Daily Roshni News

خوف

خوف

مکمل ناول

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات کے قریب دو بجے جب ہر انس و جاں تاریکی اور سیاہی کی اوٹ تلے نیند کے مزے لوٹ رہے تھے پیاس کی شدت کی خاطر وہ بے چینی سے اپنے بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی کہ تبھی اس کی آنکھ کھل گئی کمرے میں ہوا کا گزر کھلی کھڑکی کی بنا پر تھا جس کا احساس اسے اپنے چہرے پر پڑتی ٹھنڈک سے ہوا۔ اس نے پانی پینے کے ارادے سے سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ اچانک سے اسے اپنے برابر میں کسی کا وجود محسوس ہوا ہمت کرتے ہوئے اس نے برابر میں دیکھا تو وہ وہیں لیٹا تھا کالے لباس میں خوفناک چہرے پر مسکراہٹ سجائے منت کو دیکھ رہا تھا۔ منت کی یہ بات سوچ کے جان نکلی جا رہی تھی کہ نہ جانے وہ کب سے یہاں تھا منت نے زور سے خیخ ماری اس کے ہاتھ میں جو گلاس تھا وہ زمین پر جا گرا اور ٹوٹ گیا وہ چیخیں مارے جا رہی تھی لیکن اس نے محسوس کیا وہ چیخ تو رہی ہے لیکن اس کی آواز نہیں نکل رہی منت ہمت کرتے ہوئے بڑھتے بڑھتے اپنے بستر سے اٹھی اور کمرے کے دروازے کی جانب بھاگی اور زور زور سے دروازہ بچانا شروع کر دیا منت کی نظر سائیڈ ٹیبل سے ہوتی ہوئی بیڈ کی جانب گئی تو اس نے دیکھا وہ وہاں نہیں تھا اس نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ اچانک اسے اپنے پیچھے کسی کا وجود محسوس ہوا منت کو لگا وہ اب بھی مر جائے گی وہ جو بھی تھا اسے اپنے بالکل قریب محسوس ہوا۔ تم مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو ؟ منت کے کان میں خوفناک آواز گونجی۔ منت خوف کے مارے کانپنے لگی کہ ایک دم سے دروازہ کھل گیا۔

 منت کیا ہوا ؟ حمزہ نے پریشانی سے پوچھا۔ منت بھاگ کر سائرہ بیگم کے گلے لگ گئی اور رونا شروع کر دیا۔ منت کیا ہوا ہے ؟ سائرہ بیگم گھبرا گئیں۔

 وہ ان۔۔۔۔۔۔ وہ اندر۔۔۔۔۔۔ اٹکتے ہوئے گھبرائی ہوئی آواز میں بولی۔

اندر کوئی نہیں ہے۔ حمزہ نے پورے کمرے کا معائنہ کرتے ہوئے کہا تم نے کوئی برا خواب دیکھا ہوگا۔۔۔ سو جاؤ اب۔ حمزہ نے اسے پیار سے سمجھایا۔

 وہ سچ میں کوئی تھا وہاں۔۔ منت نہیں روتے ہوئے کہا۔

 منت کیا ہوا بیٹا اور یہ تمہارے پیر کو کیا ہوا یہ کانچ کیسے لگ گیا ؟ حمزہ پریشانی سے بولتا اس کی جانب بڑھا منت کو یاد آیا جب وہ بیڈ سے اتر کر بھاگی تھی تو اسے چبھ گیا تھا لیکن وہ اس وقت اتنی خوف زدہ تھی کہ اس پر دھیان نہیں دیا۔ وہ گلاس ٹوٹ گیا تھا۔ منت نے پیر کو دیکھتے ہوئے کہا۔

