
خوبصورتی اور جمالیات کی سائنس
عبد السلام
۸ اپریل ۲۰۲۶
کبھی فرصت کے لمحات میں آپ نے یہ سوچا ہے کہ آخر ہمیں پھولوں کے شوخ و دلفریب رنگ اتنے پرکشش کیوں لگتے ہیں؟ پہاڑوں سے گرتے ہوئے جھرنوں کی مترنم آوازیں ہمارے دل کے تار کیوں چھیڑتی ہیں، اور بچوں کی بے ضرر سی شرارتیں ہمیں بے ساختہ مسکرانے پر کیوں مجبور کر دیتی ہیں؟ ایک خوبصورت جوان دوشیزہ کا سنگِ مرمر کی طرح تراشا ہوا سراپا کیوں ہماری نظروں کو مسحور کر لیتا ہے؟
ذرا غور کیجیے کہ آخر ماں کا ایک پیارا سا لمس ہمیں دنیا بھر کی فکروں سے آزاد کیوں کر دیتا ہے، یا پھر کسی مسالے دار، اشتہا انگیز بریانی کی مہک پاتے ہی ہمارے منہ میں پانی کیوں بھر آتا ہے؟ دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا یا کڑاکے کی سردی میں الاؤ کی نرم حرارت سیدھی روح میں کیوں اتر جاتی ہے؟ کسی کی بے لوث مدد کر کے آپ نے خود کو اندر سے اس قدر پرسکون اور “نیک” کیوں محسوس کیا ہے، یا کسی پرشکوہ مسجد اور قدیم عبادت گاہ کے روبرو کھڑے ہو کر آپ پر ایک نامعلوم عقیدت اور سحر کیوں طاری ہو جاتا ہے؟
زبان، جو کہ انسانوں کے لیے باہمی اشتراک یعنی ٹیم ورک اور قبائلی زندگی کی بقا کی ایک ضرورت تھی، وہ صرف خیالات کی ترسیل نہ رہی، بلکہ شاعری، فصاحت، بلاغت، قصہ گوئی، نغموں اور لطیف جذبات کے اظہار کا ذریعہ بن گئی۔ خالص منطقی اعتبار سے بھلا محبوب کے لبوں کا گلاب کی پنکھڑی سے کیا واسطہ؟ عقل اس کو ایک واہیات تمثیل سے ہی تعبیر کرے گی۔ لیکن ہماری شاعرانہ حس جمالیات کو اس قدر متحرک کر دیتی ہے کہ ہمیں اس بے جوڑ مثال میں بھی خوبصورتی نظر آتی ہے۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ چاند ایک خشک، بے آب و گیاہ، چٹانوں اور گڑھوں کا مجموعہ ہے، لیکن چودھویں کا چاند اب بھی ہماری رومانیت پرستی کو اکساتا ہے۔ آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کس قسم کے احساسات ہیں، اور ہمارے دماغ میں ایسا کیا ہے جو ہمیں یہ خوبصورت تجربہ کرواتا ہے۔
فلسفے کا ایک میدان جمالیات (Aesthetics) ہے۔ اس میں اس بات پر غور و فکر کیا جاتا ہے کہ انسان کو کچھ چیزیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں۔ جمالیات کا یہ احساس انسان کے اندر بستا ہے۔ ہم اس احساس کی تعریف یوں کر سکتے ہیں کہ کچھ چیزیں ہمیں بغیر کسی منطقی وجہ یا مادی مقصد کے اچھی لگتی ہیں، ان سے ہمیں بے اختیار خوشی کا احساس ہوتا ہے اور بے اختیار ہمارا دل ان کی تعریف کرنے لگتا ہے۔ یہ احساس صرف دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ سننے، چھونے، حرارت، گفتگو، غرض انسان کی تقریباً تمام حسیات پر محیط ہے۔ جمالیات اور منطق میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ منطق میں استدلال یعنی Reasoning ہوتی ہے؛ یعنی ہم دلائل سے بتا سکتے ہیں کہ کیا چیز درست ہے اور کیا غلط۔ جبکہ جمالیات میں اگر کوئی توجیہ موجود ہو بھی، تو اس کا نمایاں پہلو “اچھا لگنا” ہوتا ہے۔ الغرض، جمالیات وہ قوت ہے جس کی وجہ سے ہمارے اندر بے اختیار تحسین، لگاؤ، شیدائیت، تسکین، سرشاری اور محبت کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔
