Daily Roshni News

خواب دیکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن کامیاب نہیں ہوتے؟

خواب دیکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن کامیاب نہیں ہوتے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کامیابی کا سوچنے سے کامیابی کیوں نہیں ملتی ۔۔۔۔۔۔ کا پارٹ 2

دنیا کے پانچ بڑے سائنس دانوں نے وجہ بتا دی۔۔۔

یہ تحریر آپ کی پوری زندگی بدل سکتی ہے

خواب دیکھو کامیاب ہو جاؤ گے۔۔۔۔ لیکن کوئی نہیں بتاتا کہ غلط طریقے سے دیکھا گیا خواب

کامیابی کی بھوک مار دیتا ہے۔

آج یہ راز کھلے گا

پانچ مختلف ممالک

پانچ مختلف یونیورسٹیاں

پانچ مختلف تحقیقات

لیکن سب نے ایک ہی غلطی کی نشاندھی کی۔۔۔

وہ غلطی جو آپ روز کرتے ہیں

خلوص سے یا انجانے میں۔

1۔  خواب دماغ کو سلا دیتا ہے

گیبریل اوئیٹنگن

نیویارک یونیورسٹی اور ہیمبرگ یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر  ہیں تیس سال کی تحقیق کا نچوڑ ایک جملے میں ۔۔۔۔ جو لوگ صرف کامیابی کا خواب دیکھتے ہیں

