت کرتا ہے، اپنے بچوں کے لیے خود کو توڑ دیتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اللہ نے اُس کے کندھوں پر ذمہ داری رکھی ہے۔
ایک استاد صرف الفاظ نہیں پڑھاتا، کبھی کبھی وہ ایک پوری نسل کی سوچ بدل دیتا ہے۔
ایک عالم صرف کتابیں نہیں پڑھتا، وہ لوگوں کے دلوں میں روشنی منتقل کرتا ہے۔
ایک غریب انسان بھی شاید کسی امیر سے زیادہ قیمتی ہو، کیونکہ اُس کے دل میں صبر زندہ ہوتا ہے۔
جعل انسان کو اُس کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔
تم صرف گوشت، ہڈیوں اور سانسوں کا مجموعہ نہیں ہو۔ تمہارے اندر ایک امانت ہے۔
اور سب سے خوفناک لمحہ وہ ہوگا جب انسان اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا اور اُسے معلوم ہوگا کہ اُس نے اپنی اصل ذمہ داری کو پہچانا ہی نہیں۔
کتنے لوگ دنیا بھر کی کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں، مگر اپنی روح ہار دیتے ہیں۔
کتنے لوگ بڑے گھروں میں رہتے ہیں، مگر اُن کے دل خالی ہوتے ہیں۔
کتنے لوگ شہرت کے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں، مگر رات کو تنہائی میں روتے ہیں۔
کیونکہ انسان صرف دنیا کے لیے نہیں بنایا گیا۔
اللہ نے اُسے ایک بڑے مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔
جعل کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض لوگ اپنی اصل پہچان کھو دیتے ہیں۔ دنیا اُنہیں کچھ اور بنا دیتی ہے۔ وہ وہی بننے لگتے ہیں جو لوگ چاہتے ہیں، نہ کہ وہ جو اللہ چاہتا ہے۔ ایک نرم دل انسان سخت بن جاتا ہے۔ ایک پاکیزہ روح دنیا کی گندگی میں ڈوب جاتی ہے۔ ایک عبادت گزار دل غفلت میں سو جاتا ہے۔ اور پھر ایک دن انسان آئینے میں خود کو دیکھتا ہے مگر خود کو پہچان نہیں پاتا۔ وہ سوچتا ہے: “میں آخر کب بدل گیا؟” یہ دنیا انسان کو اُس کی اصل ذمہ داری سے ہٹا دیتی ہے۔
اللہ نے آنکھیں دی تھیں تاکہ انسان نشانیوں کو دیکھے، مگر انسان نے اُنہیں گناہوں کے لیے استعمال کیا۔ اللہ نے زبان دی تھی تاکہ ذکر ہو، مگر انسان نے اُسے زخم دینے کے لیے استعمال کیا۔ اللہ نے دل دیا تھا تاکہ اُس میں رحم ہو، مگر انسان نے اُسے نفرت سے بھر لیا۔ یہ جعل سے انحراف ہے۔ اور شاید یہی انسان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کو بھول جاتا ہے۔
کبھی کسی قبرستان میں جا کر خاموشی سے کھڑے ہو۔ وہاں ہر قبر ایک چیخ ہے۔ ہر قبر کہہ رہی ہوتی ہے کہ دنیا ختم ہوگئی۔ طاقت ختم ہوگئی۔ شہرت ختم ہوگئی۔ نام ختم ہوگیا۔
صرف اعمال باقی رہ گئے۔ وہ شخص جو دنیا میں خود کو سب کچھ سمجھتا تھا، آج مٹی کے نیچے خاموش ہے۔ وہ عورت جس کے حسن کے چرچے تھے، آج خاموش مٹی میں ہے۔ وہ انسان جس کے پاس اختیار تھا، آج بے اختیار پڑا ہے۔ کیونکہ اصل سوال یہ نہیں تھا کہ تم نے کتنا کمایا۔ اصل سوال یہ تھا کہ تمہیں جس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا، کیا تم نے اُسے پہچانا؟ جعل انسان کو جھنجھوڑتا ہے۔
وہ کہتا ہے: اپنی زندگی کو صرف گزارو مت، سمجھو بھی۔ اپنے دل کو صرف دھڑکنے نہ دو، زندہ بھی کرو۔ اپنی روح کو صرف دنیا کے لیے مت جلاؤ، اللہ کے لیے بھی بچاؤ۔
بعض لوگ دوسروں کے لیے رحمت بن جاتے ہیں۔ اُن کے پاس بیٹھنے سے سکون آتا ہے۔ اُن کی بات دل نرم کر دیتی ہے۔ اُن کی دعائیں امید جگا دیتی ہیں۔ یہ لوگ اللہ کی خاص تخلیق ہوتے ہیں۔
اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے آنے سے اندھیرے پھیلتے ہیں۔ اُن کی زبان زخم دیتی ہے۔ اُن کی موجودگی دل توڑ دیتی ہے۔ انسان خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے۔ اللہ نے اُسے اختیار دیا، شعور دیا، راستہ دکھایا۔ اب یہ اُس پر ہے کہ وہ روشنی بنتا ہے یا اندھیرا۔ جعل کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اللہ ٹوٹے ہوئے لوگوں کو بھی مقصد دے دیتا ہے۔
وہ شخص جو خود درد میں جیتا ہے، کبھی دوسروں کے لیے مرہم بن جاتا ہے۔
وہ عورت جس نے جدائی دیکھی ہوتی ہے، کبھی کسی اور کے آنسو پونچھ دیتی ہے۔ وہ انسان جس نے راتوں کو رو رو کر دعا کی ہوتی ہے، کبھی دوسروں کو دعا کی طاقت سمجھا دیتا ہے۔ اللہ ضائع نہیں کرتا۔ وہ تمہارے درد کو بھی کسی خیر میں بدل سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ تم اپنے رب سے جڑے رہو۔ اور شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا راز ہے: تم یہاں صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں آئے۔ تم یہاں ایک مقصد کے ساتھ آئے ہو۔ اور جس دن انسان اپنی اصل ذمہ داری پہچان لیتا ہے، اُس دن اُس کی زندگی بدل جاتی ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امر — فوری حکم (کن فیکون)
کبھی انسان اپنی زندگی کے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں ہر دروازہ بند محسوس ہوتا ہے۔ دعائیں برسوں سے آسمان کی طرف اٹھ رہی ہوتی ہیں مگر جواب خاموش ہوتا ہے۔ دل مسلسل ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ امید آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔ انسان اپنی کمزوری کے آخری کنارے پر کھڑا ہو کر سوچتا ہے: “اب کچھ نہیں ہوسکتا۔” اور پھر… اچانک اللہ کا “امر” آتا ہے۔
ایک ایسا حکم جو وقت کا محتاج نہیں ہوتا۔ ایک ایسا فیصلہ جسے کسی سبب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک ایسا ارادہ جس کے سامنے دنیا کے سارے قانون خاموش ہوجاتے ہیں۔
“کن فیکون” “ہو جا… اور وہ ہوجاتا ہے۔”
یہ صرف الفاظ نہیں۔ یہ اللہ کی مطلق قدرت کا اعلان ہے۔ انسان اپنی محدود عقل سے ہر چیز کو اسباب کے ترازو میں تولتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جب تک راستہ نظر نہ آئے، منزل نہیں مل سکتی۔ جب تک دروازہ نہ کھلے، نجات نہیں آسکتی۔ جب تک کوئی سہارا نہ ہو، زندگی نہیں بدل سکتی۔ مگر اللہ سببوں کا محتاج نہیں۔ وہ سمندر میں راستہ بنا دیتا ہے۔ وہ آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ وہ مردہ دلوں کو زندہ کر دیتا ہے۔ وہ اندھی راتوں سے صبح نکال دیتا ہے۔ وہ ناممکن کے سینے سے ممکن پیدا کر دیتا ہے۔ یہی “امر” ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا۔ دنیا کے سارے ظاہری اسباب چیخ رہے تھے کہ اب بچنا ممکن نہیں۔ آگ کا کام جلانا ہے۔ لکڑی جلتی ہے، جسم جلتا ہے، زندگی جلتی ہے۔ مگر پھر اللہ کا امر آیا۔ آگ سے کہا گیا کہ ٹھنڈی ہوجا۔ اور وہ آگ، جو دوسروں کو راکھ کر دیتی تھی، اللہ کے نبی کے لیے سلامتی بن گئی۔ یہ کن فیکون ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سمندر تھا، پیچھے فرعون کا لشکر۔ ظاہری عقل کہہ رہی تھی کہ اب راستہ ختم ہوگیا۔ بنی اسرائیل خوف سے کانپ رہے تھے۔ ہر چہرہ موت کی تصویر بن چکا تھا۔ مگر اللہ کا امر آیا۔ لاٹھی سمندر پر ماری گئی، اور پانی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ جس سمندر میں ڈوبنے کا خوف تھا، وہی نجات کا راستہ بن گیا۔ انسان بھول جاتا ہے کہ اللہ جب چاہتا ہے تو حالات کے معنی بدل دیتا ہے۔ جس چیز سے انسان ڈرتا ہے، کبھی وہی اُس کی حفاظت بن جاتی ہے۔ جس دروازے کے بند ہونے پر انسان روتا ہے، کبھی وہی اُس کی تباہی سے بچاؤ ہوتا ہے۔ جس تاخیر کو انسان محرومی سمجھتا ہے، کبھی وہی اُس کی روح کی حفاظت ہوتی ہے۔
اللہ کے امر میں دیر ہوسکتی ہے، اندھیرا ہوسکتا ہے، انتظار ہوسکتا ہے، مگر ناممکن نہیں ہوسکتا۔ کتنے لوگ برسوں تک اولاد کے لیے روتے رہے، پھر اللہ نے ایک لمحے میں رحمت عطا کر دی۔ کتنے لوگ رزق کے لیے در بدر پھرتے رہے، پھر اللہ نے ایسی جگہ سے دروازہ کھول دیا جہاں سے گمان بھی نہیں تھا۔ کتنے لوگ بیماری میں ٹوٹ چکے تھے، پھر ایک لمحے میں شفا آ گئی۔ کتنے دل ایسے تھے جو نفرت، غفلت اور گناہوں سے بھر چکے تھے، پھر اللہ نے ایک سجدے میں اُنہیں بدل دیا۔ یہ امر ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ صرف چاہتا ہے، اور چیزیں وجود میں آجاتی ہیں۔ انسان اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اُس وقت ٹوٹتا ہے جب اُسے لگتا ہے کہ اب کچھ بدل نہیں سکتا۔ مگر مومن کا ایمان یہی ہے کہ جب دنیا کہے “ختم ہوگیا”، تب بھی اللہ کہہ سکتا ہے “شروع ہو جا”۔
ایک قبر کو دیکھیے۔ ظاہری نظر میں سب ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ جسم مٹی میں چلا گیا۔ آواز خاموش ہوگئی۔ سانس رک گئی۔ دنیا کا تعلق ختم ہوگیا۔ مگر قیامت کے دن اللہ صرف ایک حکم دے گا، اور مردے دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ یہ کن فیکون ہے۔
انسان کو اپنی کمزوری کا سب سے زیادہ احساس دعا میں ہوتا ہے۔ جب ہاتھ اٹھتے ہیں اور دل ٹوٹتا ہے، تب انسان سمجھتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتا۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں اللہ کا امر قریب ہوتا ہے۔ کیونکہ جب انسان اپنے سہارے چھوڑ دیتا ہے، تب وہ اصل سہارا پہچانتا ہے۔ بعض اوقات اللہ انسان کو انتظار میں رکھتا ہے تاکہ اُس کا دل مکمل طور پر دنیا سے خالی ہوجائے۔ تاکہ جب رحمت آئے تو انسان جان لے کہ یہ صرف اللہ کی طرف سے ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہوچکے تھے۔ ظاہری اسباب اولاد کے خلاف تھے۔ عمر گزر چکی تھی۔ جسم کمزور تھا۔ مگر اللہ کے امر نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔
حضرت مریم علیہا السلام کے پاس کوئی ظاہری سبب نہیں تھا، مگر اللہ نے بغیر سبب کے معجزہ ظاہر کر دیا۔ کیونکہ اللہ کا امر اسباب کا پابند نہیں۔ انسان کبھی کبھی اپنے گناہوں کی وجہ سے مایوس ہوجاتا ہے۔ اُسے لگتا ہے کہ اب واپسی ممکن نہیں۔ دل اتنا سیاہ ہوچکا ہوتا ہے کہ روشنی دور محسوس ہوتی ہے۔ مگر اللہ ایک لمحے میں دل بدل سکتا ہے۔
ایک سجدہ، ایک آنسو، ایک رات، ایک دعا… اور پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ کتنے لوگ تھے جو گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے، پھر ایک دن اللہ نے اُن کے دل میں ہدایت ڈال دی۔ اور وہی لوگ بعد میں دوسروں کے لیے روشنی بن گئے۔ یہ امر ہے۔
