💙خوشی اور غم کا فلسفہ💙
تحریر۔۔۔قلندر بابا اولیاء ؒ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ خوشی اور غم کا فلسفہ ۔۔۔تحریر۔۔۔قلندر بابا اولیاء ؒ) 🌼ہر خوشی مہلت برائے تیارئ سامان غم—!!! 🌼ہر سکون وقفہ برائے اضطراب و امتحاں—!!! (قلندر بابا اولیاء علیہ رحمت)۔۔۔۔ 💥زمانہ جن خطوط پر متحرک ہے،ان میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ناگوار گزرتی ہیں اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان خوش ہوتا ہے۔ یہ خوش ہونایا رنجیدہ ہونا دونوں عارضی چیزیں ہیں۔اور ان دونوں کا تعلق ماضی سے ہے۔آدمی پریشانی سے دو چار ہوتا ہے،اب وہ پریشانی خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو آخر کار ختم ہو جاتی ہے اور پھر آدمی خوش ہو جاتا ہے،کچھ عرصہ خوش رہ کر وہ خوشی بھی ختم ہو جاتی ہے-نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ زندگی نام ہے خوش ہونے یا رنجیدہ ہونے کا،غم اور خوشی دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔غم ہو یا خوشی دونوں کا تعلق زندگی سے تو ہے لیکن خوشی یا غم مستقل کوئ شے نہیں ہیں۔اپنی زندگی میں آدمی صحت مند ہوتا ہے تو خوش ہو جاتا ہے۔بیمار ہوتا ہے تو رنجیدہ ہو جاتا ہے۔بیماری سے صحت حاصل ہوتی ہے تو پھر خوش ہو جاتا ہے۔یہی صورت حال تمام زندگی پر محیط رہتی ہے۔یہاں جو کچھ ہو رہا ہےوہ گزر رہا ہے۔خوشی بھی گزر رہی ہے،غم بھی گزر رہا ہے۔بیماری بھی گزر رہی ہے صحت بھی گزر رہی ہے-قانون یہ سامنے آیا کہ جو چیز گزر گئ اسے یاد کرنے سے کوئ فائدہ نہں ہوتا- بچپن کا سارا زمانہ ہی خوشی کا ہوتا ہے۔جب بچپن گزر گیا،آپ جوانی کے دور میں داخل ہوے،اس تمام مرحلے میں نشیب و فراز سے گزر آئے۔کبھی پریشانی ہوئ تو کبھی بدحالی، کوئ پیدا ہوا تو کوئ مر گیا-بالآخر اس جوانی کی زندگی سےگزر کر جب آپ بڑھاپے میں آگئےتو لاکھ چاہیں کہ بچپن واپس آ جائے اور بچپن کی کیفیات میں لوٹ جائیں،مگر یہ کبھی نہیں ہو سکتا-گزرنے والی چیز جو گزر گئ وہ واپس نئیں آتی-یہ قانون ہے کہ جو گزر گیا وہ واپس نہیں آئے گا-زندگی کو اگر ڈھونڈنا چاہئیں کہ زندگی ہے کیا۔؟ تو یہی پتہ چلے گا کہ زندگی ایک ایسا وقفہ ہے جو سانس پر قائم ہے۔سانس جو آ گئے سو آگئے جو نئیں آئے وہ نئیں آئے-سانس کا وقفہ تھوڑا سا ہوتا ہے،صرف چند سیکنڈ کا یہی چند سیکنڈ زندگی ہے-
![]()

