درود فارسی لفظ ہے
انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ درود فارسی لفظ ہے ۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)”درود” فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی دعا دینا، سلامتی بھیجنا، اپنے سے بڑے کے لیے بہترین الفاظ منتخب کرنا درود کہلاتا ہے۔
عرف عام میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی بھیجنے کو ” درود شریف ” کا نام دیا جاتا ہے، جبکہ قران مجید میں اس کے لیے لفظ صلوٰۃ یعنی “یصلون” استعمال ہوا ہے، عربی زبان میں مواصلات، اتصالات، تواصلات، صلوٰۃ، یصلون کا ماخذ root word ایک ہی ہے جسے ” وصل” کہتے ہیں اور اس کے معنی رابطہ connection کرنا، جڑنا، ملاقات کرنا، بات چیت، آپس میں میلاپ کرنا ہے،
قران مجید میں سورہ احزاب کی مشہور ومعروف آیت نمبر 56 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہے:
“إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا”
” بیشک اللہ اور ملائکہ نبی سے بات چیت کرتے رہتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان سے اس طرح بات چیت کرو کہ وہ تمھارے سلام کو تسلیم کریں “
اس آیت میں تفکر کرنے سے چھ حصوں کا انکشاف ہوتا ہے
1۔ اللہ تعالٰی
2۔ ملائکہ یا فرشتے
3۔ یصلون یا بات چیت
4۔ نبی۔ جسے غیب بین کہا جاتا ہے
5۔ ایمان والے تکوینی لوگ
6۔ آپس میں سلام و جواب کرنا
اس آیت مبارکہ کا روحانی تجزیہ اور تفکر یہ انکشاف کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی کی صفات کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے نزول کرتی ہیں، جب یہ صفات اللہ تعالٰی کی ذات سے الگ ہوتی ہیں تو ان صفات کے خدوخال اور نقش ونگار ملائکہ کا روپ اختیار کرلیتے ہیں، جب ملائکہ یا صفات نزول کرتی ہیں تو وہ غیب سے واقف ہستی ” نبی ” سے رابطے میں آجاتی ہیں، کیونکہ کائنات کے تکوینی نظام میں نبی غیب وشہود کے ریکارڈ کو آگے تکوینی عہدے داروں یعنی اللہ کی صفات کے حامل بندے ایمان یافتہ لوگوں میں بھیج دیتا ہے، اللہ کی ان صفات کے اندر کائناتی طرزوں کا تمام ریکارڈ موجود ہوتا ہے، ایمان والوں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ نبی سے اس طرح رابطہ کریں کہ وہ آپ کی ہر بات کا جواب دیں، اللہ تعالٰی کی صفات کو دین اسلام ہیں، صفات کا تبادلہ صفات ہی ہوتی ہیں یعنی سلام کا جواب سلام ہی ہوتا ہے اور جواب کو تسلیم ہوتا ہے ۔ “وسلمو تسلیما ” کا مطلب سلام وتسلیم جس میں اللہ کی صفات زیر بحث آتی ہیں۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطے کے لیے اس آیت مبارکہ کے اندر ” مراقبہ ” کے علاوہ کسی دوسرے ذریعہ یا طریقہ نہیں، ایمان والے سالکین اپنے باطن کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑنے یا ملانے کی کوشش کرتے ہیں جس کو باطنی یا خفی حرکت کہتے ہیں جو اصطلاح میں درود شریف، صلوٰۃ، مراقبہ، ارتکاز توجہ یا یکسوئی سے منسوب کیا جاتا ہے۔
احادیث مبارکہ میں صرف ایک ہی صلوٰۃ ابراہیمی(درود ابراہیمی ) کا تذکرہ موجود ہے اور تمام مفسرین، مترجمین، محدثین، امامین اور بزرگان دین اسی کو نماز اور عبادات میں ٹکرار کرتے ہیں، احادیث مبارکہ میں صرف درود ابراہیمی یا صلوٰۃ ابراہیمی کے علاوہ کسی اور کا ذکر نہیں ملتا، باقی جتنے بھی درود شریف ہیں وہ روحانی علوم کی حامل ہستیوں نے وضع کیے ہیں جن میں چند مشہور درود شریف کے نام درج ذیل ہیں
1۔ درود تاج
2۔ درود تنجینا
3۔ درود شفاء
4۔ درود لکھی
5۔ درود ماہی
6۔ درود خضری
7۔ درود علی
8۔ درود غوثیہ
9۔ درود رضویہ
10۔ درود فاطمی