یہ اللہ کی وہ قدرت ہے جس کے سامنے انسان کے حساب ٹوٹ جاتے ہیں۔ دنیا کہتی ہے کہ صرف طاقتور کامیاب ہوتے ہیں، مگر اللہ کمزوروں کو عزت دے دیتا ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ جس کے پاس وسائل ہوں وہی آگے بڑھتا ہے، مگر اللہ کبھی ایک تنہا انسان کو پوری امت کے لیے مثال بنا دیتا ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ اندھیرا جیت گیا، مگر اللہ صبح پیدا کر دیتا ہے۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی قدرت کو اپنی عقل کے مطابق سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اللہ وہاں سے راستہ نکالتا ہے جہاں انسان کی سوچ ختم ہوجاتی ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو برسوں سے ایک دعا مانگ رہے ہیں۔ راتیں گزر گئیں، آنسو بہہ گئے، سجدے لمبے ہوگئے، مگر جواب نہیں آیا۔ پھر اچانک ایک دن سب بدل جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے آسمان کھل گیا ہو۔ جیسے برسوں کا اندھیرا ایک لمحے میں ٹوٹ گیا ہو۔ جیسے روح دوبارہ زندہ ہوگئی ہو۔
کیونکہ اللہ جب دیتا ہے تو کبھی کبھی ایک لمحہ برسوں کے صبر کا بدلہ بن جاتا ہے۔ اور کبھی اللہ انسان کو وہ نہیں دیتا جو وہ مانگ رہا ہوتا ہے، کیونکہ اللہ اُس کے لیے اُس سے بھی بہتر چیز لکھ چکا ہوتا ہے۔ انسان روتا ہے ایک بند دروازے پر، جبکہ اللہ اُس کے لیے دوسرے راستے تیار کررہا ہوتا ہے۔
امر کا ایک خوفناک پہلو بھی ہے۔ جس طرح اللہ رحمت کا حکم دیتا ہے، اُسی طرح وہ عذاب کا بھی حکم دے سکتا ہے۔ قومیں طاقت میں پہاڑ بن جاتی ہیں، پھر اللہ کا ایک امر آتا ہے اور سب مٹی ہوجاتا ہے۔ فرعون اپنے آپ کو خدا سمجھتا تھا، مگر ایک سمندر نے اُس کی حقیقت کھول دی۔ عاد اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتی تھی، مگر ایک ہوا نے اُنہیں ختم کردیا۔ قومِ نوح اپنی سرکشی میں ڈوبی ہوئی تھی، پھر ایک طوفان آیا اور تاریخ بدل گئی۔ انسان جب اللہ کو بھول جاتا ہے تو وہ اپنی طاقت کے نشے میں گم ہوجاتا ہے۔ مگر اللہ کا امر ایک لمحے میں سب کچھ بدل سکتا ہے۔ اسی لیے مومن کا دل ہمیشہ اللہ کے سامنے جھکا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ زندگی اُس کے اختیار میں نہیں۔ سانس اُس کے اختیار میں نہیں۔ دل کی دھڑکن اُس کے اختیار میں نہیں۔ کل اُس کے اختیار میں نہیں۔ سب اللہ کے امر سے ہے۔
اور شاید انسان کی سب سے بڑی نجات یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے۔ جب انسان سجدے میں گر کر کہتا ہے: “اے اللہ، میں نہیں کرسکتا… مگر تو کرسکتا ہے…” تب آسمان کے دروازے ہلنے لگتے ہیں۔ تب رحمت قریب ہونے لگتی ہے۔ تب کن فیکون کی خوشبو روح تک پہنچنے لگتی ہے۔ اور پھر ایک دن انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے: وہ راستے جو بند تھے، اللہ نے کھول دیے۔ وہ دل جو ٹوٹ چکے تھے، اللہ نے جوڑ دیے۔ وہ خواب جو دفن ہوچکے تھے، اللہ نے زندہ کر دیے۔ وہ انسان جو خود کو ختم سمجھ بیٹھا تھا، اللہ نے اُسے دوبارہ اٹھا دیا۔ یہی امر ہے۔
یہی کن فیکون ہے۔
اللہ جب چاہتا ہے، تو اندھیروں کے اندر سے بھی روشنی پیدا ہوجاتی ہے۔
![]()

