خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر!
تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر!۔۔۔ تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد) خون، خلافت اور حقیقت: تاریخِ امت کا شعوری اور ارتقائی سفر! (قسط 9: سیاستِ شام اور اجتہادی اختلاف: سیدنا امیر معاویہؓ کا پولیٹیکل موقف اور انتظامی تقاضے) – بلال شوکت آزاد
جب وقت کی بساط پر تزویراتی مصلحتیں اور دُور رس انتظامی تقاضے مخلصانہ جذبوں کے مدمقابل آ کھڑے ہوں، تو تاریخ کا افق کسی مہیب بادل کی طرح بوجھل ہو جاتا ہے۔
بصرہ کے میدانوں میں جمل کا وہ اندوہناک اور جگر دوز المیہ جس نے امت کے دل پر ایک گہرا اور ان مٹ شگاف ڈالا تھا، ابھی پوری طرح تاریخ کی گرد تلے دبا بھی نہ تھا کہ شام کے چٹانی اور پرسکون افق پر ایک نیا، گہرا اور کہیں زیادہ منظم سیاسی و جیوپولیٹیکل بحران سراٹھانے لگا۔ یہ محض دو لشکروں کی عام سرحدی مڈبھیڑ کا پیش خیمہ نہیں تھا، اور نہ ہی یہ تخت و تاج کی منتقلی کا کوئی روایتی بازار تھا، بلکہ یہ ریاستِ مدینہ کی مرکزیت، قانون کی بالادستی، اور اصرارِ قصاص کے مابین موجود طریقِ کار کا وہ محیر العقول فکری ٹکراؤ تھا جس نے آنے والی صدیوں کے لیے مسلم اسٹیٹ کرافٹ کی حرکیات کو بدل کر رکھ دیا۔
ہم جب اس موڑ پر آ کر کھڑے ہوتے ہیں، تو ہمیں زمان و مکان کے ان تمام تعصبات، مسلکی عینکوں اور جذباتی غبار کو اپنے ذہن سے یکسر جھٹکنا ہوگا جنہوں نے چودہ سو سال سے حقائق کی مصفا سطح پر گرد جما رکھی ہے، تاکہ ہم ایک مخلص، باعمل اور تفرقہ بازی سے پاک طالبِ علم کی طرح اس فکری تسلسل کو پرکھ سکیں جس کی بنیاد اس دور کے اکابرین کے مخلصانہ اجتہاد پر کھڑی تھی۔
شام کی سرزمین پر اس وقت جو پولیٹیکل اور ایڈمنسٹریٹو ماڈل رائج تھا، وہ بصرہ، کوفہ یا خود مدینہ کے فکری ماحول سے یکسر مختلف تھا اور اس کی اپنی ایک مخصوص جغرافیائی اور تزویراتی حساسیت تھی۔
سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما، جو خلافتِ فاروقی کے جلیل القدر دور سے لے کر خلافتِ عثمانی کے بارہ سالہ طویل عہد تک اس خطے کے بلا شرکتِ غیرے گورنر چلے آ رہے تھے، انہوں نے روم کی مروجہ ریشہ دوانیوں اور رومی سلطنت کی بحری و بری یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے شام کو ایک انتہائی منظم، فولادی ڈسپلن سے لیس اور معاشی طور پر مستحکم صوبے میں تبدیل کر رکھا تھا۔
شام کی ریگولر آرمی اور وہاں کے بڑے قبائل، جن میں بنو کلب اور دیگر جنگجو عرب گروہ شامل تھے، وہ خلیفہِ وقت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نرمی اور سخاوت کے دل سے اس قدر معترف اور ان کی ذات سے جذباتی و خاندانی بنیادوں پر اتنے گہرے وابستہ تھے کہ ان کے لیے دارالخلافہ کے اندر خلیفہ کا محاصرہ اور ان کا یہ بے دردی سے خون بہایا جانا ایک ناقابلِ قبول المیہ بن چکا تھا۔
جب مدینہ سے عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا خون آلود قمیص اور ان کی مظلوم زوجہ سیدہ نائلہؓ کی کٹی ہوئی انگلیاں دمشق کی جامع مسجد میں لائی گئیں اور انہیں منبر پر لٹکایا گیا، تو پورے شام کے اندر جوشِ انتقام اور اصرارِ قصاص کی ایک ایسی تیز آندھی چلی جس نے وہاں کی پوری پولیٹیکل مشینری کو خلیفہِ وقت کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔
یہیں سے اس گہری اور فکری الجھن کا آغاز ہوتا ہے جس نے زمانۂ حال کے بہت سے اذہان کو شدید پریشانی اور الجھاؤ میں مبتلا کر رکھا ہے، اور ایک دبا ہوا مگر چبھتا ہوا سوال ہر فکری نشست کا حصہ بنتا ہے کہ اگر دونوں فریق یعنی سیدنا علی المرتضیٰ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہما حق پر تھے، اگر دونوں کا مقصد مخلصانہ تھا، تو پھر اس وقت باطل اور طاغوت کون تھا؟
کیا قانونِ فطرت یہ نہیں کہتا کہ حق و باطل ہی دو مصلح فریق ہوتے ہیں اور کبھی بھی دو متصادم دھڑے بیک وقت حق پر نہیں ہو سکتے؟
واللہ! یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں ہمارے روایتی مورخین اور جذباتی خطباء ٹھوکر کھاتے ہیں اور امت کے سامنے تاریخ کو ایک ایسی خونی جنگ کے طور پر پیش کرتے ہیں جہاں ایک طرف معاذ اللہ کامل ایمان تھا اور دوسری طرف خالص دنیا پرستی۔
حقیقتِ حال کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس انتہا پسندانہ سوچ سے بالا تر ہو کر علمِ شریعت اور طریقِ اجتہاد کے ان اصولوں کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو امامِ اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل جیسے اکابرینِ امت کا متفقہ منہج رہے ہیں۔
اسلام کی فقہی اور سیاسی اصطلاح میں یہ ٹکراؤ حق اور باطل کا نہیں تھا، بلکہ یہ “اجتہادِ صائب” اور “اجتہادی لغزش” کا وہ بے مثال اور نادر واقعہ تھا جہاں دونوں فریقین اپنے اپنے نزدیک شریعت کے دو الگ الگ اور ناگزیر اصولوں کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے تھے۔
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا پولیٹیکل موقف یہ تھا کہ ریاست کی بقا، خلافت کی رِٹ کا قائم ہونا، اور مرکزی بیعت پر تمام صوبوں کا متفق ہونا شریعت کا وہ بنیادی ستون ہے جس کے بغیر قانونِ قصاص کا نفاذ ممکن ہی نہیں ہے۔
ان کا استدلال تھا کہ جب تک شام اور دیگر دور دراز کے علاقے مدینہ کی مرکزی بیعت کے تحت نہیں آتے، جب تک حکومت کا اسٹرکچر مستحکم نہیں ہوتا، تب تک ان درخواست گزاروں اور مظاہرین کے بھیس میں چھپے ہزاروں مسلح باغیوں پر ہاتھ ڈالنا جو فوج اور ریاست کے اندر چُھپے بیٹھے ہیں، پوری اسلامی سلطنت کو داخلی خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنے کے مترادف ہوگا۔
دوسری طرف، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتظامی اور پولیٹیکل زاویہ بالکل مختلف تھا۔ ان کا موقف تھا کہ جس ریاست کا خلیفہ اپنے ہی گھر میں محفوظ نہ ہو، جہاں قاتلِ عثمان کھلے عام دندناتے پھریں اور حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہوں، وہاں کسی نئی بیعت کی اخلاقی اور قانونی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ ان کا اصرار تھا کہ بیعت سے پہلے ان قاتلوں کو گرفتار کیا جائے جو اس وقت مدینہ کے امور پر اثر انداز ہو رہے تھے، تاکہ خلافت کا رعب و دبدبہ بحال ہو سکے۔
ذرا اس فکری ہم آہنگی اور تضاد کے حسن کو پرکھیے! ایک فریق بیعت کو قصاص کے لیے ناگزیر شرط قرار دے رہا تھا، اور دوسرا فریق قصاص کو بیعت کی درستی کے لیے اولیت دے رہا تھا۔
اس پورے منظرنامے میں باطل اور طاغوت کوئی تیسرا فریق نہیں تھا، بلکہ وہ سبائی منافقین، بلوائی اور شرپسند عناصر تھے جو دونوں لشکروں کے پچھلے حصوں میں چھپے بیٹھے تھے اور جن کا واحد مقصد یہ تھا کہ کسی بھی طرح ان دونوں مخلص گروہوں کے درمیان صلح کی کوئی راہ ہموار نہ ہو سکے۔
