Daily Roshni News

خوفِ خدا — نجات کا راستہ

خوفِ خدا — نجات کا راستہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )امام شافعیؒ کے زمانے میں ایک خلیفہ نے اپنی بیوی کو ایک عجیب انداز میں طلاق دے دی، اور یہ واقعہ بعد میں فقہ کا ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔

ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہنسی مذاق کے دوران اس نے ملکہ سے پوچھ لیا: “تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے؟”

ملکہ، جو اس کی نہایت عزیز بیگم تھی، مزاح میں بولی: “مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں۔”

یہ جملہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور وہ بولا: “اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں!”

یہ سنتے ہی ملکہ رونے لگی، اور کچھ دیر بعد بادشاہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔

اگلے دن بادشاہ نے ملک بھر کے علماء، مفتیانِ کرام اور امام حضرات کو دربار میں جمع کیا اور پوچھا: “کیا اس طرح میری طلاق واقع ہو چکی ہے؟”

تمام علماء نے یکے بعد دیگرے یہی جواب دیا کہ: “جی ہاں، طلاق ہو چکی ہے اور اب ملکہ آپ کی زوجہ نہیں رہیں۔”

لیکن اس مجلس میں ایک نوجوان مفتی بھی موجود تھا، جو ایک طرف خاموش بیٹھا رہا۔ بادشاہ نے اس سے بھی رائے پوچھی تو اس نے عرض کیا:

“جناب، یہ طلاق نہیں ہوئی، کیونکہ آپ نے مشروط طور پر کہا تھا کہ اگر میں جہنمی ہوں تو طلاق ہے، اور ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ آپ جہنمی ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی آپ کے جنتی ہونے کی گارنٹی دے دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔”

بادشاہ نے حیرت سے پوچھا: “مجھے جنتی ہونے کی گارنٹی کون دے گا؟”

تمام علماء خاموش ہو گئے، کیونکہ دنیا میں کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کی قطعی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔

تب اس نوجوان مفتی نے کہا: “بادشاہ سلامت! میں آپ کو یہ گارنٹی دے سکتا ہوں، لیکن ایک سوال کے جواب میں۔ اگر آپ کا جواب ہاں ہوا تو میں آپ کو جنتی ہونے کی خوشخبری دے دوں گا۔”

بادشاہ نے کہا: “پوچھو!”

نوجوان نے سوال کیا: “کیا آپ کی زندگی میں کبھی ایسا موقع آیا کہ آپ گناہ پر قادر تھے، مگر صرف اللہ کے خوف سے آپ نے اسے چھوڑ دیا؟”

بادشاہ نے سر اٹھایا اور کہا:

“ہاں، ایک بار ایسا ہوا۔ میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو ایک نوکرانی صفائی کر رہی تھی، وہ بہت خوبصورت تھی۔ میں بہک گیا اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ میں غلط نیت سے اس کے قریب بڑھا تو وہ رونے لگی اور بولی: ‘اے بادشاہ! اللہ سے ڈرو، وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے۔’

یہ سن کر مجھ پر اللہ کا خوف طاری ہو گیا۔ میں چاہتا تو کوئی مجھے روک نہیں سکتا تھا، مگر میں نے صرف اللہ کے خوف سے دروازہ کھولا اور اسے جانے دیا۔”

یہ سن کر نوجوان مفتی مسکرایا اور سورۃ النازعات کی آیات 40 اور 41 کی تلاوت کی:

“وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَىٰ”

ترجمہ:

“جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روک لیا، تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔”

پھر اس نوجوان نے کہا:

“میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ جنتی ہیں، اور آپ کی طلاق بھی واقع نہیں ہوئی۔”

✨ عزیز احباب!

ہم سب جنت کے طلبگار ہیں، مگر اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جنت ہمارے سامنے ہی موجود ہوتی ہے۔ بس ایک چیز کی ضرورت ہے — خوفِ خدا۔ جب ہم اللہ کے ڈر سے گناہ چھوڑ دیتے ہیں، چاہے ہم اس پر قادر ہی کیوں نہ ہوں، تب ہی ہم جنت کے مستحق بنتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا خوف عطا فرمائے اور ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھے، آمین۔

Loading