یہاں پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ انیسویں صدی میں، جو کہ صنعتی انقلاب اور مشینوں کے عروج کا زمانہ تھا اور علمی میدان میں ہر چیز کی وضاحت عقل سے کی جانے لگی تھی، یورپ میں ایک رومانی تحریک (Romantic Movement) نمودار ہوئی جو اس قسم کی خشک عقل پرستی کی مخالف تھی۔ یہ تحریک عقل کے خلاف نہیں تھی، بلکہ اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ منطق اور استدلال انسانی فطرت کا صرف ایک پہلو ہیں۔ رومانیت، تخیل اور جمالیات انسانی فطرت کا ایک لازمی اور اہم جزو ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس تحریک کے نمایاں مظاہر آرٹ، کہانیاں، شاعری اور موسیقی رہے ہیں۔ یہ تحریک واضح کرتی ہے کہ انسان جمالیات کے بغیر کتنا نامکمل ہے، اور اگر اسے اس کی اس فطرت سے ہٹانے کی کوشش کی جائے تو وہ بغاوت پر اتر آتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری جمالیات موروثی ہوتی ہیں، یا ہم تہذیبی اثرات اور آس پاس کے ماحول کے زیرِ اثر کچھ چیزوں کو حسین اور خوبصورت محسوس کرتے ہیں؟ ایک بات تو طے ہے کہ حسن و جمال کا احساس ہماری دماغی ساخت میں پیوست ہے، لیکن جن مخصوص مظاہر سے ہماری جمالیاتی حس فعال ہوتی ہے، اس کا تعلق دماغ کی ساخت کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن کے اثرات سے بھی ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ جو چیز ایک خطے میں خوبصورتی کا معیار سمجھی جاتی ہو، دوسری تہذیب میں عجیب لگے۔ افریقہ کے کچھ قبائل میں لمبی گردن یا چہرے پر مخصوص کٹ کے نشانات خوبصورتی کی علامت ہیں۔ جاپان میں وابی سابی (Wabi-Sabi) کا فلسفہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور پرانی چیزوں میں جمالیات تلاش کرتا ہے۔ دنیا کی اکثر تہذیبوں میں ابھرا ہوا سینہ خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن کچھ قبائل میں آج بھی سینہ صرف دودھ پلانے کا عضو ہے جس کا حسن اور جنسی کشش سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہماری ثقافت اور ماحول ہمارے دماغ کے نیورل کنکشنز کو جزوی طور پر دوبارہ ترتیب دیتے ہیں کہ ہمیں کیا خوبصورت ماننا ہے اور کیا نہیں۔
آئیے اس بات پر بھی غور کرتے ہیں کہ جمالیات کا ہماری زندگی اور اخلاقیات پر کیا اثر ہوتا ہے۔ کیا ہماری اخلاقیات کا انحصار بھی جمالیات پر ہے؟ ایک بچہ جو اچھے اور برے کی پیچیدہ سمجھ نہیں رکھتا، اگر اسے “گندا بچہ” کہا جائے تو وہ کیوں رونے لگتا ہے؟ ظاہر ہے اس کی ایک وجہ سماجی تربیت Social Conditioning ہے کہ اس نے سیکھ لیا ہے کہ “گندا” کہلانے سے وہ سماجی توثیق (Validation) سے محروم ہو جائے گا۔ لیکن بغیر سوچے سمجھے فوراً برا محسوس کرنا، اور اچھا کہلانے پر خوشی محسوس کرنا، کیا اس کا تعلق جمالیات سے ہے؟ جدید نفسیات کے مطابق یہ جزوی طور پر ایک جمالیاتی ردعمل بھی ہے۔
