Daily Roshni News

خیموں کا جلایا جانا

خیموں کا جلایا جانا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دشتِ نینوا کی تپتی ہوئی ریت پر عصرِ عاشور کی شام کسی المیے کا آخری باب لکھنے کو تیار کھڑی تھی۔ سورج مغرب کے دھندلے افق کی طرف یوں گر رہا تھا جیسے خود بھی اس ہولناک منظر کو دیکھنے کی تاب نہ لا کر اپنے چہرے کو سرخی کے خونیں کفن میں چھپا رہا ہو۔ ہوا کے گرم جھونکے فرات کے یخ بستہ پانیوں کو چھو کر مٹی کے بگولوں کی صورت میں اڑ رہے تھے، جن کی سائیں سائیں میں ایک عجیب سی وحشت اور نوحہ گری کا احساس تھا۔ یہ ۶۱ ہجری کی دسویں محرم کا وہ ہولناک لمحہ تھا جب تاریخ کے دامن پر ایک ایسا داغ لگنے جا رہا تھا جسے وقت کی تند و تیز لہریں بھی کبھی دھو نہ سکیں گی۔

کربلا کا یہ جغرافیہ، جو کوفہ کے شمال مغرب میں قریباً پچیس میل دور فرات کی ایک شاخ کے کنارے واقع تھا، اپنی سنگلاخ زمین اور ریتلے ٹیلوں کے باعث ایک مقتل کی مانند دکھائی دیتا تھا۔ جزیرہ نما عرب کے تپتے ہوئے صحراؤں سے اٹھنے والے قافلے جب عراق کی اس سرزمین کا رخ کرتے، تو انہیں عام طور پر سرسبز و شاداب وادیاں ملتیں، لیکن نینوا اور غاضریہ کا یہ درمیانی علاقہ اپنے دامن میں بے پناہ سختی اور خشکی سمیٹے ہوئے تھا۔ حجاز کے کوہستانی سلسلوں، مکہ کی پتھریلی گھاٹیوں اور مدینہ کے کھجوروں کے باغات سے نکل کر جب سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا یہ مختصر سا قافلہ یہاں پہنچا تھا، تو زمین نے خود پکار کر کہا تھا کہ یہی وہ مٹی ہے جو فاطمہ کے لال کے خون کو اپنے اندر جذب کرے گی۔ مدینہ سے مکہ، اور مکہ سے عراق تک کی یہ ہجرت محض ایک جغرافیائی سفر نہ تھا، بلکہ یہ اموی ملوکیت کے اس جابرانہ اور غاصبانہ سیاسی نظام کے خلاف ایک نظریاتی بغاوت تھی جس نے اسلامی ریاست کے سماجی تانے بانے کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا جہاں قبائلی عصبیتیں، جاہلانہ رسوم اور اقتدار کی ہوس دوبارہ سر اٹھا رہی تھیں۔

جب دشتِ کربلا میں آلِ محمد کے انصار و مددگار، جوانانِ بنی ہاشم اور خود نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پاکیزہ خون کا آخری قطرہ زمین کے حوالے کر چکے، تو خیمہ گاہِ حسینی پر ایک ایسی خاموشی چھا گئی جو طوفان کی آمد کا پیش خیمہ تھی۔ ان خیموں میں، جو مٹیالے رنگ کے موٹے کپڑوں اور اونٹ کی اون سے تیار کیے گئے تھے، اب صرف بیوائیں، یتیم بچے اور ایک شدید علیل جوان، سید سجاد، باقی رہ گئے تھے۔ یہ خیمے صرف کپڑے کے ٹکڑے نہیں تھے، بلکہ یہ چادرِ تطہیر کے محافظوں کا مسکن تھے، جہاں سے رات بھر تلاوتِ قرآن اور مناجات کی الٰہی صبغت ابھرتی رہی تھی۔ ان خیموں کا ایک ایک طناب، ایک ایک چوب، شرافت، حیا اور عفت کی علامت تھی۔

اچانک دشت کی ویرانی کو ابنِ زیاد کے لشکر کے گھوڑوں کے ٹاپوں نے ہلا کر رکھ دیا۔ عمر بن سعد کے حکم پر، جس کی آنکھوں پر رے کی حکومت کا لالچ پٹی بن کر بندھا ہوا تھا، کوفی اور شامی فوجیوں کے غول کے غول خیموں کی طرف بڑھے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے، ننگی تلواریں اور دہکتے ہوئے شعلے تھے۔ قبائلی عصبیت اور بغض و عناد سے مغلوب یہ وحشی انسان، جن میں بنو امیہ، بنو اسد اور دیگر قبائل کے بدقماش شامل تھے، انسانیت کے تمام درجوں سے گر چکے تھے۔ ہوا میں جلتی ہوئی لکڑیوں اور گندھک کی بو پھیلنے لگی۔ شمر بن ذی الجوشن اور خولی بن یزید اصبحی جیسے سفاک کرداروں کی سرکردگی میں اس بھیڑیوں کے ہجوم نے مخدراتِ عصمت کے ان خیموں کا گھیراؤ کر لیا۔

