Daily Roshni News

خیبر کی فتح اور حضرت علیؓ کو علم ملنے کا اصل واقعہ (حوالوں کے ساتھ)

خیبر کی فتح اور حضرت علیؓ کو علم ملنے کا اصل واقعہ (حوالوں کے ساتھ)

تحریر: حقیقت اور فسانہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)آج کل سوشل میڈیا پر ایک بات بہت زیادہ پھیلائی جاتی ہے کہ خیبر کا قلعہ چالیس دن تک فتح نہیں ہو سکا تھا، پھر آخرکار حضرت علیؓ کو علم دیا گیا اور اس کے بعد فتح ہوئی۔ بعض لوگ اس بات کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں جیسے پہلے سب ناکام ہو گئے تھے اور صرف ایک ہی دن میں سب کچھ بدل گیا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس واقعے کو صحیح تاریخی اور حدیثی حوالوں کے ساتھ بیان کیا جائے تاکہ سچ اور مبالغہ الگ ہو جائیں۔

یہ واقعہ کا ہے جو ہجرت کے ساتویں سال پیش آیا۔ خیبر مدینہ منورہ کے شمال میں ایک مضبوط علاقہ تھا جہاں یہودیوں کے کئی قلعے تھے۔ یہ لوگ بار بار مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور دشمنوں کی مدد کرتے تھے، اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے خیبر کی طرف لشکر لے جانے کا فیصلہ فرمایا۔

جب مسلمان خیبر پہنچے تو وہاں کئی مضبوط قلعے تھے۔ ہر قلعہ اونچی دیواروں اور مضبوط دروازوں سے محفوظ تھا۔ جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں کو سخت مقابلہ کرنا پڑا۔ ایک قلعہ فتح ہوتا تو دوسرا سامنے آ جاتا۔ اس طرح کئی دن تک لڑائی جاری رہی۔ یہ بات درست ہے کہ فتح فوراً نہیں ہوئی، لیکن معتبر روایات میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں کہ چالیس دن تک مسلسل ناکامی ہوتی رہی۔

صحیح احادیث میں آتا ہے کہ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں، اور اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔”

یہ سن کر تمام صحابہؓ کے دلوں میں شوق پیدا ہوا۔ ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ یہ اعزاز اسے ملے۔

اگلے دن نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ علی کہاں ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپ ﷺ نے انہیں بلانے کا حکم دیا۔ جب

کو لایا گیا تو ان کی آنکھ دکھ رہی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے مبارک لعاب سے ان کی آنکھ پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی، جس سے وہ فوراً ٹھیک ہو گئی۔

پھر نبی کریم ﷺ نے انہیں علم عطا کیا اور فرمایا کہ پہلے دشمن کو اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ قبول کریں تو بہتر، ورنہ مقابلہ کرنا۔

حضرت علیؓ علم لے کر قلعے کی طرف بڑھے۔ خیبر کے مشہور بہادر مرحب میدان میں آیا اور اس نے للکارا۔ وہ اپنے وقت کا طاقتور جنگجو سمجھا جاتا تھا۔ حضرت علیؓ اس کے مقابلے کیلئے آگے بڑھے۔ دونوں کے درمیان سخت جنگ ہوئی اور آخرکار اللہ نے حضرت علیؓ کو کامیابی عطا فرمائی۔ مرحب مارا گیا اور مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔

اس کے بعد قلعے کا دروازہ توڑا گیا اور اللہ کے فضل سے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ یہ بات درست ہے کہ حضرت علیؓ کے ہاتھ پر اہم فتح حاصل ہوئی، لیکن یہ کہنا کہ پہلے سب ناکام ہو چکے تھے یا چالیس دن تک کچھ نہیں ہوا، یہ بات صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اسلام میں کسی بزرگ کی فضیلت بیان کرنے کیلئے جھوٹ یا مبالغہ کی ضرورت نہیں۔ حضرت علیؓ کا مقام بہت بلند ہے اور وہ نبی کریم ﷺ کے قریبی ساتھی اور اہل بیت میں سے تھے۔ ان کی بہادری، ایمان اور وفاداری خود ایک روشن حقیقت ہے۔

ہمیں چاہئے کہ جب بھی دین یا تاریخ کا کوئی واقعہ بیان کریں تو تحقیق کے ساتھ کریں، کیونکہ ایک چھوٹا سا جھوٹ بھی پوری بات کو مشکوک بنا دیتا ہے اور سننے والے کے دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔ سچ میں برکت ہے اور سچ ہی دلوں کو مطمئن کرتا ہے۔

اللہ ہمیں سچ بولنے، سچ لکھنے اور سچ بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حوالہ

📚

📚

📚 کتب سیرت – ابن ہشام، طبری، ابن کثیر

#HaqeeqatAurFasana

#غزوہ_خیبر

#حضرت_علی

#اسلامی_تاریخ

#سچ_اور_تحقیق

Loading