جب ہم کوئی نیک کام کرتے ہیں یا کسی کی مدد کرتے ہیں، تو ہمیں جو سکون ملتا ہے تو اس کے پیچھے صرف نیکی کا منطقی جذبہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں ایک جمالیاتی مسرت (Moral Beauty) ہوتی ہے۔ ہم اپنے ایک ہم آہنگ اور خوبصورت سماجی وجود کو محسوس کر کے خوش ہوتے ہیں۔ دراصل انسانی دماغ برائی کو “سماجی بدصورتی” کے مساوی رکھ کر پراسیس کرتا ہے۔
جمالیات نے انسانی تاریخ میں مذہب اور عقائد کو شکل دینے میں انتہائی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ کوئی بھی مذہب جمالیات کی طاقت کے بغیر انسانی ذہنوں میں اتنی گہرائی تک نہیں اتر سکتا تھا۔ عقائد اور مذہبی دیومالا (Mythology) اپنی سحر انگیز کہانیوں سے انسانی تخیل کو مسحور کرتی ہے۔ خدا کا تصور بذاتِ خود حتمی جمالیات کی تلاش ہے۔ اسلام میں یہ تصور موجود ہے کہ “اللہ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے” (ان اللہ جمیل یحب الجمال)۔ قرآن کی صداقت کے لیے ہمارے پاس صرف منطقی دلائل ہی نہیں ہوتے، بلکہ اس میں پائی جانے والی فصاحت و بلاغت اس کا ایک مسحور کن عنصر ہے، اور اس کی پُرسوز تلاوت ایک ایسا جمالیاتی تجربہ ہے جو منطق سے پرے ہو کر اس مقدس کتاب کو ہمارے ایمان کا حصہ بنا دیتا ہے۔
اسی طرح ہندو مت میں اعلیٰ ترین سچائی کو “ستیم شیوم سندرم” (سچ ہی شیو ہے اور شیو ہی خوبصورت ہے) کہہ کر پکارا گیا۔ یعنی خدا اور خوبصورتی ایک ہی ذات کے دو نام بن گئے۔ مساجد کے بلند گنبد و مینار، کلیساؤں کے رنگین شیشے اور مندروں کی شاندار تراش خراش، یہ سب جمالیات کو خدا سے منسلک کرنے کے مظاہر ہیں۔
مذہبی رسومات میں صوفیانہ کلام، حمد و ثنا، مخصوص اور باوقار لباس، اور بخور یا لوبان کی خوشبو ایک مکمل جمالیاتی ماحول تخلیق کرتے ہیں۔ صوفیا کا وجد، مراقبہ اور اندرونی تجربہ (Inner Experience) دراصل روحانیت کے ساتھ جمالیات کا نقطہ عروج ہے۔ جب ایک صوفی کہتا ہے کہ اسے ہر طرف جلوہ نظر آ رہا ہے، تو وہ دراصل کائنات کی کل خوبصورتی کو اپنے اندر محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک خالص جمالیاتی کیفیت ہے۔ قوالیوں سے وجد طاری ہونا بھی اسی جمالیات کا مظہر ہے۔ جب کوئی قوال اپنے مخصوص انداز میں “بھر دے جھولی میری یا محمد، لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی” کہتا ہے، تو کوئی شخص خواہ اسے اپنے عقیدے کی رو سے یہ شرک محسوس ہو، جمالیاتی حس اس قوالی کی گونج اس کے ذہن میں بار بار پیدا کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ مختلف مذہبی فرقوں میں پائے جانے والے فرق کی ایک وجہ بھی اسی جمالیات کی کمی یا زیادتی ہے۔ مثلاً کچھ فرقے مذہب کو محض عقائد کی ایک فہرست (Checklist) کی طرح پیش کرتے ہیں، جبکہ کچھ عقیدت مندوں کے لیے وجد اور اندرونی ہیجان کے بغیر مذہب بے معنی ہے۔ یہ فرق دراصل جمالیاتی ترجیحات کی وجہ سے ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے اندر یہ جمالیاتی حس کیوں ہے؟ کیا اس کی کوئی بائیولوجیکل وجہ ہے؟ آئیے کھوج لگاتے ہیں کہ سائنس خوبصورتی کے اس سحر انگیز احساس کی وضاحت کس طرح کرتی ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق، جمالیات کی جڑیں ہماری بائیولوجی اور نیورو سائنس میں گہرائی تک پیوست ہیں۔ جب ہم خوبصورتی کے احساس کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم دماغ کے پیچیدہ کیمیائی اور برقی سگنلز کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ آنکھوں سے کسی دلکش منظر کو دیکھنا، کانوں سے کسی مدھر دھن کو سننا، یا جلد کے ذریعے کسی نرم سطح کو چھونا، یہ سب دماغ تک پہنچنے والی معلومات کے سگنل ہیں۔ شدید سردی میں الاؤ کی حرارت، چلچلاتی گرمی میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا، یا ماں کا سکون آور لمس، یہ سب ہمارے دماغ کے انعامی نظام (Reward System) کو متحرک کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران دماغ ڈوپامائن (Dopamine)، اینڈورفنز (Endorphins) اور آکسیٹوسن (Oxytocin) خارج کرتا ہے۔ ان کیمیکلز کے اخراج سے ہمیں راحت، سکون، محبت اور خوبصورتی کا احساس ہوتا ہے۔ یعنی جب بھی ہم خوشی، تحسین، یا وجد محسوس کرتے ہیں، تو یہ لازمی طور پر نیورو سائنس اور ان ہارمونز کا کھیل ہوتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ خوشی کے اکثر احساسات ان تجربات سے منسلک ہیں جو ہماری جسمانی اور نسلی بقا کے لیے مفید ہیں۔ نیچرل سلیکشن کے اصول کے تحت، ہم ارتقائی طور پر ان چیزوں کی طرف کشش محسوس کرنے کے لیے پروگرام کیے گئے ہیں جو ہماری زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ مثلاً: ہمیں سرسبز وادیاں اور بہتے جھرنے خوبصورت لگتے ہیں کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد کے لیے پانی اور نباتات زندگی کی ضمانت تھے۔ ہمیں میٹھے ذائقے اچھے لگتے ہیں کیونکہ قدرتی طور پر میٹھے پھل توانائی کا بہترین ذریعہ تھے۔ انسانی چہروں اور جسم میں ہم آہنگی یعنی Symmetry کو پرکشش مانا جاتا ہے کیونکہ یہ بہترین جینیات اور صحت کی نشانی ہے۔ صنف مخالف میں خوبصورتی محسوس کرنا ہماری نسلی بقا کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہی کشش جنسی تعلق کی بنیاد بنتی ہے جس سے نسلیں آگے بڑھتی ہیں۔
سائنس میں جانداروں کے زیادہ تر احساست کی تشریح ارتقائی بقا (Survival advantage) سے کی جاتی ہے، اور اوپر ہم نے جمالیات کی بنیادی ارتقائی تشریح کر دی۔ لیکن جب ہم گہرائی میں جاتے ہیں تو معاملہ بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ارتقائی نفسیات کہتی ہے کہ عورت کے مخصوص خدوخال زرخیزی (Fertility) اور جوانی کی علامت ہیں، جس سے بقا کا فائدہ ملتا ہے۔ لیکن انسانوں میں حسن کے مخصوص معیارات اور دیوانگی محض بقا کی ضرورت سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔ ایک خاص حد کے بعد، کسی مخصوص نقوش والے چہرے کا نسل بڑھانے میں کوئی اضافی کردار نہیں ہوتا، پھر بھی وہ ہمیں بے حد حسین لگتا ہے۔ موجودہ آبادی میں زیادہ حسین اور کم حسین عورت کے درمیان نسل آگے بڑھانے کی صلاحیت کے اعتبار سے کوئی قابل ذکر فرق نہیں ہے۔ اسی طرح ہم جھرنوں کی آواز کی تو ارتقائی تشریح کر سکتے ہیں، لیکن موسیقی، آلاپ، قوالی، تجریدی آرٹ، شاعری اور وجد جیسی پیچیدہ چیزوں کی ارتقائی تشریح کیا ہوگی؟ اگر کوئی گروہ ان مشغلوں میں مگن ہو جائے تو دشمن کے حملے میں ان کے ختم ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔ بظاہر یہ چیزیں بقا کے خلاف (Counter-productive) لگتی ہیں۔