شمر نے کینہ پرور آواز میں چلایا کہ ان خیموں کو آگ لگا دو اور ان کے اندر موجود ہر چیز کو راکھ کا ڈھیر بنا دو۔ حکم ملتے ہی جلتے ہوئے تیر اور مشعلیں خیموں کی چھتوں پر پھینکی جانے لگیں۔ کپڑے نے تیزی سے آگ پکڑ لی، اور دیکھتے ہی دیکھتے بھڑکتے ہوئے شعلے آسمان کی طرف بلند ہونے لگے۔ وہ خیمے جو اب تک پناہ گاہ بنے ہوئے تھے، اب جہنم کے انگاروں کی طرح دہکنے لگے۔ دھویں کے کالے بادلوں نے غروب ہوتے سورج کی بچی کچھی روشنی کو بھی نگل لیا۔ خیموں کے اندر موجود معصوم بچوں اور پردہ نشین خواتین میں ایک کہرام مچ گیا۔ وہ بچے جو تین دن کی پیاس سے نڈھال تھے، جن کے حلق سوکھ کر کانٹا ہو چکے تھے، اب آگ کے ان مہیب شعلوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے۔

بی بی زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا، جو اس لٹے ہوئے کارواں کی سالار اور علی و فاطمہ کی جرأت کی وارث تھیں، نے جب آگ کی لپٹوں کو اپنے بیمار بھتیجے امام زین العابدین علیہ السلام کے خیمے کی طرف بڑھتے دیکھا، تو ان کا دل دہل گیا۔ انہوں نے اپنے بھائی حسین کی وصیتوں کو یاد کیا، اپنی چادر کو سنبھالا اور اس جلتی ہوئی قیامت کے درمیان کھڑی ہو گئیں۔ معصوم بچے، جن کے دامنوں میں آگ لگ چکی تھی، خوف سے چیختے ہوئے دشت کی طرف بھاگ رہے تھے۔ امام حسین کی کمسن بیٹی، بی بی سکینہ، اپنے چچا عباس کو پکار رہی تھیں جن کے کٹے ہوئے بازو فرات کے کنارے ریت پر تڑپ رہے تھے۔ کوئی بچہ اپنی ماں کی گود تلاش کر رہا تھا تو کوئی آگ کے خوف سے ریت پر گر کر بے ہوش ہو رہا تھا، اور ظالم کوفی ان بچوں کے کانوں سے گوشوارے نوچ رہے تھے، ان کی چادریں چھین رہے تھے۔

منظر کی ہولناکی کا اندازہ کیجیے کہ ایک طرف تپتی ہوئی ریت، دوسری طرف فرات کے پانیوں پر قابض یزیدی فوج کا پہرہ، اور درمیان میں آلِ رسول کے خیمے شعلوں کی نذر ہو رہے تھے۔ وہ خواتین جنہوں نے کبھی سورج کی روشنی کو بھی اپنے سائے پر پڑنے نہیں دیا تھا، آج اس کھلے آسمان تلے، جلتے ہوئے خیموں کے دھوئیں میں گھری کھڑی تھیں۔ جب آگ نے سیدِ سجاد کے خیمے کو اپنی لپیٹ میں لیا، تو بی بی زینب نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اس دہکتی ہوئی آگ میں قدم رکھا اور اپنے علیل بھتیجے کو، جو شدتِ مرض سے اٹھنے کے قابل بھی نہ تھے، خیمے سے باہر نکالا۔ زمین و آسمان نے وہ منظر بھی دیکھا جب نواسہ رسول کا آشیانہ خاکستر ہو رہا تھا اور ہوا کے تیز جھونکے اس مقدس راکھ کو کربلا کے ذروں پر بکھیر رہے تھے۔

اس لولی لنگڑی رات کے سائے جیسے جیسے گہرے ہو رہے تھے، خیموں کی جگہ صرف راکھ کے ڈھیر اور سلگتے ہوئے کوئلے باقی رہ گئے تھے۔ شامِ غریباں کا آغاز ہو چکا تھا، ایک ایسی شام جس کی تلخی اور تاریکی تاریخ نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ کوفہ کے سیاسی اقتدار کے نشے میں چور اموی لشکر اب مالِ غنیمت لوٹ کر اپنے خیموں میں جشن منا رہا تھا، جبکہ رسول زادیاں جلتے ہوئے خیموں کی راکھ پر، کھلے آسمان تلے، اپنے شہیدوں کے بے گور و کفن لاشوں کی طرف منہ کر کے رو رہی تھیں۔ فرات کا پانی اب بھی بہہ رہا تھا، لیکن فاطمہ کے لال کے تشنہ لب بچوں کے لیے اب وہاں کوئی خیمہ تھا، نہ کوئی چادر، اور نہ ہی کوئی محافظ۔ یہ خیموں کا جلایا جانا صرف ایک مادی نقصان نہ تھا، بلکہ یہ اس جاہلی معاشرے کی اخلاقی موت کا اعلان تھا جس نے اپنے ہی نبی کے خاندان کو بے گھر اور بے در کر کے ان کے آشیانوں کو پھونک دیا تھا۔

Loading