یہ مخلصین کی وہ آزمائش تھی جہاں دونوں فریقین حق کے طلب گار تھے؛ جس نے درست فیصلے تک رسائی پائی (علی رضی اللہ عنہ) اسے دگنا اجر ملا، اور جس سے اس پیچیدہ مائنڈ سیٹ کو بھانپنے میں اجتہادی لغزش ہوئی (امیر معاویہ رضی اللہ عنہ) شریعت کے اصولوں کے مطابق وہ بھی ایک اجر کا مستحق ٹھہرا، اور یہی اہلِ سنت کا وہ متوازن چهرہ ہے جو ناصبیت اور رافضیت دونوں کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔
بحیثیت ایک باعمل، مخلص اور مسلکی عصبیتوں سے پاک مسلمان کے، میرا یہ ایک غیر متزلزل، شرعی اور اصولی مؤقف ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہما، یا ان دونوں کے پاکیزہ خاندانوں سے میری محبت اور قلبی وابستگی کسی ایک گروہ کی خوشنودی کی محتاج نہیں ہے، بلکہ یہ میرے ایمان کا لازمی حصہ ہے، اور میں ان کے مابین پیدا ہونے والے طریقِ کار کے اس اختلاف کو کسی بھی صورت مذہبی رنگ دے کر ان دونوں میں سے کسی ایک ہستی سے بھی نفرت کرنے کا تصور تک نہیں کر سکتا۔
یہ دونوں نفوسِ قدسیہ اپنی اپنی جگہ پر، اپنے اپنے مخصوص انتظامی اور شرعی تقاضوں کے تحت بالکل مخلص اور درست تھے، مگر ان کے اطراف موجود پروپیگنڈا سیل، شرپسند عناصر اور سبائی کارندے حالات کو مسلسل مینیپولیٹ کر رہے تھے۔
یہاں ہمیں ایک بہت ہی گہری نفسیاتی، عمرانیاتی اور بشریاتی حقیقت کو سمجھنا ہوگا جو آج کے جدید دور کے مسلمان کو تاریخ پرکھتے وقت ایک بہت بڑے فکری مغالطے میں مبتلا کر دیتی ہے۔
آج کا انسان جس دور میں جی رہا ہے، وہاں جدت اور مادی ترقی کے تمام پرانے بند ٹوٹ چکے ہیں؛ ہم اس وقت چاند اور مریخ پر بستیاں بسانے کی باتیں کر رہے ہیں اور ہمارے اردگرد ٹیکنالوجی کا کوئی معمولی سیلاب نہیں بلکہ ایک تلاطم خیز سونامی آیا ہوا ہے۔
المیہ یہ ہوتا ہے کہ جب ہم آج کی اس چکا چوند دنیا میں بیٹھ کر چودہ سو سال پہلے کے معاملات پر غور کرتے ہیں، تو ہمارا شعور، ہماری سوچ اور ہماری نگاہ کا زاویہ تو آج کے اس گلوبل ویلیج کے مطابق کام کر رہا ہوتا ہے، لیکن ہم جج چودہ سو سال پرانی تاریخ کو کر رہے ہوتے ہیں۔
ہم لاشعوری طور پر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ جیسے اس زمانے میں بھی خبریں منٹوں اور سیکنڈوں میں ٹویٹس، فیس بک پوسٹوں اور لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے دمشق سے کوفہ اور مدینہ پہنچ رہی تھیں، اور جیسے وہاں موبائل فون اور ٹیلی فون کے ذریعے فوری رابطے قائم تھے۔
واللہ! تاریخِ اسلام کی یہ پوری کہانی ہفتوں، مہینوں اور سالوں کے ان طویل فاصلوں کی کہانی ہے جہاں ایک خط کو پہنچنے میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے، اور جہاں غلط فہمیوں، افواہوں اور ابہام کا سایا بہت گہرا تھا۔
وہ تمام مرتدین، خارجی، ناصبی اور رافضی عناصر جو اس باہمی ٹکراؤ سے خوش تھے، وہ کسی صورت نہیں چاہتے تھے کہ عوام تک کوئی سچی اور کھری بات پہنچے۔
ذرا اپنے مروجہ حالات پر ہی غور کیجیے؛
آج سوشل میڈیا، سیٹلائٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اس حد درجہ آزادی کے باوجود، جب ریاست اور اپوزیشن کے بیانیے آمنے سامنے آتے ہیں تو عوام تک صحیح بات نہیں پہنچ پاتی اور پورا معاشرہ پولرائزیشن کا شکار ہو جاتا ہے۔
چلیں اس سیاسی منظرنامے کو بھی چھوڑیے، ابھی حالیہ دنوں میں کشمیر کے اندر جو کچھ امن و امان کی صورتحال بنی، ہمارے پاس اس کی کوئی ایک مصدقہ یا غیر مبہم خبر نہیں پہنچ سکی؛ ریاست اپنا ایک الگ مؤقف بتا رہی ہے، متاثرین اپنی ایک الگ بپتا سنا رہے ہیں، اور عام پبلک کے پاس پروپیگنڈے کی ایسی دھول اڑائی جا رہی ہے کہ سچائی کہیں گم ہو کر رہ گئی ہے۔