وہ اصل میں کم محنت کرتے ہیں۔

کیوں؟

جب آپ کامیابی کا تصور کرتے ہیں

دماغ میں ڈوپامین خارج ہوتا ہے

وہی خوشی کا مادہ جو اصل کامیابی پر ملتا ہے۔

دماغ خیال اور حقیقت میں فرق نہیں کر پاتا

وہ سمجھتا ہے کام ہو گیا —

اور محنت کی بھوک مر جاتی ہے۔

مثال کے طور پر ایک نوجوان یوٹیوب چینل شروع کرنا چاہتا ہے۔

رات کو سوچتا ہے ۔۔۔

میرے لاکھوں سبسکرائبر ہیں برانڈز مجھے پیسے دے رہے ہیں، لوگ پہچانتے ہیں

دل خوش ہو گیا ۔۔۔ نیند آ گئی

صبح اٹھا — کیمرہ نہیں اٹھایا۔

کیونکہ دماغ نے سمجھا ۔۔۔ مل گیا۔

جیسے کوئی میچ سے پہلے رات کو ٹرافی اٹھانے کا خواب دیکھے

اور صبح پریکٹس پر نہ جائے۔

تو پھر خواب دیکھنا چھوڑ دیں؟

ہرگز نہیں

بلکہ خواب کو مکمل دیکھیں۔

مکمل کا مطلب

پہلے خوشی ۔۔۔۔ پھر رکاوٹ۔

اوئیٹنگن اسے Mental Contrasting کہتی ہیں۔

یہاں ایک سوال آتا ہے

اگر رکاوٹ بھی دیکھنی ہے

تو خوشی دیکھنے کا کیا فائدہ؟

سنیں غور سے

اگر صرف رکاوٹ دیکھو

دماغ گھبرا جاتا ہے اور ہمت چھوڑ دیتا ہے۔

اگر صرف خوشی دیکھو

دماغ مطمئن ہو جاتا ہے اور سو جاتا ہے۔

لیکن جب پہلے خوشی ۔۔۔ پھر رکاوٹ دیکھو

دماغ میں ایک کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے

جیسے کمان میں تیر کھنچا ہو

خوشی نے بتایا منزل قابلِ حصول ہے

رکاوٹ نے بتایا ابھی ملی نہیں، لڑنا ہے

اور یہی کھنچاؤ عمل کی طاقت بن جاتا ہے۔

2۔ ارادہ عمل نہیں بنتا جب تک منصوبہ نہ ہو

پیٹر گولوِٹزر

نیویارک یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر

پچیس سال کی تحقیق کا سوال ایک تھا

لوگ ارادہ کرتے ہیں تو عمل کیوں نہیں کر پاتے؟

جواب ملا کیونکہ رکاوٹ آنے پر دماغ کو سوچنا پڑتا ہے

اور سوچنے میں وقت لگتا ہے

اور اسی وقت میں سستی جیت جاتی ہے۔

حل یہ ہے

رکاوٹ کا جواب پہلے سے تیار رکھو۔

وہ اسے Implementation Intention کہتے ہیں۔

فارمولا صرف ایک ۔۔۔۔ اگر یہ ہوا ۔۔۔ن تو میں یہ کروں گا۔

مثال کے طور پر ایک عورت وزن کم کرنا چاہتی ہے

ارادہ پکا ہے  لیکن ہر شام میٹھا دیکھ کر ہاتھ رک نہیں پاتا۔

پھر اس نے پہلے سے فیصلہ کر لیا

اگر شام کو میٹھے کی طلب آئی

تو ایک گلاس ٹھنڈا پانی پیوں گی اور دس قدم چلوں گی۔

تین ہفتے بعد

میٹھا آیا ۔۔۔۔ دماغ کو سوچنا نہیں پڑا

جواب پہلے سے موجود تھا

پانی پیا ۔۔۔ قدم اٹھائے ۔۔۔ طلب گزر گئی۔

فیصلہ مشکل وقت سے پہلے کرو

مشکل وقت میں فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔

جدید سائنسی تحقیق کہتی ہے

ایسے لوگوں کے ہدف پورے کرنے کے امکانات

تین گنا بڑھ جاتے ہیں۔

3۔  رکاوٹ دشمن نہیں ۔۔۔۔ استاد ہے

کیرول ڈویک

اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر نے دہائیوں کی تحقیق کے بعد ایک بات ثابت کی۔۔۔۔

کامیاب لوگ ناکامی کو اپنی کمزوری کا ثبوت نہیں سمجھتے بلکہ سیکھنے کا موقع سمجھتے ہیں۔

وہ اسے Growth Mindset کہتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایڈیسن نے بلب ایجاد کرنے سے پہلے

نو سو ننانوے بار ناکامی دیکھی ۔۔۔۔ کسی نے پوچھا اتنی بار ناکام ہو کر کیسا لگتا ہے؟

بولے میں ناکام نہیں ہوا

میں نے نو سو ننانوے طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے۔

رکاوٹ نے ہر بار کچھ سکھایا

اور ہزارویں بار روشنی نے جنم لیا۔

4۔  خود پر یقین سب سے بڑا ہتھیار ہے

البرٹ بینڈورا

 جدید نفسیات کے عظیم ترین سائنس دانوں میں شمار ہوتا ہے ان کی Self-Efficacy Theory کہتی ہے۔

جو شخص یقین رکھتا ہے کہ میں یہ کر سکتا ہوں

وہ مشکلات کے باوجود زیادہ دیر تک کوشش جاری رکھتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک باپ کے دو بیٹے تھے

دونوں کو کاروبار میں نقصان ہوا۔

بڑے نے کہا

قسمت خراب ہے یہ میرے بس کا نہیں

اور نوکری ڈھونڈنے لگا۔

چھوٹے نے کہا

میں نے غلط مال چنا تھا

اس بار بازار پہلے دیکھوں گا

اور دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔

پانچ سال بعد

بڑا ابھی تک تلاش میں تھا

چھوٹے کی تین دکانیں تھیں۔

فرق ذہانت کا نہیں تھا

فرق اس ایک جملے کا تھا جو انہوں نے خود سے کہا۔

5۔  ذہانت نہیں ثابت قدمی کامیاب کرتی ہے

اینجیلا ڈک ورتھ

یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی پروفیسر  ہزاروں افراد پر تحقیق کے بعد ایک حیران کن نتیجہ

کامیابی کا راز ذہانت یا ٹیلنٹ نہیں

بلکہ مستقل مزاجی اور ثابت قدمی ہے۔

وہ اسے Grit کہتی ہیں۔

مثال کے طور پر

جے کے رولنگ

ہیری پوٹر لکھنے سے پہلے

بارہ مختلف پبلشروں نے کتاب چھاپنے سے انکار کیا۔

وہ اکیلی ماں تھیں غریب تھیں ٹوٹی ہوئی تھیں

لیکن تیرھویں دروازے پر دستک دی

اور دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں نام لکھ دیا۔

کامیابی نے دروازہ نہیں بدلا

اس نے ہمت نہیں چھوڑی۔

یہ پانچوں ماہر مختلف ممالک سے تھے

مختلف یونیورسٹیاں

مختلف تحقیقات

لیکن نتیجہ ایک

✔ خواب مکمل دیکھو

✔ رکاوٹ پہچانو

✔ جواب پہلے سے تیار رکھو

✔ خود پر یقین رکھو

✔ اور ڈٹے رہو

کامیابی خواب میں نہیں ۔۔۔ عمل میں ملتی ہے۔

ابھی نیچے کمنٹ میں لکھیں

آپ کا سب سے بڑا ہدف کیا ہے؟

اور سب سے بڑی رکاوٹ کون سی ہے؟

میں ہر کمنٹ پڑھتا ہوں اور خود جواب دیتا ہوں۔ 👇

یہ پوسٹ شیئر کریں

شاید کوئی برسوں سے یہی جواب ڈھونڈ رہا ہو۔ 🔁

لائک کریں تاکہ یہ علم اور لوگوں تک پہنچے۔ ❤️

خواب وہی پورے ہوتے ہیں جو آنکھیں کھول کر دیکھے جائیں۔

#GhulamMustafaMehar

#GrowthMindset

#Neuroscience

#SelfDevelopment

#Motivation

#MindPower

#SuccessMindset

#Grit

Loading