اچھا چلو تم یہاں بیٹھو میں آتا ہوں۔ حمزہ نے اسے اندر کمرے میں جانے کا اشارہ کیا۔

نہیں میں امی کے ساتھ سو جاؤں گی۔ منت اب تک ڈری ہوئی تھی۔

 اچھا چلو ٹھیک ہے امی آپ اسے لے جائیں میں یہ سب صاف کر دوں گا جب تک آپ اس کے پیر میں بینڈج لگا دیں۔ حمزہ نے انہیں جانے کا کہا اور خود واپس آ کے کانچ اٹھانے لگا منت نے جاتے جاتے مڑ کر دیکھا تو وہ وہیں ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑا آنکھوں میں غصہ لیے اسے گھور رہا تھا اس نے ڈر کر جلدی سے چہرہ آگے کو کر لیا۔ حمزہ کانچ اٹھا کر جانے لگا تب اسے ایسا لگا جیسے کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہو۔۔۔۔۔ اس نے فوراً مڑ کر دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا خیر وہ اپنا وہم سمجھ کر باہر چلا گیا۔ جیسے ہی حمزہ باہر گیا ایک زور آواز کے ساتھ دروازہ بند ہو گیا جیسے اسے اچھا نہ لگا ہو منت کا یہاں سے جانا۔۔۔۔۔

اف اللہ میں کیا کروں کس کو بتاؤں امی کو بتایا تو وہ پریشان ہو جائیں گی اور وہ میرا وہم نہیں، سچ ہے اور اگر میں نے کسی کو بتایا اور اس نے ان کو نقصان پہنچا دیا تو۔۔۔۔۔ نہیں میں کسی کو نہیں بتاؤں گی یا اللہ تو ہی میری مدد کر اس جن سے میری جان چھڑا دے۔۔۔۔۔۔ منت دل میں خود سے باتیں کر رہی تھی۔

 منت کیا سوچ رہی ہو بیٹا ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ سائرہ بیگم نے اس سے سوچوں میں گم دیکھ کر کہا۔

 کہیں نہیں امی بس ایسے ہی۔۔۔۔۔

 اچھا میں جا رہی ہوں دیر ہو رہی ہے۔

 منت سائرہ بیگم کی آواز پر چونک کر بولی ناشتہ تو کر لو۔۔۔۔۔ سائرہ بیگم بولیں۔  نہیں امی وہاں کچھ کھا لوں گی اللہ حافظ۔۔۔۔۔۔

 اللہ حافظ۔ ایک تو یہ بچے بھی نہ۔۔۔۔۔ سائرہ بیگم پلیٹس سمیٹ کر کچن میں لے گئیں۔

 اوئے کہاں گم رہتی ہے تو؟ مہر نے منت کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا جو کافی دیر سے درخت کی جانب دیکھ رہی تھی۔

 اوہ نہ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں کچھ نہیں۔ منت نے چونک کر کہا۔

اگر کوئی بات ہے تو پلیز شیئر کر دیکھ رہی ہوں کافی وقت سے تو ڈسٹرب لگ رہی ہے۔ مہر نے پریشانی سے کہا۔ مہر منت کی بچپن کی دوست تھی دونوں ایک دوسرے سے کبھی کچھ نہیں چھپاتی تھیں۔ کوئی پرابلم ہو جاتی تو مل کر حل تلاش کرتیں۔۔۔۔۔ گھر پر بھی بہت آنا جانا تھا۔ دونوں ہی کی کوئی بہن نہیں تھی لیکن ایک دوسرے کو بہنوں سے بڑھ کر مانتی تھیں۔ منت ہمیشہ سے بہت شرارتی تھی وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرت اور مہر کو پھنسا دیتی لیکن اس کا اچانک سے خاموش ہو جانا مہر کو کچھ ٹھیک نہیں لگا۔ نہیں کوئی بات نہیں ہے تو پریشان مت ہو۔۔۔۔۔منت مسکرا کر بولی۔

 لیکن مجھے پھر کیوں ایسا لگ رہا ہے مہر نے بغور اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔

 کیا کروں بتا دوں میں مہر کو ہو سکتا ہے کوئی حل نکل آئے؟ منت سوچنے لگی۔

 او میڈم کہاں کھو گئی؟ مہر نے اس کے آگے ہاتھ لہرایا۔

 وہ کہیں نہیں یار میں کچھ پریشان ہوں۔ منت نے اسے بتانے کا ارادہ کیا۔

کیا بات ہے مہر ؟ اس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔

 یار وہ بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ منت بتاتے بتاتے رکی اور گھبرا کر مہر کے عقب میں دیکھا تو وہاں اسے وہی جن نظر آیا اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی ہوئی تھی۔ مانو کہہ رہا ہو کہ خاموش۔

 آگے بتا پیچھے کس کو دیکھ رہی ہے؟ مہر نے پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔

 یار بس پڑھائی کی وجہ سے پریشان ہوں۔ منت نے بہانہ بنا دیا کیونکہ اس سے ڈر تھا کہیں وہ مہر کو نقصان نہ پہنچا دے۔

 پکا؟ مہر کا دل مطمئن نہیں ہوا۔

جی۔ منت مسکرا دی۔

 میرا دل نہیں مانتا تو کہتی ہے تو مان لیتی ہوں۔ مہر نے منہ بنایا۔ اچھا اب چل منت۔۔۔۔۔ اپنے ساتھ لے گئی۔

منت بیٹا تم گھر پر رک جاؤ اکیلی بس کچھ دیر کے لیے سائرہ بیگم بولیں۔

نہیں۔۔۔۔۔ منت جھٹ سے بولی۔

 بیٹا مجھے اور امی کو ذرا کہیں جانا ہے اس لیے کہہ رہے ہیں بس کچھ دیر کے لیے ہم عشاء سے پہلے آ جائیں گے۔ حمزہ نے پیار سے سمجھایا۔

نہیں بھائی مجھے ڈر لگے گا۔ منت نے ڈری ہوئی آواز میں کہا۔

 اچھا حمزہ ایک کام کرو میرا وہاں جانا ضروری ہے تم یہاں رک جاؤ میں سیما کے ساتھ چلی جاؤں گی۔ سائرہ بیگم کو بھی ٹھیک نہیں لگا رات والے واقعے کے بعد اسے اکیلے چھوڑ کر جانا۔ اوکے امی میں طلحہ کو کہہ دیتا ہوں آپ کو آ کر لے جائے گا وہ۔ حمزہ نے کہا۔

 ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا اور بہن کا بھی۔۔۔ میں جلدی آنے کی کوشش کروں گی۔ سائرہ بیگم چادر اپنے گرد لپیٹتے ہوئے بولی۔ جی امی ٹھیک ہے اللہ حافظ۔۔۔۔۔ حمزہ اور منت انہیں دروازے تک چھوڑ کر واپس اندر آ گئے۔منت کے والد صاحب کا کافی عرصے پہلے انتقال ہو گیا تھا اور تب سے ہی سائرہ بیگم منت اور حمزہ کو ماں اور باپ دونوں بن کر پال رہی تھیں۔ حمزہ نے پڑھائی ختم ہونے کے بعد چھوٹا سا کوئی بزنس شروع کر لیا تھا اور منت ابھی پڑھ رہی تھی ان کی چھوٹی سی فیملی بہت سکون سے زندگی گزار رہی تھی کہ اچانک منت کو نہ جانے کیا ہوا تھا وہ کافی کافی دیر بیٹھ کر ایک ہی جگہ دیکھتی رہتی۔۔۔۔ راتوں کو چونک کر اٹھ جاتی۔۔۔۔ بار بار ڈرنے لگی تھی اور گھر والے اب تک یہی سمجھ رہے تھے کہ شاید یہ سب اس کا وہم ہے لیکن اب یہ وہم تھا یہاں حقیقت یہ تو صرف منت ہی جانتی تھی منت چائے بنا دو یار سر درد کر رہا ہے۔۔۔ حمزہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

 جی لاتی ہوں۔ منت کچن کی جانب چلی گئی منت کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی کہ ایک دم سے دروازہ بند ہو گیا منت نے چونک کر دیکھا اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے۔ وہ کچھ کہہ رہا تھا لیکن منت سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر منت کی گردن کو چھوا منت کو لگا جیسے کسی نے کانٹوں بھری کسی چیز سے اسے چھوا ہو ۔۔۔۔۔منت نے خوف سے انکھیں میچ لیں اور جو جو یاد تھا پڑھنا شروع کر دیا وہ چیز ایک دم سے اس سے دور ہوئی اور دروازہ کھل گیا۔

 منت کیا ہوا یار چائے بنا رہی ہو یا پائے؟ حمزہ کچن میں داخل ہوا۔ منت نے اب تک خوف کے مارے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں اور پڑھے جا رہی تھی۔

جاری رہے گی اگر آپ ریڈرز کے لائکس کمنٹس میں پسندیدگی واضح ہو گی تو انشاء اللہ

Loading