جب تمام تر جدید سائنسی وسائل کی موجودگی میں آج پروپیگنڈا اور مینیپولیشن اس انتہا پر پہنچ چکے ہیں کہ سچ چھپ جاتا ہے، تو ذرا تخیل کی آنکھ سے سوچیے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے، جب مواصلات کا واحد ذریعہ صرف اونٹ اور گھوڑے تھے، ان دو مخلص اشخاص کے مابین پیدا ہونے والے اس فکری اور اجتہادی اختلاف کو شرپسند عناصر نے کس قدر اچھالا ہوگا، کس طرح اسے ہوا دی گئی ہوگی اور کس بے رحمی سے اس پاس کے مفاد پرستوں نے اس انتظامی لچک کو ایک خونی جنگ کی شکل میں بدل دیا ہوگا۔ لہٰذا، ہمیں تاریخ کے فریق بننے کے بجائے ان زمینی حقائق کے پس منظر میں اپنے اسلاف کے اخلاص کی لاج رکھنی ہوگی۔
ان دونوں ہستیوں کے مابین طریقِ کار کا یہ اختلاف جتنا بھی گہرا تھا، لیکن ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے جو ایمانی احترام، عزت اور اسلامی اخوت کا رشتہ تھا، اس کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تردید ثبوت تاریخ نے اس وقت محفوظ کیا جب بیرونی رومی سلطنت نے مسلمانوں کی اس داخلی کشمکش کا فائدہ اٹھانے کی ناپاک کوشش کی۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب صفین کے معرکے کے دوران مسلمانوں کی طاقت دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی، تو رومی قیصر نے یہ سوچا کہ یہ عربوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے اور اپنے کھوئے ہوئے شام و بیت المقدس کے علاقوں کو واپس لینے کا سنہری موقع ہے۔
اس نے ایک بہت بڑا بحری اور بری لشکر تیار کیا اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک سراسر متعصبانہ اور مکارانہ خط بھیجا جس میں یہ دلفریب پیشکش کی گئی تھی کہ
“ہم دیکھ رہے ہیں کہ علی نے آپ پر تنگی کر رکھی ہے، اگر آپ چاہیں تو رومی سلطنت اپنی پوری عسکری طاقت کے ساتھ آپ کی مدد کے لیے حاضر ہے تاکہ ہم مل کر علی کا مقابلہ کریں اور آپ کو جزیرہ نما عرب کا حاکم بنا دیں۔”
ذرا اس خط کے متن اور اس میں چُھپی ہوئی سامراجی چالاکی پر غور کیجیے!
اگر معاذ اللہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں خلافت پر قبضے کی کوئی ذاتی ہوس ہوتی، اگر وہ علی رضی اللہ عنہ کے ذاتی دشمن ہوتے، تو وہ اس عالمی سپر پاور کی پیشکش کو فوراً قبول کر لیتے اور اسلام کا شیرازہ اسی وقت بکھر جاتا۔
لیکن اس خط کو پڑھتے ہی، ابو سفیان کے بیٹے کا ایمانی جلال اور صحابیت کا تشخص تڑپ اٹھا؛ انہوں نے رومی قیصر کے سفیر کے سامنے وہ تاریخی، سخت اور ایمان افروز جواب لکھا جس نے کفر کے ایوانوں کو لرزا کر رکھ دیا، فرمایا کہ:
“اے روم کے کتے! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو نے ہمارے داخلی اختلاف کا فائدہ اٹھا کر میرے بھائی علی کے خلاف لشکر کشی کا ارادہ کیا ہے۔ سن لے! اگر تو نے علی کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا یا ان کی سرحدوں کی طرف ایک قدم بھی بڑھایا، تو میرے اور میرے بھائی علی کے درمیان سب سے پہلے صلح ہوگی، اور میں امیر المومنین علی کے لشکر کے اول دستے کا سپہ سالار بن کر تمہاری سلطنت پر اس طرح حملہ آور ہوں گا کہ تمہارے دارالخلافہ قسطنطنیہ کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دوں گا اور تیرا سر کاٹ کر علی کے قدموں میں لا کر رکھ دوں گا۔”
اللہ اکبر!