11۔ درود حسینی
اس کے علاوہ بھی بہت سے درود شریف پڑھے جاتے ہیں تمام درود شریف میں الفاظ، الھم صلی علٰی، صلوٰۃ، یصلون، صلی اللہ، لازمی ہوتے ہیں، اس کا روٹ ورڈ ” وصل” ہی ہے جس کے معنی ملاقات، رابطہ، جڑنا، بات کرنا، آنا جانا، وغیرہ کے ہیں مذکورہ بالا آیت میں اسی رابطے communications کے حصول کا حکم دیا گیا ہے۔
سلسلہ عظیمیہ کے سالکین کیلئے روحانی مدارج میں بلندی حصول کےلئے” درود خضری ” کا دورد کرایا جاتا ہے، درود خضری علم لدنی کی حامل ہستی حضرت خضر علیہ السلام سے منسوب ہے اور حضرت خضر علیہ السلام تکوینی نظام کے عہدے پر فائز ہیں، اہل تکوین اولیاء اللہ کی طرز فکر میں اللہ تعالٰی کی صفات کا مجموعہ ” محمد ” راسخ ہوتا ہے ، اس لئے سلسلہ عظیمیہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تکوینی نظام میں داخل ہونے کے لیے درود خضری ” صلوٰۃ خضری ” کا ورد کرایا جاتا ہے جو عجیب و غریب تاثیر کا حامل ہے
جس کے الفاظ یہ ہیں
“صلی اللہ تعالٰی اعلیٰ حبیبہ محمد و سلم”
تکوینی نظام میں اسکے ورد کے حیرت انگیز خواص و فوائد ہیں، عظیمی سالک مراقبہ کی حالت میں اس کے الفاظ کے پس پردہ اتر کر حقیقت محمدی کو پانے کی کوشش کرتا ہے، دوران ذکر یا مراقبہ اس کا ذہن اس بات کو سامنے رکھ کر ارتکاز توجہ کرتا ہے
” اے بلندیوں کے حامل اللہ مجھے اپنے حبیب محمد کو سلامتی سے ملا دے”
اللہ تعالٰی کی صفات کے مجموعے کو ” محمد ” کہا جاتا ہے۔
میں نے کئی پوسٹس میں اس بات کو واضح کیا تھا قرآن مجید میں ” آل محمد ” لفظ کسی جگہ نہیں آیا بلکہ مندرجہ ذیل آل کی تفصیل سامنے آتی ہے
1۔ آل ابراہیم
2۔ آل یعقوب
3۔ آل موسیٰ
4۔ آل ہارون
5۔ آل داؤد
6۔ آل لوط
7۔ آل عمران
8۔ آل فرعون
الہامی قانون اور روحانی علوم میں جتنے بھی انبیاء و مرسلین اور انکے وارثین اولیاء اللہ ہیں ان سب کو آل محمد ” کہا جاتا ہے وہ لوگ جو ” حقیقت محمدیہ ” یعنی اللہ کی صفات کا عرفان رکھتے ہیں وہی” آل محمد” کہلاتےہیں، صلوٰۃ ابراہیمی پڑھتے ہوئے نماز کے اندر یہی دعا مانگی جاتی ہے کہ ” اے اللہ ہمارا رابطہ اپنی صفات “محمد” اور ان صفات کے حامل” آل محمد ” سے جوڑ دے، روحانی علوم میں جب کوئی بندہ اللہ کی صفات کا پرچار کرتا ہے تو وہ ” آل محمد سے آل ابراہیم میں داخل ہوجاتا ہے ” اس لئیے روحانی سالکین کو آل محمد اور آل ابراہیم سے رابطے میں رہنے کا حکم ہے۔
سلسلہ عظیمیہ میں ورد کرایا جانے والا درود خضری سالک کے اوپر نزولی کیفیات مرتب کرتا ہے، کیونکہ اوپر بیان کردہ درود خضری میں صرف تین حالتیں ہیں
1۔ اللہ
2۔ محمد
3۔ آپ خود یا ورد کرنے والا
یعنی اللہ کی صفات محمد آپ پر وارد ہورہی ہیں جس میں نہ تو ان کی کوئی آل شامل ہے اور نہ ہی ان کی صحبت یافتہ ہستیاں، لیکن اگر آپ ان الفاظ میں” والہ واصحابہ” شامل کر لیتے ہیں تو یہی حرکت صعود میں بدل جائے گی یعنی پہلے صحابہ آئیں گے، آل آئے گی پھر محمد کے بعد آللہ کی ذات میں اتریں گے، جبکہ سلسلہ عظیمیہ کے تمام اسباق نزولی حرکت ہر قائم ہیں کیونکہ نزولی حرکت مکمل ہونے کے بعد صعودی حرکت بھی مکمل کرتی ہے، شریعت اور شعوری عبادات صعودی حرکت ہیں، یعنی شعور سے لاشعور میں داخل ہونا، صعودی حرکت میں سالک کے لئے سفر طویل اور صبر آزما ہوتا ہے، نزولی حرکت میں لاشعور کو شعور میں منتقل کرکے شریعت پر فائز ہونا ہے، لا شعوری یعنی نزولی حرکت میں روحانی کیفیات و واردات اور صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے، نزولی حرکت اور تکوینی علوم میں اصل درود خضری انہی الفاظ پر مشتمل ہے
“صلی اللہ تعالٰی علٰی حبیبہ محمد و سلم “
![]()