تو کیا نظریہ ارتقا خالص جمالیات کی تشریح میں ناکام ہے؟ کیا واقعی میں نظریہ ارتقاء میں اس بات کی گنجائش ہے کہ جانداروں میں ایسی جمالیاتی حس پیدا ہوجائے جس کا Survival advantage سے کوئی تعلق نہ ہو یا کبھی کبھی یہ بقا کو ہی خطرے میں ڈال دے۔
اس سلسلے میں پہلا نکتہ جنسی انتخاب سے متعلق Runaway Evolution یا بے قابو ارتقاء ہے۔ یہ وہ بنیادی میکانزم ہے جو براہِ راست ایسی جمالیاتی حس کی ارتقائی تشریح کرتا ہے جس کا بظاہر بقا سے تعلق نہیں۔ اس عمل میں، کسی نسل کی مادہ میں اتفاقا نر کی مخصوص جسمانی یا صوتی خصوصیات کے لیے ایک غیر شعوری کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی خصوصیات والے نر کو افزائشِ نسل کے زیادہ مواقع ملتے ہیں کیونکہ مادہ اس میں کشش محسوس کر رہی ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے آنے والی نسلوں میں یہ خوبصورت لیکن بظاہر غیر ضروری خصوصیات تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال نر مور کے خوبصورت پر ہیں۔ حالانکہ اتنے بڑے پر نر کی زندگی خطرے میں ڈال سکتے ہیں کیونکہ وہ شکاری کے لیے نمایاں ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ مادہ مور ان میں کشش محسوس کرتی ہے، اس لیے بتدریج ان پروں کا سائز اور حسن بڑھتا چلا گیا۔
اس عمل میں دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ بغیر کسی بقائی فائدے کے دو جینیاتی سفر متوازی چل رہے ہوتے ہیں: ایک طرف وہ ظاہری خصوصیت پروان چڑھتی ہے، اور دوسری طرف وہ ذہنی ساخت جو ان خصوصیات میں کشش محسوس کرتی ہے۔ یہاں بقا کی جدوجہد کے مقابلے میں تولیدی کشش اور جمالیاتی ترجیح کو فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ رن اوے ایوولوشن صرف جنسی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ انسانی معاشروں میں سماجی اثر و رسوخ کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے، جہاں کوئی خاص خصوصیت محض اس لیے معیارِ جمال بن جاتی ہے کیونکہ معاشرے کا بااثر طبقہ اسے پسند کرتا ہے۔
جمالیات کی سائنسی تشریح کا ایک اور انتہائی اہم پہلو ارتقائی ضمنی پیداوار (Evolutionary Byproducts) کا ہے، جسے ماہرینِ حیاتیات Spandrels کا نام دیتے ہیں۔ بعض اوقات جانداروں میں کوئی خاص شکل یا خصوصیت اس لیے نہیں ابھرتی کہ وہ بقا کے لیے ضروری ہے، بلکہ وہ محض کسی اور مفید تبدیلی کا لازمی اور غیر ارادی نتیجہ ہوتی ہے۔ جب کسی جگہ پر محراب بنایا جاتا ہے تو اس کی گولائی کے اوپر دائیں بائیں جانب جو تکونی خالی جگہ بن جاتی ہے اس کو سپینڈرل کہا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ غیر ضروری حصہ ہوتا ہے، لیکن اسی میں ڈیزائن کر کے اس کو فن تعمیر کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح، انسانی ٹھوڑی (Chin) کی ارتقائی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ بقا کے لیے کوئی فائدہ مند ٹول نہیں تھی، بلکہ جب خوراک اور دماغی حجم میں تبدیلی کے باعث ہمارے آباؤ اجداد کے چہرے اور جبڑے کی ساخت بدلی، تو ٹھوڑی محض ایک ضمنی ابھار کے طور پر وجود میں آ گئی۔ یہی ٹھوڑی بعد میں انسانی شعور نے اپنے جمالیاتی معیارات کا حصہ بنا لیا۔ اسی وجہ سے جمالیات، خاص طور پر موسیقی اور آرٹ کو بھی انسانی دماغ کے ترقی یافتہ ہونے کا ایک حسین اسپینڈرل مانا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور پہلو جینیاتی بہاؤ (Genetic Drift) ہے۔ یہ خالصتاً اتفاق اور قسمت پر مبنی ہے اور اس میں بقا کے فائدے یا نقصان کا سرے سے کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ارتقاء کے اس عمل میں، کسی چھوٹی آبادی میں کچھ خصوصیات محض اس لیے غالب آ جاتی ہیں کہ انہیں رکھنے والے چند افراد اتفاقاً افزائشِ نسل میں زیادہ کامیاب رہے۔ مثال کے طور پر، اگر پرندوں کا ایک چھوٹا گروہ کسی جزیرے پر محصور ہو جائے، اور ان میں سے چند کے پروں پر اتفاقاً کوئی خاص نشان ہو، تو نسل در نسل وہ نشان اس پوری آبادی کا معیاری حصہ بن سکتا ہے۔ یہ تبدیلیاں کسی شعوری انتخاب کا نتیجہ نہیں ہوتیں، لیکن یہ کسی نسل کی ظاہری شناخت اور ان کی انوکھی جمالیات کو ترتیب دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
اگر آپ اسپینڈرلز اور جینیاتی بہاؤ کے تصورات کو رن اوے ایوولوشن یعنی بے قابو ارتقا کے ساتھ ملا کر دیکھیں، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ارتقاء کی کہانی میں امکانات کی ہزاروں دنیائیں چھپی ہوئی ہیں۔ جمالیات کوئی سیدھا سادا حسابی کلیہ نہیں، بلکہ حیاتیات، کیمسٹری اور اتفاقات کا ایک پیچیدہ اور سحر انگیز کھیل ہے۔ اگر یہ ارتقائی طلسم نہ ہوتا، تو یہ کائنات منطق کا ایک خشک اور بے رنگ صحرا ہوتی جس میں نہ حسن ہوتا، نہ تحسین، نہ سرشاریاں، نہ آسودگی، اور نہ ہی خوشیاں۔
چونکہ سائنس میں جانداروں کے جسمانی اور ذہنی میکانزم کی تشکیل کے لیے ارتقاء کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں اس لیے اوپر ممکنہ ارتقائی تشریحات کی گئیں۔ مندرجہ بالا توضیحات کے باوجود، سائنس کی طرف سے یہ دعوی نہیں کیا جارہا ہے کہ اس نے جمالیات کی تمام گتھیاں سلجھا دیں۔ کھری بات یہی ہے کہ ہمیں سب کچھ نہیں معلوم۔ جاتے جاتے یہ واضح ہو کہ اگرچہ مذہب کو جمالیات سے الگ نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس کا مطلب یہ دعوی قطعی نہیں ہے کہ مذہب انسانی جمالیات کی تخلیق ہے۔ ہماری تحریر سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مذہب انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے، اب یہ سوال کہ یہ ہم آہنگی کیوں پیدا ہوئی ایک عقیدے کا سوال ہے اور اس تحریر کے دائرہ کار سے باہر ہے۔
![]()