یہ تھا ان ہستیوں کا باہمی رشتہ، یہ تھا ان کے خون اور ناموس کا تقدس!
کیا کوئی ایسا انسان، جس کے دل میں خلیفہِ وقت کے لیے کوئی بغض، حسد یا اقتدار کی چھینی ہوئی ہوس ہو، وہ اپنے حریف کے دفاع میں عالمی سپر پاور کو اتنی وحشت ناک اور واشگاف دھمکی دے سکتا ہے؟
ہرگز نہیں!
یہ دونوں ہستیاں دراصل ایک ہی الہامی دین کی بقا کے لیے اپنے اپنے محاذ پر کھڑی تھیں، اور ان کے درمیان تفریق پیدا کرنا، کسی ایک کی محبت میں دوسرے کی تکذیب کرنا، دراصل تاریخ کی سب سے بڑی بددیانتی ہے۔
ہمیں ان کے پیچھے اپنی آخرت خراب کرنے کے بجائے ان کے مشترکہ تشخص کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ وہ سب کے سب ہمارے ہیں، اور سارے کے سارے ہیں۔
جنگِ جمل کے بوجھل سائے اب بصرہ کے افق سے رخصت ہو رہے تھے، مگر شام کی یہ چٹانی اور فولادی مزاحمت اب خلافتِ علوی کے لیے ایک مستقل اور ناگزیر عسکری چیلنج کی شکل اختیار کر چکی تھی۔
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ سفارت کاری اور خط و کتابت کے تمام پرامن راستے شام کے گورنر کو مدینہ کی مرکزی بیعت پر آمادہ کرنے میں وقتی طور پر ناکام ہو چکے ہیں، تو خلیفہِ راشد کے طور پر ریاست کی رِٹ کو قائم رکھنا اور امت کے شیرازے کو ایک مرکز پر لانا ان کا سب سے پہلا اور شرعی فریضہ بن چکا تھا۔
انہوں نے کوفہ اور مدینہ کے مخلصین پر مشتمل ایک عظیم الشان لشکر کو منظم کیا اور شام کی طرف پیش قدمی کا حتمی فیصلہ فرمایا، جہاں تاریخِ امت کا وہ سب سے طویل، اعصاب شکن اور فیصلہ کن معرکہ برپا ہونے والا تھا جسے دنیا ‘معرکہِ صفین’ کے نام سے جانتی ہے۔
یہاں پہنچ کر تاریخ کے طالب علم کے سامنے کئی ایسے تیکھے، چبھتے ہوئے اور نازک سوالات سر اٹھاتے ہیں جن پر مصلحت کے پردے ڈالنا اب کسی صورت ممکن نہیں۔
آخر صفین کے میدان میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے خیمہ زن ہوئے، تو فریقین کے مابین جنگ کا آغاز کس طرح ہوا؟
وہ کون سی قوتیں تھیں جنہوں نے نیزوں پر قرآن اٹھا کر ثالثی (تحکیم) کا وہ ڈرامائی موڑ پیدا کیا جس نے فتح کو تعطل میں بدل دیا؟
اور اس جنگ کے دوران سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت نے کس طرح رسول اللہ ﷺ کی اس غیبی پیشین گوئی کو سچ ثابت کر دکھایا کہ “عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا”؟
ان سب حقائق، پسِ پردہ چلنے والی سبائی تزویرات، اور فریقین کے مابین ہونے والے اس عظیم الشان فکری ٹکراؤ کا ایک انتہائی گہرا، بے لاگ اور منطقی پوسٹ مارٹم ہم اس سلسلے کی اگلی قسط میں پیش کریں گے، جہاں سے امت کی تاریخ کا وہ المناک دور شروع ہوتا ہے جس نے سیاست اور شریعت کے دھاروں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
جاری ہے!
نوٹ: یہ سلسلہ وار تحریر ہے جو 20 اقساط پہ مشتمل ہوگی انشاءاللہ تعالی، ہم اس میں انشاءاللہ تاریخ کو سلسلہ وار جانچنے کی کوشش کریں گے کہ ہم سے کہاں پر چوک ہو رہی ہے اور ہم کیوں ان تاریخی واقعات کی آڑ میں فرقہ ورانہ جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں؟
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال_شوکت_آزاد
![]()

