Daily Roshni News

دعائیں رائیگاں نہیں جاتیں۔۔۔ تحریر۔۔۔جاوید چوہدری۔۔۔قسط نمبر2

دعائیں رائیگاں نہیں جاتیں

تحریر۔۔۔جاوید چوہدری

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو ز انٹرنیشنل ۔۔۔ دعائیں رائیگاں نہیں جاتیں۔۔۔ تحریر۔۔۔جاوید چوہدری) خوش حالی کی دعا کرنے والے لوگوں کے بچے یا پوتے ضرور سیٹھ بن جاتے ہیں، وزیر، وزیر اعظم،صدر یا آرمی چیف بننے والے لوگوں کے نیک والدین عمر بھر ان عہدوں کی دعا کرتے رہے تھے، کارخانوں، زمینوں، کمپنیوں، کوٹھیوں، کاروں اور جہازوں کی دعا کرنے والے لوگ جب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو ان کے بچے یا پوتے ان ساری نعمتوں کے مالک تھے ، یہ کیا ہے ؟ یہ وہ ساری دعائیں ہیں جو لوگ کرتے رہے، اللہ نے سن لیں اور ان کا شمر ان کی اولاد کے کھاتے میں لکھ دیا چنانچہ بزرگ کہتے ہیں، آپ جب بھی اللہ سے اپنے لیے کچھ مانگیں، آپ اس میں اپنی اولاد کو ضرور شامل کریں کیونکہ ہماری 80 فیصد دعاؤں کا نتیجہ ہماری اولاد میں ظاہر ہوتا ہے

ساتھ مل کر راگ بن گئی’ وہ بولے ”اللہ کی نظر میں دعائیں تین قسم کی ہوتی ہیں’ دعاؤں کی پہلی قسم وہ ہوتی ہے جس میں اللہ کو نظام قدرت میں کوئی تبدیلی نہیں کرنی پڑتی’ میں بیمار ہوں’ اللہ شفاء دیدے’ میں بھوکا اور پیاسا ہوں’ اللہ تعالیٰ میرے لیے پانی اور کھانے کا بندوبست کر دے’ میرا کوئی پیارا بچھڑ گیا’ اللہ اسے مجھ سے ملا دے’ لوگ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مجھے حاسدوں سے محفوظ کر دے’ میں ترقی کرنا چاہتا ہوں’ اللہ تعالیٰ میری پروموشن کے راستے کی رکاوٹیں ہٹا دے اور لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں’ یہ مجھ سے مال و دولت’ گھر بار اور جائیداد چھیننا چاہتے ہیں’ اللہ مجھے بچا لے’ یہ وہ تمام دعائیں ہیں جنھیں قبول کرتے وقت اللہ تعالیٰ کو نظام کائنات میں کوئی تبدیلی نہیں کرنی پڑتی’ ہم ساڑھے چار ہزار بیماریاں لے کر پیدا ہوتے ہیں’ ان تمام بیماریوں کا علاج ہمارے اندر موجود ہے’ اللہ تعالیٰ ہماری دعا سنتا ہے’ شفاء کے جراثیم ایکٹو ہوتے ہیں اور یہ بیماری کے جراثیم کو نگل جاتے ہیں’ اللہ تعالیٰ ہماری دعا سن کر ہمارے حاسدوں’ ہمارے دشمنوں اور ہمارے باسز کے دل میں ہمارے لیے رحم کا جذبہ بھی پیدا کر دیتا ہے اور یوں ہم دنیاوی نقصان سے بھی بچ جاتے ہیں” وہ رکے’ اوپر دیکھا اور بادل کی طرف اشارہ کر کے بولے ”یہ بادل نظام کائنات کا حصہ ہے’ اللہ تعالیٰ نے اسے چند میل ادھر کھسکا دیا’ ہمارا کام بھی ہو گیا اور اللہ کو نظام کائنات میں بھی کوئی ترمیم’ کوئی تبدیلی نہیں کرنی پڑی لیکن میں اگر اللہ تعالیٰ سے کہوں یا باری تعالیٰ آپ دنیا سے بادل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں یا دنیا کے سارے کوے مر جائیں تو اللہ تعالیٰ شاید یہ دعا قبول نہ کرے۔

خواہ میں کتنا ہی رو لوں’ کتنا ہی گڑگڑا لوں یا میری جگہ کوئی ولی یا کوئی پیغمبر ہی کیوں نہ ہو’ کیوں؟ کیونکہ اس کے لیے کائنات کا وہ سارا نظام تبدیل کرنا پڑے گا جس سے اربوں جانداروں کی زندگی منسلک ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کے لیے یہ سسٹم تبدیل نہیں کرتا” وہ رکے اور دوبارہ بولے ”دعاؤں کی دوسری قسم مالی اور سماجی عروج سے متعلق ہوتی ہے’ ہم میں سے بعض نادار اور غریب لوگ سیٹھ’ نواب یا زمیندار بننے کی دعا کرتے ہیں’ ہم میں کچھ لوگ بادشاہ’ وزیر’ وزیر اعظم یا صدر بننے کی دعا کرتے ہیں’ یہ لوگ پوری زندگی یہ دعا کرتے رہتے ہیں لیکن یہ سیٹھ’ نواب’ زمیندار’ صدر’ وزیر اعظم’ وزیر اور بادشاہ نہیں بنتے”۔ وہ رکے اور بولے ” کیا ان کی دعائیں رائیگاں چلی گئیں” میں نے عرض کیا ”شاید”۔ وہ بولے ” نہیں’ اس نوعیت کی دعائیں کرنے والے لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں’ ایک’ وہ جو دعا میں سیریس نہیں ہوتے’ جو اس خلوص کے ساتھ دعا نہیں کرتے جس سے ان کی آنکھیں برسات بن جائیں اور سانسیں ہچکیاں اور دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی دعا کے ایک ایک حرف کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں’ جن کے آنسو اور سسکیاں پہلے نکلتی ہیں اور حرف بعد میں’ پہلے لوگوں کی دعائیں عموماً ضایع ہو جاتی ہیں’ کیوں؟ کیونکہ یہ اس طرح نہیں مانگتے جس طرح بچہ ماں سے مانگتا ہے جب کہ دوسرے لوگوں کی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں لیکن ان دعاؤں کا اثر ان کی زندگی میں نہیں’ ان کے بچوں اور پوتوں کی حیات میں نظر آتا ہے۔

آپ کبھی تحقیق کر کے دیکھ لیں’ خوش حالی کی دعا کرنے والے لوگوں کے بچے یا پوتے ضرور سیٹھ بن جاتے ہیں’ وزیر’ وزیر اعظم’ صدر یا آرمی چیف بننے والے لوگوں کے نیک والدین عمر بھر ان عہدوں کی دعا کرتے رہے تھے’ کارخانوں’ زمینوں’ کمپنیوں’ کوٹھیوں’ کاروں اور جہازوں کی دعا کرنے والے لوگ جب دنیا سے رخصت ہونے لگے تو ان کے بچے یا پوتے ان ساری نعمتوں کے مالک تھے’ یہ کیا ہے؟ یہ وہ ساری دعائیں ہیں جو لوگ کرتے رہے’ اللہ نے سن لیں اور ان کا ثمر ان کی اولاد کے کھاتے میں لکھ دیا چنانچہ بزرگ کہتے ہیں’ آپ جب بھی اللہ سے اپنے لیے کچھ مانگیں’ آپ اس میں اپنی اولاد کو ضرور شامل کریں کیونکہ ہماری 80 فیصد دعاؤں کا نتیجہ ہماری اولاد میں ظاہر ہوتا ہے”۔

وہ رکے اور پھر بولے ” ہماری تیسری قسم کی دعائیں عزت’ شہرت اور نیک نامی سے متعلق ہوتی ہیں’ آپ جب بھی رو کر یہ دعا کریں گے’ اللہ تعالیٰ یہ بھی قبول کر لے گا لیکن ان کا نتیجہ بھی دوسری یا تیسری نسل میں ظاہر ہوتا ہے’ آپ دنیا کے تمام نامور’ مشہور اور معروف لوگوں کا پروفائل نکال لو’ آپ کو اس کا والد یا والدہ یا دادا’ دادی یا پھر نانا’ نانی پرہیز گار اور متقی ملیں گے’ آپ تحقیق کرنا’ آپ کو یہ جانتے دیر نہیں لگے گی’ ان کے بزرگ اللہ سے نیک نامی’ شہرت اور عزت کی دعا کرتے تھے اور یہ وہ دعا تھی جس نے بعد ازاں نیوٹن کو نیوٹن’ شیکسپیئر کو شیکسپیئر’ آئن سٹائن کو آئن سٹائن اور مدر ٹریسا کو مدر ٹریسا بنایا” وہ رکے اور پھر ہنس کر بولے ” دعا کبھی ضایع نہیں ہوتی’ یہ ضرور قبول ہوتی ہے لیکن مانگنے والے پر لازم ہوتا ہے یہ بچہ بن کر مانگے’ یہ اس طرح مانگے جس طرح تین چار سال کا بچہ اپنی ماں سے مانگتا ہے’ آپ نے اگر اللہ تعالیٰ میں موجود ستر ماؤں کا جذبہ جگا لیا تو پھر دنیا کی کوئی طاقت’ کوئی رکاوٹ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو نہیں روک سکے گی” وہ رکے تو بارش شروع ہو گئی’ ہم اٹھے’ ہم نے اپنی دری جھاڑی’ تہہ کی اور جنگل سے باہر آ گئے’ ہم گاڑی تک پہنچتے پہنچتے بری طرح بھیگ چکے تھے’ اللہ تعالیٰ کی رحمت تاحد نظر برس رہی تھی۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ  اکتوبر 2016

Loading